فرانس میں احتجاجی مظاہرے بدستور جاری

فرانس کی حکومت مظاہرین کے مطالبات کسی حد تک تسلیم بھی کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود مظاہرے ختم نہیں ہو رہے۔

فرانس کی حکومت مظاہرین کے مطالبات کسی حد تک تسلیم بھی کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود مظاہرے ختم نہیں ہو رہے۔ فوٹو: فائل

یورپ میں اپنی تہذیب و ثقافت پر سب سے زیادہ ناز کرنے والے ملک فرانس میں حکومتی پالیسیوں کے خلاف گزشتہ13مہینے سے مسلسل احتجاج جاری ہے اور احتجاج کرنے والوں نے پیلے رنگ کی واسکٹیں پہنی ہوئی ہیں اس لیے اسے ''ییلو ویسٹ موومنٹ'' کا نام دیا گیا ہے۔

احتجاج کرنے والوں کے ساتھ پولیس کی جھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہیں اور اس تازہ جھڑپ میں مظاہرین میں سے ایک شخص کا ایک ہاتھ بھی ضایع ہو گیا ہے۔ اس احتجاج کا آغاز نومبر کے مہینے میں ہوا تھا جب احتجاجی مظاہرے میں بہت بھاری تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ احتجاجی مظاہرین فرانسیسی صدر ''ایمانویل میکرون'' کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ پیرس میں احتجاج کا بڑا مقام قومی اسمبلی کی بلڈنگ کے باہر ہے۔

گزشتہ روز کیمپس ایلی سیز سے اسمبلی کی عمارت تک آنے والی ریلی کی پولیس سے جھڑپ ہو گئی۔ بتایا گیا ہے کہ پرامن مظاہرین میں بعض لوگوں نے چہرے پر نقاب ڈالے ہوئے تھے جنہوں نے پولیس کی لگائی ہوئی رکاوٹوں کو عبور کرنے کی کوشش کی جس پر پولیس کو لاٹھی چارج اور اشک آور گیس استعمال کرنا پڑی۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس استعمال کی اور لاٹھی چارج کیا۔


مارچ کرنے والوں نے سینٹ مائیکل کے بلیوارڈ کا رخ کر لیا اور کاروں کی توڑ پھوڑ کی، بس اسٹینڈ بھی تباہ کر دیے جب کہ راستے میں آنے والی دکانوں کے شیشے بھی توڑ ڈالے۔ طبی امداد فراہم کرنے والوں کا کہنا تھا کہ ایک شخص کا ہاتھ پولیس کے ساتھ ٹکراؤ کے نتیجے میں کٹ گیا۔ ایک اور عینی شاہد کا کہنا ہے کہ پولیس نے مظاہرین پر فلیش بال گرینیڈ پھینکا تھا۔

خبررساں ادارے کے مطابق مضروب نے پیلی واسکٹ پہن رکھی تھی اور وہ پولیس کی رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ بہرحال فرانس میں ہونے والے مظاہرے ختم نہیں ہو رہے ہیں بلکہ زیادہ منظم ہو رہے ہیں' فرانس ماضی میں بھی انقلابی تحریکوں کا مرکز رہا ہے' اب جو مظاہرے ہو رہے ہیں' اس کی بنیاد اقتصادیات ہے' فرانس میں اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس پر عوام سڑکوں پر آئے ہیں' فرانس یورپ کا ترقی یافتہ ملک ہے' اس میں جلاؤ گھیراؤ سب کے لیے حیرانی کا باعث ہے۔

فرانس کی حکومت مظاہرین کے مطالبات کسی حد تک تسلیم بھی کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود مظاہرے ختم نہیں ہو رہے۔ حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر کساد بازاری نے جنم لیا ہے۔ اس کے اثرات دنیا کے ترقی یافتہ ترین ملکوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں' امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی بھی دراصل کساد بازاری کا ہی نتیجہ تھا کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے صنعتوں کی بحالی' روز گار کی فراہمی اور غیرممالک سے امریکی سرمایہ کاری کو واپس لانے کا نعرہ لگایا تھا۔
Load Next Story