معاشی چیلنجز اور حکومتی کارکردگی

داخلی سطح پر حکومتی اداروں کی بڑھتی ہوئی مداخلت کے باعث کاروباری طبقہ عدم تحفظ کا شکار ہوا ہے۔

داخلی سطح پر حکومتی اداروں کی بڑھتی ہوئی مداخلت کے باعث کاروباری طبقہ عدم تحفظ کا شکار ہوا ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

موجودہ حکومت کو درپیش ملکی مسائل میں سے معاشی بحران اور اقتصادی صورت حال کو بہتری کی جانب رواں کرنا ایک بڑے چیلنج کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اگرچہ یہ معاشی بحران تحریک انصاف کو ملنے والے سابق حکومتوں کی کارکردگی اور پالیسیوں کے تسلسل ہی کا ایک حصہ ہے مگر اس حقیقت سے بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ موجودہ حکومت کے ابتدائی چند ماہ ہی میں یہ معاشی بحران فزوں تر ہوا ہے۔

پچھلی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کی جا رہی ہے لیکن سوال وہی ہے کہ حالیہ چھ ماہ میں ملکی معیشت پر جمود کیوں طاری ہوا۔ معاشی اشاریے مسلسل گراوٹ کا شکار نظر آتے ہیں۔ کاروباری سرگرمیاں مسلسل کم ہو رہی ہیں۔ اس صورت حال سے معاشی بحران کی شدت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے چشم کشا حقائق اس پریشان کن صورت حال پر مہر تصدیق ثبت کر رہے ہیں۔

ایک خبر کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ حکومت کے مقامی قرضوں اور واجبات کا حجم بڑھ کر17 ہزار537 ارب روپے ہوگیا ہے۔ رواں مالی سال میں جولائی سے ستمبر کے دوران مقامی قرضوں اور واجبات میں1 ہزار121 ارب کا اضافہ ہوا۔ حکومت کے مقامی قرض اور واجبات یومیہ 6 ارب روپے بڑھے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق حکومت کے قرض اور واجبات 30 جون 2018ء تک 16 ہزار 416 ارب روپے تھے۔ دسمبر 2017 ء تک قرض اور واجبات کا حجم 15ہزار 437 ارب روپے تھا۔ ایک سال میں حکومت کے قرضوں اور واجبات میں21 سو ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

حکومت کو اپنی اس چھ ماہ کی کارکردگی میں کچھ نہ کچھ عارضی اور جزوی معاشی کامیابیاں حاصل کرنے اور عوام کو ٹریکل ڈاؤن ثمرات دینے کی نوید فرحت انگیز سنانا چاہیے تھی مگر تمام تر دعوؤں اور اقتصادی صورت حال میں حیران کن تبدیلی کے حوالے سے کوئی مثبت پیش رفت نہ ہو سکی۔

گزشتہ دنوں گورنر اسٹیٹ بینک نے نئے مالی سال کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی بدستور بلندی کا جاں فرسا عندیہ دیا تھا' انھوں نے جو پریشان کن اشاریے پیش کیے اس کے مطابق بلند کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ موجودہ مالی سال کے دوران 13سے 14ارب ڈالر رہے گا تاہم گزشتہ 12ماہ سے اس خسارے میں کمی ہو رہی ہے' مالی سال 2018-19ء کی پہلی ششماہی میں مہنگائی 6.0فیصد پر ہے جو گزشتہ برس کی اسی مدت کے 3.8فیصد کے مقابلے میں زیادہ ہے' جی ڈی پی کی نمو کم ہو کر تقریباً 4.0فیصد پر رہے گی جو سالانہ ہدف 6.2فیصد اور گزشتہ برس ہونے والی 5.8فیصد نمو کے مقابلے میں کم ہے۔

حکومت اب تک مہنگائی اور غربت کے خاتمے کی تمام تر کوششوں میں ناکام رہی ہے، ابھی تک حکومتی معاشی پالیسیوں میں عدم استحکام اور بے سمتی بہتری اور ریلیف کے کسی امکان کو ظاہر نہیں کر سکی۔ اگرچہ حکومت معاشی بحران کو ٹالنے اور اقتصادی استحکام لانے کے لیے دوست ممالک سے قرضوں کے حصول کے لیے تگ و دو کر رہی ہے۔


ایسی اطلاعات بھی منظرعام پر آئیں کہ چین نے پاکستان کے گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے مزید 2ارب 50کروڑ ارب ڈالر قرضے دینے پر اتفاق کیا' یہ قرضہ ملنے کے بعد چین سے پاکستان کو ایک سال میں ملنے والی امداد ساڑھے چار ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ اب تک چین پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالنے والا سب سے بڑا ملک بن کر سامنے آیا ہے۔ سعودی عرب نے بھی چھ ارب ڈالر کا پیکیج دیا جس میں 3.18فیصد شرح سود پر 3ارب کا مختصر دورانیے کا قرضہ شامل تھا۔

متحدہ عرب امارات نے بھی3فیصد شرح سود پر3ارب ڈالر دینے پر اتفاق کیا تھا جس میں سے ایک ارب ڈالر پاکستان کو مل چکے ہیں۔ حکومت اب آئی ایم ایف سے قرضوں کے حصول کے لیے کوشاں ہے' لیکن آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات بروقت طے نہیں پا سکے' اگر یہ معاملات طے پا جاتے تو شاید معاشی بحران کی شدت میں کمی آ جاتی اور کاروباری سرگرمیاں بحال ہوجاتیں۔ اب بھی اگر فریقین کے دمیان معاملات طے پا جاتے ہیں تو اس کے معیشت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے' معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر بڑھنے کے بھی امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

حکومت معاشی پالیسیوں کو سہارا دینے کے لیے تین بجٹ پیش کر چکی ہے مگر اس سے عام آدمی کی زندگی میں ابھی تک بہتری کے کوئی آثار پیدا نہیں ہوئے بلکہ مہنگائی' غربت اور بیروز گاری کا گراف بلند ہوا ہے۔ داخلی سطح پر معاشی استحکام لانے کے لیے نہ تو ٹیکسوں کا نظام مضبوط ہو سکا' نہ صنعتی اور زرعی شعبہ اس قابل ہو سکا کہ حکومت کی آمدن میں خاطر خواہ اضافے کا موجب بن سکے۔

معاشی خود انحصاری کے دعوے حقیقی صورت حال سامنے آنے کے بعد ہوا ہو چکے ہیں اور حکومت معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اب تک غیرملکی قرضوں پر انحصار کیے ہوئے ہے لیکن یہ سوال اپنی جگہ بدستور موجود ہے کہ کیا بڑھتے ہوئے قرضے معاشی آسودگی اور اقتصادی انقلاب لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ان تمام تر مشکلات کے باوجود امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے' پاکستان کی معیشت میں ابھی اتنا دم خم موجود ہے کہ وہ بحالی کے مرحلے میں داخل ہو جائے' لیکن اس کے لیے حکومت کو داخلی سطح پر بھی سرمایہ کار دوست اقدامات کرنا ہوں گے اور عالمی سطح پر بھی ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جس سے عالمی مالیاتی اداروں کا اعتمادبحال ہو سکے۔

داخلی سطح پر حکومتی اداروں کی بڑھتی ہوئی مداخلت کے باعث کاروباری طبقہ عدم تحفظ کا شکار ہوا ہے۔ موجودہ حکومت نے اس معاملے کو حل کرنے کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔ اگر حکومت اس معاملے میں کاروبار دوست اقدامات کرتی اور سرکاری اداروں کے اہلکاروں کے ہاتھوں میں موجود آمرانہ اور مبہم قسم کے اختیارات پر قدغن لگانے کی کوشش کرتی تو داخلی سطح پر کاروباری سرگرمیاں بحال ہو سکتی تھیں لیکن ایسا نہیں کیا گیا'اسی دوران آئی ایم ایف سے بھی معاملات طے نہیں ہو سکے۔ اس ساری صورت حال نے مل کر معاشی بحران کو زیادہ سنگین کر دیا ہے۔

اب بھی حکومت کے پاس وقت ہے کہ وہ اندرون ملک ادارہ جاتی سطح پر ایسے ااقدامات کرے جس سے کاروباری طبقے کا اعتماد بحال ہو ' کاروباری طبقے کا اعتماد بحال ہو گا تو معاشی سرگرمیاں خود بخود ہی شروع ہو جائیں گی۔یہ بات طے ہے کہ جب تک قوانین کو آسان نہیں بنایا جاتا اس وقت تک کاروباری طبقے کا اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔ جتنی زیادہ سختی کی جائے گی 'سرمایہ کاری اتنا ہی سکڑتی چلی جائے گی اور اس کے اثرات معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

 
Load Next Story