ایف بی آر کا ٹیکس واپس لینے سے انکار ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال کی دھمکی دیدی
مذاکرات ناکام،انکم ٹیکس میں600فیصداضافہ واپس لینے کامطالبہ رد،مسئلے کامناسب حل ڈھونڈنے کیلیے ایف بی آرنے وقت مانگ لیا۔
چیئرمین ایف بی آرنے کرایوں میں اضافے کی تجویزدی،ہم نے مستردکردی، بھاری ٹیکس نہیں دیں گے،عوام احتجاج میں ساتھ دیں،ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن فوٹو: فائل
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان انکم ٹیکس میں کمی کے لیے ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں اور ایف بی آر نے رواں مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ٹرانسپورٹ سیکٹر پر عائد کردہ ٹیکس واپس لینے سے انکار کردیا ہے۔
دوسری طرف ٹرانسپورٹرز نے ایف بی آر کو انکم ٹیکس ادا نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ہڑتال کی دھمکی دے دی۔ اس ضمن میں ایف بی آرذرائع نے بتایا کہ ٹرانسپورٹروں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ایف بی آر کی ٹیم کی قیادت چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ اور ڈاکٹر محمد اقبال نے کی جبکہ ٹرانسپورٹرز کے وفد کی قیادت سپریم کونسل آف آل پاکستان ٹرانسپورٹرز اور آل پاکستان آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن کی طرف سے کیپٹن (ر) آصف محمود نے کی ، وفد کے شرکا میں اسلم خان نیازی، ملک محمد ریاض، اعظم خان نیازی، حاجی ملک اختر اعوان، حنیف خان مروت، بشیر احمد حلیمی، نور احمد کاکڑ، حاجی عبد الرؤف خان نیازی، اختر سید خان، ملک محمد حنیف، سردارمحمد سعید اور دیگر عہدیدار شامل تھے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران ٹرانسپورٹرز کی طرف سے مطالبہ کیا گیا کہ بجٹ میں ٹرانسپورٹ سیکٹر پر عائد کردہ بھاری انکم ٹیکس واپس لیا جائے کیونکہ موجودہ کاروباری حالات میں ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے یہ بھاری ٹیکس ادا کرنا ممکن نہیں ہے اس لیے بجٹ میں اعلان کردہ ٹیکس واپس لیا جائے جسے ایف بی آر نے فوری طور پر تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ تمام شعبوں کو ٹیکسوں کی ادائیگی کے قومی فریضے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے البتہ مسئلے کا کوئی مناسب حل تلاش کرنے کے لیے ٹرانسپورٹرز کو یقین دہانی کرائی ہے کہ انہیں وقت دیا جائے تاکہ وہ معاملے کا تفصیلی جائزہ لے کر اور متعلقہ ٹیم ممبران سے مشاورت کے بعد کوئی قابل عمل حل تلاش کرسکیں ۔
جبکہ دوسری طرف ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کی طرف سے چیئرمین ایف بی آر اور انکی ٹیم کے ساتھ ہونے والے مزاکرات کے بارے میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات میں چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ نے ٹرنسپورٹروں کو کرایوں میں اضافے کرنے کی تجویز پیش کی اور کہا کہ وہ کرایوں میں اضافہ کردیں جسے تسلیم نہیں کیا گیا اور ٹرنسپورٹرز نے ٹیکس ادا نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کی طرف سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار کی خصوصی ہدایات پر ایف بی آرہاؤس اسلام آباد میں ٹرانسپورٹروں اور حکومتی نمائندوں کے مابین مذاکرات کا آغاز ہو جس میں چیئرمین ایف بی آرطارق باجوہ، چیف انکم ٹیکس پالیسز ڈاکٹرمحمد اقبال، ممبر انکم ٹیکس پالیسی شاہد حسین اسد نے شرکت کی۔
مذاکرات میں ٹرانسپورٹروں نے موقف اختیار کیا کہ شعبہ ٹرانسپورٹ پر انکم ٹیکس کی مدمیں 600 فیصد اضافہ سراسر نا انصافی، ظلم اور خلاف قانون ہے، اس اضافے کی دنیا کا کوئی قانون اجازت نہیں دیتا لیکن ہم محب وطن پاکستانی ہیں، اس لیے ہم ملک کے دور دراز علاقوں سے آج یہاں آئے ہیں کیونکہ ٹرانسپورٹرز موجودہ صورتحال میں یہ بھاری ٹیکس ادا کرنے کے پوزیشن میں نہیں، ایف بی آر والوں نے آمدنی سے زیادہ ٹیکس شعبہ ٹرانسپورٹر پر لگا دیا ہے اس پر نظر ثانی کی جائے، حکومتی وفد نے ٹرانسپورٹروں کو انکی مرضی کے مطابق بسوں،کوچوں، ٹرک، ٹرالرز اور آئل ٹینکرز کے کرایوں میں اضافے کرنے کی تجویز پیش کی جو ٹرانسپورٹروں نے عوام کے بہتر مفاد میں مسترد کر دی اور حکومتی وفد سے ٹیکس میں کمی کرنے کی درخواست کی۔
ٹرانسپورٹروں کا کہنا تھا کہ عوام مہنگائی کا مزید بوجھ برداشت نہیں کر سکتے اس لیے حکومت کو ٹیکس میں کمی عوام کے مفاد میں کرنی چاہیے کیونکہ حکومت نے جون 2012میں انکم ٹیکس میں اضافہ کیا لیکن اس پر آج تک عملدرآمد نہ کراسکی جس کی وجہ سے اس قانون کی حیثیت ختم ہو چکی ہے ، ٹرانسپورٹرز نے بھی دعویٰ کیا کہ چیئرمین ایف بی آر نے اس اہم مسئلے کو حل کرنے کیلیے ٹرانسپورٹرز سے مزید وقت مانگا ہے۔ حکومتی وفد اور ٹرانسپورٹرز آئندہ مذکرات پر رضامند ہوئے، ٹرانسپورٹروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ہم عوام کے بہتر مفاد میں کرایوں میں اضافہ نہیں چاہتے، عوام ہماری مجبوری کو دیکھتے ہوئے ہمارے احتجاج اور ہڑتال میں بھرپور ساتھ دیں۔
دوسری طرف ٹرانسپورٹرز نے ایف بی آر کو انکم ٹیکس ادا نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ہڑتال کی دھمکی دے دی۔ اس ضمن میں ایف بی آرذرائع نے بتایا کہ ٹرانسپورٹروں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ایف بی آر کی ٹیم کی قیادت چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ اور ڈاکٹر محمد اقبال نے کی جبکہ ٹرانسپورٹرز کے وفد کی قیادت سپریم کونسل آف آل پاکستان ٹرانسپورٹرز اور آل پاکستان آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن کی طرف سے کیپٹن (ر) آصف محمود نے کی ، وفد کے شرکا میں اسلم خان نیازی، ملک محمد ریاض، اعظم خان نیازی، حاجی ملک اختر اعوان، حنیف خان مروت، بشیر احمد حلیمی، نور احمد کاکڑ، حاجی عبد الرؤف خان نیازی، اختر سید خان، ملک محمد حنیف، سردارمحمد سعید اور دیگر عہدیدار شامل تھے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران ٹرانسپورٹرز کی طرف سے مطالبہ کیا گیا کہ بجٹ میں ٹرانسپورٹ سیکٹر پر عائد کردہ بھاری انکم ٹیکس واپس لیا جائے کیونکہ موجودہ کاروباری حالات میں ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے یہ بھاری ٹیکس ادا کرنا ممکن نہیں ہے اس لیے بجٹ میں اعلان کردہ ٹیکس واپس لیا جائے جسے ایف بی آر نے فوری طور پر تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ تمام شعبوں کو ٹیکسوں کی ادائیگی کے قومی فریضے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے البتہ مسئلے کا کوئی مناسب حل تلاش کرنے کے لیے ٹرانسپورٹرز کو یقین دہانی کرائی ہے کہ انہیں وقت دیا جائے تاکہ وہ معاملے کا تفصیلی جائزہ لے کر اور متعلقہ ٹیم ممبران سے مشاورت کے بعد کوئی قابل عمل حل تلاش کرسکیں ۔
جبکہ دوسری طرف ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کی طرف سے چیئرمین ایف بی آر اور انکی ٹیم کے ساتھ ہونے والے مزاکرات کے بارے میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات میں چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ نے ٹرنسپورٹروں کو کرایوں میں اضافے کرنے کی تجویز پیش کی اور کہا کہ وہ کرایوں میں اضافہ کردیں جسے تسلیم نہیں کیا گیا اور ٹرنسپورٹرز نے ٹیکس ادا نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کی طرف سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار کی خصوصی ہدایات پر ایف بی آرہاؤس اسلام آباد میں ٹرانسپورٹروں اور حکومتی نمائندوں کے مابین مذاکرات کا آغاز ہو جس میں چیئرمین ایف بی آرطارق باجوہ، چیف انکم ٹیکس پالیسز ڈاکٹرمحمد اقبال، ممبر انکم ٹیکس پالیسی شاہد حسین اسد نے شرکت کی۔
مذاکرات میں ٹرانسپورٹروں نے موقف اختیار کیا کہ شعبہ ٹرانسپورٹ پر انکم ٹیکس کی مدمیں 600 فیصد اضافہ سراسر نا انصافی، ظلم اور خلاف قانون ہے، اس اضافے کی دنیا کا کوئی قانون اجازت نہیں دیتا لیکن ہم محب وطن پاکستانی ہیں، اس لیے ہم ملک کے دور دراز علاقوں سے آج یہاں آئے ہیں کیونکہ ٹرانسپورٹرز موجودہ صورتحال میں یہ بھاری ٹیکس ادا کرنے کے پوزیشن میں نہیں، ایف بی آر والوں نے آمدنی سے زیادہ ٹیکس شعبہ ٹرانسپورٹر پر لگا دیا ہے اس پر نظر ثانی کی جائے، حکومتی وفد نے ٹرانسپورٹروں کو انکی مرضی کے مطابق بسوں،کوچوں، ٹرک، ٹرالرز اور آئل ٹینکرز کے کرایوں میں اضافے کرنے کی تجویز پیش کی جو ٹرانسپورٹروں نے عوام کے بہتر مفاد میں مسترد کر دی اور حکومتی وفد سے ٹیکس میں کمی کرنے کی درخواست کی۔
ٹرانسپورٹروں کا کہنا تھا کہ عوام مہنگائی کا مزید بوجھ برداشت نہیں کر سکتے اس لیے حکومت کو ٹیکس میں کمی عوام کے مفاد میں کرنی چاہیے کیونکہ حکومت نے جون 2012میں انکم ٹیکس میں اضافہ کیا لیکن اس پر آج تک عملدرآمد نہ کراسکی جس کی وجہ سے اس قانون کی حیثیت ختم ہو چکی ہے ، ٹرانسپورٹرز نے بھی دعویٰ کیا کہ چیئرمین ایف بی آر نے اس اہم مسئلے کو حل کرنے کیلیے ٹرانسپورٹرز سے مزید وقت مانگا ہے۔ حکومتی وفد اور ٹرانسپورٹرز آئندہ مذکرات پر رضامند ہوئے، ٹرانسپورٹروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ہم عوام کے بہتر مفاد میں کرایوں میں اضافہ نہیں چاہتے، عوام ہماری مجبوری کو دیکھتے ہوئے ہمارے احتجاج اور ہڑتال میں بھرپور ساتھ دیں۔