کراچی چیمبر کو روپے کی قدر میں مسلسل کمی پر تشویش

کرنسی کی بے قدری پالیسی سازوں کی نا اہلی اور معیشت کیلیے تباہ کن ہے، ہارون اگر

روپے کو مستحکم کرنے کے لیے حکومت سے ٹھوس حکمت عملی وضع کرنے کا مطالبہ۔ فوٹو: فائل

کراچی چیمبر آف کامر س اینڈانڈسٹری کے صدر محمد ہارون اگر نے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مسلسل کمی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس امر کو معیشت کے لیے تباہ کن قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی اور ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافہ پالیسی سازوں کی نا اہلی کی وجہ سے ہے، روپے کی قدر میں پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے جو سرمایہ کاروں کے لیے متاثر کن نہیں، انٹر بینک ایکسچینج ریٹس کی شرح میں اضافے کی وجہ سے بیرونی ملک پاکستانی اپنی رقوم پاکستان بھیجنے کے لیے دیگر ذرائع استعمال کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک ایشیا میں کم ترین قدر رکھنے والی کرنسی کا متحمل نہیں ہو سکتا جو مختلف خساروں، ریزروز میں کمی، فلائٹ آف کیپٹل اور کیپیٹل ان فلو میں کمی اور معاشی اصلاحات نہ ہونے کے سبب ہے، ایسا لگتا ہے کہ پالیسی سازوں کے پاس کوئی قابل عمل پلان موجود نہیں جس کے سبب پاکستانی کرنسی مستحکم ہو سکے، کرنسی کی قدر میں اسی طرح کمی ہوتی رہی تو بزنس کمیونٹی دیگر ممالک میں کاروباری مواقع تلاش کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔




گزشتہ 5 سال میں پاکستانی روپے کی ڈالر کے مقابلے میں 50 فیصد قدر میں کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سے معاشی ترقی جمود کا شکار ہے، اس نے اکانومی کے تمام شعبوں زراعت، صنعتیں، مینوفیکچرنگ، امپورٹس وغیرہ کو متاثر کیا ہے لہٰذا روپے کی قدر میں مزید کمی روکنے کے لیے حکومتی اقدامات توجہ طلب ہیں تاکہ معیشت پر اس کے منفی اثر نہ ہوں، روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے کاروبار چلانے کی لاگت میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ صنعتی اور مینوفیکچرنگ سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں کیونکہ ڈالر کی قدر میں اضافہ کی وجہ سے خام مال اور مشینری مہنگے داموں امپورٹ ہو رہی ہے، اگرچہ کمزور روپے کا فائدہ ایکسپورٹ کو ہو سکتا ہے کیونکہ انہیں ڈالر کے مقابلے میں زیادہ روپے حاصل ہوسکتے ہیں مگر موجودہ صورتحال میں مینوفیکچرنگ کے لیے ہونے والی مہنگی امپورٹس اور بڑھتی ہوئی لاگت کے سبب ہمیں یہ فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔

معیشت کے تمام سیکٹرز کو منفی نمو کا سامنہ ہے، روپے کی قیمت میں مزید کمی سے معیشت مزید چیلنجز کا شکار ہو جائے گی جس میں ٹیکس ریونیومیں کمی اور غیر ملکی قرضوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، موجودہ وقت میں ایکسپورٹ میں اضافہ نہیں ہوسکتا اور اس کے برعکس مہنگائی اور امپورٹ بل میں اضافہ ہوگا کیونکہ یہ ایکسچینج ریٹس سے منسلک ہیں اور پاکستان کا زیادہ انحصار امپورٹس پر ہے ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستانی روپے کو مستحکم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس حکمت عملی وضع کی جائے تاکہ معیشت مستحکم ہو سکے۔
Load Next Story