جنوبی پنجاب کی سخاوتیں

اس بار ملتانیوں میں ایک اضافہ سندھیوں کے سندھڑی آموں کا بھی ہوا اور زرداری صاحب نے بھرپور انداز میں یاد کیا۔

Abdulqhasan@hotmail.com

جنوبی پنجاب والوں یعنی ملتانیوں کو اپنا الگ صوبہ ملے یا نہ ملے ہم تک ان کے صوبے کی برکات ابھی سے مسلسل پہنچ رہی ہیں اور بڑے ہی لطیف ذائقے کے ساتھ۔ ملتانی اپنی میٹھی زبان کی طرح اپنی زمینوں میں میٹھی فصل بھی اگاتے ہیں یعنی آم کاشت کرتے ہیں اور ان کی مٹھاس میں ایک جہاں کی تلخیاں پی جاتے ہیں۔ جنوبی پنجاب والوں یعنی آموں کے باغوں کے مالکوں کو صوبہ تو کیا ملنا تھا لیکن میری یہ فکر دور ہو گئی ہے کہ وہ اپنی اس صوبائی محرومی سے کہیں ہمیں بھی اپنے آموں سے محروم نہ کر دیں اور پھلوں کا بادشاہ ہم تک اپنی اصل صورت اور ذائقے کے ساتھ نہ پہنچ پائے اور ہمیں بازاروں کی ریڑھیوں کا محتاج ہونا پڑے۔ لیکن ملتانیوں نے اپنی یہ شیریں روایت قائم رکھی اور ان کی طرف سے آموں کی پیٹیاں ہم تک مسلسل پہنچتی رہیں اور ان میں ناغہ نہیں آیا۔ ہمارے دستر خوان ان کی خوشبو سے مہکتے رہے۔

اس بار ملتانیوں میں ایک اضافہ سندھیوں کے سندھڑی آموں کا بھی ہوا اور زرداری صاحب نے بھرپور انداز میں یاد کیا۔ اپنے سیاسی اقتدار کی حفاظت وہ ہم سے کہیں زیادہ جانتے ہیں لیکن اپنے باغوں کی حفاظت وہ ہماری خاطر کرتے رہیں۔ زرداری صاحب کی اس اولیں یاد فرمائی کا ذکر میں پہلے بھی کر چکا ہوں، اس میں تھوڑی سی شرارت بھی تھی جس کی وضاحت ضروری نہیں لیکن ملتان کے مستقل کرمفرمائوں کا ذکر تو لازم ہے کوئی یہ نہ کہے کہ نئی چاہتوں میں پرانی دوستیاں بھول گئیں۔ ادھر درختوں سے آم اترنے شروع ہوئے کہ جنوبی پنجاب کے صوبے سے محروم کرمفرمائوں نے آموں کی پیٹیوں پر مکتوب الیہ کے نام لکھنے شروع کر دیے۔

وسیع و عریض جنوبی پنجاب کے کس کس شہر کا ذکر کروں، ان شہروں میں ایک شہر میرا بھی ہے اور وہ یوں کہ مرحوم نواب صاحب بہاولپور کی فوج کے ساتھی میرے ایک ماموں ملک مظفر خان کو نواب صاحب نے اپنی ریاست میں تمام پابندیوں سے استثنیٰ دے کر جتنی چاہیں زمین خریدنے کی اجازت دی، وہ وہاں آباد ہو گئے ۔کہاں وادی سون کے خنک سبز پوش پہاڑ اور کہاں ریاست بہاول پور کے گرم ریگستان لیکن بارانی زمینوں سے تنگ آئے ہوئے آبپاش زمینوں پر جا بسے۔پہلے ان ریگستانوں کو سیراب کیا، پھر ان کو آباد کیا اور کوئی ڈیڑھ سو مربع زمین اپنے وارثوں کے لیے چھوڑ گئے جس میں سے کچھ مربعے میری والدہ کے بھی تھے۔ یوں میرا بھی زیریں پنجاب سے ایک مستقل تعلق ہے جسے جنوبی پنجاب کہا جاتا ہے۔ میرے ماموں زاد بھائیوں نے وہاں سے الیکشن بھی کامیابی کے ساتھ لڑے، اعلیٰ ملازمتوں پر بھی فائز ہوئے اور اب تو وہ وادی سون میں غمی خوشی کے موقع پر ہی جاتے ہیں ورنہ لاہور اور چشتیاں کے علاقے میں ہی رہتے ہیں۔

بات جنوبی پنجاب کے تحفوں سے شروع ہوئی، اس عمر میں شاید یادیں ڈھیروں جمع ہو جاتی ہیں اور کالموں میں بھی در آتی ہیں ورنہ کالم کے قارئین کو کیا غرض کہ میں کہاں سے کتنا تعلق رکھتا ہوں۔ عرض یہ تھی آموں کے موسم میں پھلوں کا یہ بادشاہ ہمارے ہاں بھی اترتا رہتا ہے اور ہمارے جیسے آموں کے پرستاروں کو خلعتیں عطا کرتا رہتا ہے جو ابھی پرانی نہیں ہوتیں کہ ان کی جگہ لینے کو نئی آ جاتی ہیں۔ یہ سلسلہ یونہی چلتا ہے اور بالعموم آخری شاہی نزول اجلال عزیز دوست جہانگیر خان کی معیت میں ہوتا ہے۔ جہانگیر خان اتنے زیادہ آم بھیجتے ہیں کہ اہل محلہ بھی شکر گزار ہوتے ہیں۔ یوں جنوبی پنجاب میں صوبہ بنے یا نہ بنے اور وہاں کے مخدوم اور پیر اس نئے صوبے کی حکمرانی کریں یا نہ کریں، ہماری خوش خوراکی جاری رہتی ہے، اس میں کسی صوبے کے بننے نہ بننے کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ ایک درویش اپنے گدھے پر سوار سردیوں کی راتوں میں کسی ٹھکانے کی تلاش میں تھا کہ ایک جگہ روشنی نظر آئی، وہ اس مکان پر پہنچا اور دستک دی تو اندر سے گھبرایا ہوا ایک دہقان یعنی کسان باہر نکلا ،اس نے درویش کو گھر میں جگہ دی اور کہا کہ میری بیوی زچگی کے درد میں ہے، دعا کریں۔ اس پر درویش نے اسے ایک دلچسپ تعویز لکھ کر دیا۔


مرا جا شد خرم را نیز جا شد

زن دہقان زاید یا نہ زاید

کہ مجھے اور میرے گدھے کو رات گزارنے کی جگہ مل جائے ہماری بلا سے کہ دہقان کی بیوی کا بچہ ہو نہ ہو۔ درویش نے دہقان سے کہا کہ یہ تعویز اپنی بیوی کے بستر پر رکھ دو۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد بچے کی رونے کی آواز آئی اور دہقان درویش کے قدموں پر گر گیا چنانچہ جنوبی پنجاب کا صوبہ بنے یا نہ بنے ہمیں وہاں سے آم موصول ہوتے رہیں اور ہم اپنی سواری سمیت خوش رہیں۔ اگرچہ جنوبی پنجاب کے ایک سردار مرحوم اے ایم کے مزاری کا کہنا تھا کہ صوبہ بے شک بن جائے لیکن اس صوبے کے احمق شہریوں کو اندازہ نہیں کہ ہم لوگ جب لاہور کے دبائو سے آزاد ہوں گے تو ان کا کیا حشر کریں گے، اس وقت تو ہم لاہوری اس مجوزہ صوبے کے باشندوں کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے ہمیشہ کی طرح ہمارا یہ سیزن فراخدلی کے ساتھ گزار دیا، خدا انھیں خیریت سے رکھے، کسی صوبے کی آرزو میں کیونکہ انسان کو زندہ رہنے کے لیے ایسی خود فریبیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
Load Next Story