با اثر شخص نے ہاری کا واٹر کورس بند کر دیا فصلیں تباہ
20 لاکھ روپے بھتہ طلب اور جان سے مارنے کی دھمکیاںدی جا رہی ہیں،علی حسن و دیگر
20 لاکھ روپے بھتہ طلب اور جان سے مارنے کی دھمکیاںدی جا رہی ہیں،علی حسن و دیگر فوٹو: فائل
HUNZA:
مختلف مسائل کا شکار افراد نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے جمعرات کے روز بھی حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے کیے۔گوٹھ مرزو خان کھوسہ کپری تعلقہ مورو ضلع نوشہروفیروز کے رہائشیوں نے واٹر کورس کی بندش اور بھتہ خوری کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔
اس موقع پر علی حسن، قربان علی و دیگر نے بتایا کہ ان کی 40 ایکڑ زرعی زمین ہے جس کا واٹرکورس علاقے کے با اثر شخص موجن زرداری نے بند کردیا ہے جس کے باعث اس کی 50 لاکھ روپے مالیت کی فصل خراب ہو رہی ہیں جب کہ وہ بندش ختم کرنے کے لیے 20 لاکھ روپے بھتہ طلب کر رہا ہے اور نہ دینے کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکیاںدی جا رہی ہیں۔
انھوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ واٹر کورس اور بھتہ طلب کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے موجن زرداری کے خلاف کارروائی کی جائے۔ بابن شاہ کالونی کے رہائشی اﷲ بچایو نے اپنے والد کی بازیابی کے لیے مظاہرہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے والد معمول کے مطابق عید کے دوسرے روز گھر سے سودا لینے گئے تھے لیکن دو روز گزر جانے کے باوجود واپس نہیں آئے اور ان کے بارے میں کسی بھی قسم کی کوئی معلومات نہیں مل رہیں۔ انھوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ والدکی بازیابی میں مددکی جائے۔
مختلف مسائل کا شکار افراد نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے جمعرات کے روز بھی حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے کیے۔گوٹھ مرزو خان کھوسہ کپری تعلقہ مورو ضلع نوشہروفیروز کے رہائشیوں نے واٹر کورس کی بندش اور بھتہ خوری کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔
اس موقع پر علی حسن، قربان علی و دیگر نے بتایا کہ ان کی 40 ایکڑ زرعی زمین ہے جس کا واٹرکورس علاقے کے با اثر شخص موجن زرداری نے بند کردیا ہے جس کے باعث اس کی 50 لاکھ روپے مالیت کی فصل خراب ہو رہی ہیں جب کہ وہ بندش ختم کرنے کے لیے 20 لاکھ روپے بھتہ طلب کر رہا ہے اور نہ دینے کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکیاںدی جا رہی ہیں۔
انھوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ واٹر کورس اور بھتہ طلب کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے موجن زرداری کے خلاف کارروائی کی جائے۔ بابن شاہ کالونی کے رہائشی اﷲ بچایو نے اپنے والد کی بازیابی کے لیے مظاہرہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے والد معمول کے مطابق عید کے دوسرے روز گھر سے سودا لینے گئے تھے لیکن دو روز گزر جانے کے باوجود واپس نہیں آئے اور ان کے بارے میں کسی بھی قسم کی کوئی معلومات نہیں مل رہیں۔ انھوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ والدکی بازیابی میں مددکی جائے۔