طالبان امریکا مذاکرات ٹرمپ کی پاکستانی کردار کی توصیف

امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے سب سے زیادہ خطرات موجودہ افغان حکومت کو لاحق ہیں۔

امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے سب سے زیادہ خطرات موجودہ افغان حکومت کو لاحق ہیں۔ فوٹو : فائل

افغانستان میں امن و استحکام کے قیام اور 17سال سے جاری جنگ کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا اونٹ ابھی کسی کروٹ نہیں بیٹھا مگر اس سے جو مثبت اشارے ملے ہیں وہ کافی حوصلہ افزا' خوش کن اور افغانستان میں جلد ہی نئی آنے والی تبدیلی کا سنگ میل ہیں جس کے نہ صرف کابل بلکہ پورے خطے پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔

امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے سب سے زیادہ خطرات موجودہ افغان حکومت کو لاحق ہیں۔ نہ صرف صدر اشرف غنی بلکہ آزاد خیال اور امریکا کے حمایتی گروپوں کو خطرہ ہے کہ اگر طالبان برسراقتدار آ گئے یا اتحادی حکومت کا حصہ بننے کی صورت میں بھی وہ اتنے طاقتور اور فیصلہ کن قوت کے حامل ہوں گے کہ ان کے سامنے ان کے مخالفین انتہائی کمزور پوزیشن پر چلے جائیں گے اور حکومت میں فیصلہ سازی کے اختیارات کا اصل منبع طالبان ہی ہوں گے۔

اشرف غنی حکومت اسی بیان کا اعادہ کر رہی ہے کہ طالبان افغانستان کے مستقبل کے بارے میں اس کے ساتھ مذاکرات کریں مگر طالبان بار بار یہ واضح کر رہے ہیں کہ وہ بہرصورت کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادہ نہیں۔


افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک خصوصی انٹرویو میں اسی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اشرف غنی حکومت کے ساتھ بات چیت کا مطلب ہو گا کہ طالبان نے اس جھوٹی حکومت کو تسلیم کر لیا ہے' انھوں نے مستقبل میں افغانستان کے نئے سیاسی نظام اور حکومت کے خدوخال واضح کرتے ہوئے کہا کہ اس میں طالبان کا کردار اہم ہو گا' ان کے مقاصد میں غیرملکی قبضے کا خاتمہ' اسلامی حکومت کا نفاذ' امن و امان کا قیام' افغانستان کی تعمیر نو اور انتظامی امور کی فراہمی شامل ہیں۔

پاکستان کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار انھوں نے ان الفاظ میں کیا کہ اگر طالبان اقتدار میں آگئے تو پاکستان سے باہمی مفاد پر مبنی جامع تعلقات ہوں گے' وہ افغان پناہ گزینوں کے لیے ایک اہم مرکز رہا ہے یہی وجہ ہے کہ افغان شہری اسے اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں لیکن انھوں نے ایک معنی خیز جملہ بھی کہا کہ امریکا سے مذاکرات پر آمادہ کرنے میں کسی ملک نے کردار ادا نہیں کیا۔

ادھر دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ امریکا نے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا اور صدر ٹرمپ نے بھی سہولت کاری کا کردار ادا کرنے پر اس کی تعریف کی تاہم انھوں نے واضح کیا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بغیر کابل میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ ان حالات کے تناظر میں یہ امید کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں پاک افغان تعلقات زیادہ بہتر اور مضبوط ہوں گے۔

 
Load Next Story