خیبرپختونخوااسمبلی الیکٹورل ووٹوں کی تعداد 65 کے بجائے58 رہ گئی
تحریک انصاف کے جسٹس(ر)وجہیہ الدین کوپی ٹی آئی اوراس کے اتحادی 77ارکان کے 40.52الیکٹورل ووٹ ملنے کاامکان ہے
تحریک انصاف کے جسٹس(ر)وجہیہ الدین کوپی ٹی آئی اوراس کے اتحادی 77ارکان کے 40.52الیکٹورل ووٹ ملنے کاامکان ہے. فوٹو اے پی پی
پیپلزپارٹی اورعوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے صدارتی الیکشن کے بائیکاٹ کے بعد خیبرپختونخوااسمبلی میںصدر ارتی الیکشن کے لیے الیکٹورل ووٹوںکی تعداد 65سے کم ہوکر 58رہ گئی اورمجموعی طورپر 112اراکین اسمبلی صدارتی الیکشن کیلیے اپناحق رائے دہی استعمال کریںگے۔
خیبرپختونخوااسمبلی میںجہاں صدارتی الیکشن کے لیے 124 اراکین اسمبلی کے الیکٹورل ووٹ بلوچستان اسمبلی کی مطابقت سے 65ہی شمارکیے جاتے ہیں، 4نشستیں خالی ہونے کی وجہ سے ارکان کی تعدادپہلے ہی سے 120ہے جس کے باعث صدارتی الیکشن میں الیکٹورل ووٹ65 کی بجائے 63پڑنے تھے تاہم اب اے این پی اور پیپلزپارٹی کے صدارتی الیکشن کے بائیکاٹ کی وجہ سے مزید 8ارکان کے ووٹ نہیں پڑیںگے اور 112اراکین اسمبلی اپناحق رائے دہی استعمال کریںگے جس کے باعث الیکٹورل ووٹ بھی کم ہوکر 58.94رہ جائیںگے۔
صدارتی الیکشن کے حوالے سے خیبرپختونخوااسمبلی میں اب جن 2امیدواروں کو ووٹ پڑنے ہیں ان میں تحریک انصاف کے جسٹس(ر)وجہیہ الدین کوپی ٹی آئی اوراس کے اتحادی 77ارکان کے 40.52الیکٹورل ووٹ ملنے کاامکان ہے جبکہ مسلم لیگ(ن)کے امیدوار ممنون حسین کومسلم لیگ(ن)اور اگرجے یوآئی (ف)کے ارکان انھیںاپنے ووٹ دیتے ہیں تواس صورت میں 33ارکان کے 17.36الیکٹورل ووٹ مل پائیںگے۔ تاہم اگرجے یوآئی(ف) کی جانب سے بھی انھیںووٹ نہ دیے گئے تواس صورت میںلیگی امیدوارممنون حسین کوصرف اپنی ہی پارٹی کے 17ارکان کے 8.94الیکٹورل ووٹ ملیں گے۔
خیبرپختونخوااسمبلی میںجہاں صدارتی الیکشن کے لیے 124 اراکین اسمبلی کے الیکٹورل ووٹ بلوچستان اسمبلی کی مطابقت سے 65ہی شمارکیے جاتے ہیں، 4نشستیں خالی ہونے کی وجہ سے ارکان کی تعدادپہلے ہی سے 120ہے جس کے باعث صدارتی الیکشن میں الیکٹورل ووٹ65 کی بجائے 63پڑنے تھے تاہم اب اے این پی اور پیپلزپارٹی کے صدارتی الیکشن کے بائیکاٹ کی وجہ سے مزید 8ارکان کے ووٹ نہیں پڑیںگے اور 112اراکین اسمبلی اپناحق رائے دہی استعمال کریںگے جس کے باعث الیکٹورل ووٹ بھی کم ہوکر 58.94رہ جائیںگے۔
صدارتی الیکشن کے حوالے سے خیبرپختونخوااسمبلی میں اب جن 2امیدواروں کو ووٹ پڑنے ہیں ان میں تحریک انصاف کے جسٹس(ر)وجہیہ الدین کوپی ٹی آئی اوراس کے اتحادی 77ارکان کے 40.52الیکٹورل ووٹ ملنے کاامکان ہے جبکہ مسلم لیگ(ن)کے امیدوار ممنون حسین کومسلم لیگ(ن)اور اگرجے یوآئی (ف)کے ارکان انھیںاپنے ووٹ دیتے ہیں تواس صورت میں 33ارکان کے 17.36الیکٹورل ووٹ مل پائیںگے۔ تاہم اگرجے یوآئی(ف) کی جانب سے بھی انھیںووٹ نہ دیے گئے تواس صورت میںلیگی امیدوارممنون حسین کوصرف اپنی ہی پارٹی کے 17ارکان کے 8.94الیکٹورل ووٹ ملیں گے۔