پاکستان کا مصری صدر کی رہائی کا مطالبہ
پاکستان نے مصر کے معزول صدر محمد مرسی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے ۔مصر کے جمہوری اداروں کی بحالی پر زور دیا ہے۔
مصر میں ہونے والے حالیہ پر تشدد واقعات کے نتیجے میں معصوم جانوں کے نقصان پر پاکستان کو سخت تشویش ہے، دفتر خارجہ فوٹو اے ایف پی
پاکستان نے مصر کے معزول صدر محمد مرسی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے ۔مصر کے جمہوری اداروں کی بحالی پر زور دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں پاکستان اور مصر کے درمیان قریبی اور دوستانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر میں ہونے والے حالیہ پر تشدد واقعات کے نتیجے میں معصوم جانوں کے نقصان پر پاکستان کو سخت تشویش ہے۔ پاکستانی ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان کسی بھی ملک میں جھگڑوں کے حل کے لیے فوجی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ مصر میں قانون اور آئینی مسائل کو تمام فریقین پر امن طریقے سے حل کریں۔
ادھر مصر کے معزول صدر محمد مرسی کو فلسطینی تنظیم حماس کے ساتھ سازباز کرنے اور 2011ء کی بغاوت کے دوران جیل پر حملوں کی منصوبہ بندی کے الزامات کے تحت حراست میں لے لیا گیا ہے۔ قاہرہ کی ایک عدالت کے حکم کے مطابق ابتدائی طور پر ان سے دو ہفتے تک تفتیش کی جائے گی۔ یہ اطلاع اس وقت آئی ہے جب جمعہ کو مصر میں معزول صدر کے حامی اور مخالف لاکھوں کی تعداد میں جلوس نکال رہے تھے۔ حماس نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے مصری فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ مصر کے معزول صدر محمد مرسی اور اخوان المسلمون کے دیگر رہنماوں کو رہا کیا جائے۔
مصر میں اخوان المسلمون نے صدر مرسی کی رہائی کے لیے ملین مارچ شروع کر دیا ہے۔ اس مارچ کو الفرقان کا نام دیا گیا ہے۔ معزول صدر کے مخالفین بھی سڑکوں پر آ رہے ہیں۔ مصری فوج کے سربراہ جنرل السیسی نے عوام سے مطالبہ کی تھا کہ وہ سڑکوں پر نکل کر فوج کے فیصلے کی حمایت کریں۔ یہ صورت حال مصر کو بدترین خلفشار کی طرف لے جاتی نظر آتی ہے۔ معزول صدر مرسی کے حامی اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں کے امکان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر فریقین اپنی اپنی ضد پر اڑے رہے تو پھر تصادم ناگزیر ہو گا اور ملک خانہ جنگی کا شکار ہو جائے گا۔ شام میں پہلے ہی اس قسم کی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔
پاکستان کا اس حوالے سے مؤقف درست ہے کہ مصر کی حکومت ملک کے جمہوری ادارے بحال کرے اور معزول صدر کو رہا کر دے تاکہ مصر میں حالات بند گلی میں داخل نہ ہوں۔ مسلم ممالک خصوصاً عرب ممالک اس وقت شدید نظریاتی خلفشار کا شکار ہیں۔ لیبیا بھی اسی خلفشار کا شکار ہوا اور شام میں اسی خلفشار کے باعث بدترین خانہ جنگی جاری ہے۔ مصر عرب دنیا کا انتہائی اہم ملک ہے۔ اسرائیل اس کا ہمسایہ ہے۔ یہاں اگر نظریاتی خلفشار خانہ جنگی میں تبدیل ہوتا ہے تو اس کے اثرات مشرق وسطیٰ کے ساتھ ساتھ شمالی افریقہ کے ممالک پر بھی پڑیں گے۔ اس ساری تباہی کا فائدہ اسرائیل اٹھا رہا ہے۔
مغربی قوتوں کو بھی اس انتشار کو ختم کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی ابھی تک ختم نہیں ہو سکی۔ بڑی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں۔ اور اس کا خمیازہ شام کے عوام بھگت رہے ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ مصر میں فریقین بالغ نظری کا ثبوت دیں۔ محمد مرسی بہرحال عوام کے منتخب کردہ صدر تھے اور انھیں فوجی بغاوت کے ذریعے معزول کیا گیا۔ برسراقتدار گروہ کو چاہیے کہ وہ انھیں رہا کرے اور ملک میں جمہوری عمل بحال کرنے کے لیے نیک نیتی سے کردار ادا کرے تاکہ مرسی کے حامی مطمئن ہو سکیں۔
ادھر مصر کے معزول صدر محمد مرسی کو فلسطینی تنظیم حماس کے ساتھ سازباز کرنے اور 2011ء کی بغاوت کے دوران جیل پر حملوں کی منصوبہ بندی کے الزامات کے تحت حراست میں لے لیا گیا ہے۔ قاہرہ کی ایک عدالت کے حکم کے مطابق ابتدائی طور پر ان سے دو ہفتے تک تفتیش کی جائے گی۔ یہ اطلاع اس وقت آئی ہے جب جمعہ کو مصر میں معزول صدر کے حامی اور مخالف لاکھوں کی تعداد میں جلوس نکال رہے تھے۔ حماس نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے مصری فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ مصر کے معزول صدر محمد مرسی اور اخوان المسلمون کے دیگر رہنماوں کو رہا کیا جائے۔
مصر میں اخوان المسلمون نے صدر مرسی کی رہائی کے لیے ملین مارچ شروع کر دیا ہے۔ اس مارچ کو الفرقان کا نام دیا گیا ہے۔ معزول صدر کے مخالفین بھی سڑکوں پر آ رہے ہیں۔ مصری فوج کے سربراہ جنرل السیسی نے عوام سے مطالبہ کی تھا کہ وہ سڑکوں پر نکل کر فوج کے فیصلے کی حمایت کریں۔ یہ صورت حال مصر کو بدترین خلفشار کی طرف لے جاتی نظر آتی ہے۔ معزول صدر مرسی کے حامی اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں کے امکان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر فریقین اپنی اپنی ضد پر اڑے رہے تو پھر تصادم ناگزیر ہو گا اور ملک خانہ جنگی کا شکار ہو جائے گا۔ شام میں پہلے ہی اس قسم کی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔
پاکستان کا اس حوالے سے مؤقف درست ہے کہ مصر کی حکومت ملک کے جمہوری ادارے بحال کرے اور معزول صدر کو رہا کر دے تاکہ مصر میں حالات بند گلی میں داخل نہ ہوں۔ مسلم ممالک خصوصاً عرب ممالک اس وقت شدید نظریاتی خلفشار کا شکار ہیں۔ لیبیا بھی اسی خلفشار کا شکار ہوا اور شام میں اسی خلفشار کے باعث بدترین خانہ جنگی جاری ہے۔ مصر عرب دنیا کا انتہائی اہم ملک ہے۔ اسرائیل اس کا ہمسایہ ہے۔ یہاں اگر نظریاتی خلفشار خانہ جنگی میں تبدیل ہوتا ہے تو اس کے اثرات مشرق وسطیٰ کے ساتھ ساتھ شمالی افریقہ کے ممالک پر بھی پڑیں گے۔ اس ساری تباہی کا فائدہ اسرائیل اٹھا رہا ہے۔
مغربی قوتوں کو بھی اس انتشار کو ختم کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی ابھی تک ختم نہیں ہو سکی۔ بڑی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں۔ اور اس کا خمیازہ شام کے عوام بھگت رہے ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ مصر میں فریقین بالغ نظری کا ثبوت دیں۔ محمد مرسی بہرحال عوام کے منتخب کردہ صدر تھے اور انھیں فوجی بغاوت کے ذریعے معزول کیا گیا۔ برسراقتدار گروہ کو چاہیے کہ وہ انھیں رہا کرے اور ملک میں جمہوری عمل بحال کرنے کے لیے نیک نیتی سے کردار ادا کرے تاکہ مرسی کے حامی مطمئن ہو سکیں۔