آخری گنتی

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر جناب آصف علی زرداری ہیں، جب تک ان کےاس منصب جلیلہ کی میعادختم نہیں ہوتی وہ صدررہیں گے۔۔۔

Abdulqhasan@hotmail.com

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر جناب آصف علی زرداری ہیں، جب تک ان کے اس منصب جلیلہ کی میعاد ختم نہیں ہوتی وہ صدر رہیں گے جن کے بعد کے صدر کے لیے ان دنوں سیاسی دنیا میں ایک جعلی قسم کی ہلچل جاری ہے۔ گو فیصلہ بالکل ظاہر ہے مگر پھر بھی یہ سیاست ہے۔ زرداری صاحب ان دنوں ملک سے باہر ہیں لیکن صدر ہر جا کہ نشیند صدر است کے مطابق وہ بہر حال صدر ہیں اور اب بھی وہ تمام اہم معاملات جن کے وہ سربراہ ہیں ان کی منظوری کے لیے ان کی خدمت میں پیش ہوتے ہیں اور ان کی منظوری کے بعد طے پاتے ہیں۔ یہ تو وہ بات ہے جو ظاہر ہے اور اس کے ذکر کی چنداں ضرورت بھی نہیں لیکن ہمارے ملک میں کوئی گیا گزرا صدر بھی سب کچھ الٹ پلٹ کر دیتا ہے کیونکہ اقتدار بری بلا ہے۔ یہ لطیفہ بھی ہماری سیاسی تاریخ کا حصہ ہے کہ صدر اور وزیر اعظم ایک ساتھ گئے کیونکہ فوجی بڑوں کے اجلاس میں ایک نے میز پر ڈنڈا مارا اور معاملہ اس ڈنڈے کی بھدی سی آواز سے طے پاگیا۔

میں نے اس جرنیل سے اس ڈنڈا بازی کے بارے میں ایک بار پوچھا تو وہ مکر گئے لیکن ان کی تردید کے انداز سے پتہ چلا کہ کچھ گڑبڑ ضرور ہوئی تھی جس کا نتیجہ دونوں سویلین کی رخصتی کی صورت میں سامنے آیا۔ اس دفعہ نظر بظاہر ایسی کسی گڑبڑ کا خطرہ نہیں لیکن اللہ کی اللہ ہی جانتا ہے۔ بہر کیف اس وقت ووٹوں کی جو گنتی جاری ہے اس کے مطابق یقینی فیصلہ کسی ممنون احسان کے حق میں جا رہا ہے اس وقت تک ان کا تعارف یوں ہوا کہ میاں صاحب کو ان کے گھر کی ربڑی بہت پسند ہے۔ وہ جب بھی کراچی جاتے ہیں تو ان کے گھر سے دودھ ربڑی منگوا کر ضرور کھاتے ہیں بلکہ بعض لوگوں کے مطابق ان کے کراچی دورے کے ایجنڈے کی پہلی آئٹم یہی ربڑی ہوتی ہے جس کے لیے وہ اتنا لمبا سفر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اگر میاں صاحب کو خوراک میں خود کفالت اور خوش ذوق عطا کیا ہے اور اس کی تکمیل کے لیے وسائل بھی دیے ہیں خیر اب تو یہ مسئلہ مزید آسان ہو رہا ہے کہ کنواں پیاسے کے پاس چل کر خود آ رہا ہے۔

مغربی جمہوریت میں ووٹوں کی گنتی بہت ضروری ہوتی ہے۔ ہمارے اسلامی مزاج کے شاعر نے اسے یوں بیان کیا ہے کہ مغرب کے اس جمہوری نظام میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔ حکیم الامت اقبال کا اشارہ ملک کے سربراہ کے انتخاب کے لیے اسلامی طریقہ کار کی طرف تھا۔ جس دور کو اقبال یاد کر رہے ہیں یعنی خلافت راشدہ کے دور کو اور اس کے بعد اس خلافت کے زندہ اصولوں کی پاسداری کرنے والوں کے دور میں جب ملک کے صاحب رائے دانشور اور متقی و نیک لوگوں کو جمع کیا جا رہا تھا اور ان کے سامنے ملک کے سربراہ یا امیر المومنین کی تقرری کا مسئلہ پیش ہوتا تھا۔ ان کی اکثریتی رائے پر فیصلہ ہوا کرتا تھا۔ حضرت عمرؓ نے جب دیکھا کہ اب وہ اس دنیا سے جا رہے ہیں تو اپنے ساتھیوں کو جمع کیا اور اپنی رائے کے مطابق انھوں نے اپنی جانشینی کے لیے مختصر سی شوریٰ مقرر کی جس کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ کسی کو حضرت عمرؓ کا جانشین مقرر کر دے۔

ہمارے آج کے اسلام پسند سیاست دانوں کے لیے ایک عبرت اور نصیحت بھی ہے کہ حضرت نے اس شوریٰ میں اپنے لائق و فائق اور جانشین کے اہل سمجھے جانے والے بیٹے کو بھی نامزد تو کر دیا لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ خود اس منصب کے امیدوار نہیں ہوں گے اور ان کو منتخب نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے اپنی ذات کی حد تک موروثی اقتدار کا مسئلہ ختم کر دیا۔ یہ نہیں کہ کسی کی بیگم اور بیٹی مجلس شوریٰ کی رکن بنا دی جائے۔ اس طرح اسلام کے ابتدائی اور فیصلہ کن دور میں ووٹوں کی گنتی نہیں ہوتی تھی بلکہ قوم کے صاحبان فراست اور نیک بخت انسانوں کی رائے لی جاتی تھی۔ بہر کیف ہم نے وہ پرانے طریقے چھوڑ دیے ا ور مغربی جمہوریت کے نظام کو اپنا لیا جس کے تحت ہر الیکشن کے بعد ہیرا پھیری کا شور اٹھتا ہے۔ اس دفعہ ن لیگ کی واضح اکثریت کی وجہ سے نتیجہ ظاہر ہے کہ میاں صاحب کا امیدوار ہمارا صدر ہو گا، پر اقتدار اتنی بری بلا ہے کہ خدا کرے بظاہر ایک بے ضرر شخص بھی میاں صاحب کے لیے عملاً بے ضرر ہی رہے کیونکہ


کچھ تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار

اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں

مجوزہ صدر صاحب کا نام لے کر کچھ سیاست دان بے زاری اور ناپسندیدگی ظاہر کر رہے ہیں۔ ایک پوری پارٹی جو کل تک اقتدار میں تھی وہ بھی سرتاپا مخالفت کر رہی ہے۔ کچھ سیاست دان شوقیہ مخالف بھی ہیں تا کہ یوسف کے خریداروں میں نام تو آ جائے خواہ اپنے پاس سوت کی اَٹی کے سوا کچھ بھی نہ ہو۔ اس طرح کچھ لوگ اپنی دم بلب سیاسی زندگی کے لیے بھی سرگرم ہیں۔ عہدہ صدارت جیسے اہم مسئلے پر سیاسی زندگی میں ہلچل بہت مناسب ہے بلکہ بہت ضروری ہے کہ اس سے قوم کے سیاسی شعور کا پتہ چلتا ہے۔ اگر کسی کی سوچ میں کچھ کھوٹ ہے تو کل کلاں اس میں کھرا پن بھی آ سکتا ہے۔ سیاست چلتی رہے گی تو سب ہوتا رہے گا۔ اس لیے سیاسی سرگرمی میں حصہ لینا بہت لازم ہے خواہ یہ حمایت میں ہو یا مخالفت میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میرے لیے تو بعض متفقہ فیصلے زیادہ اچھے نہیں ہوتے اور کامیاب ذہنوں میں فتنے بھی جاگ اٹھتے ہیں۔

میاں صاحبان اس وقت تک سخت اضطراب میں ہیں۔ ابھی تک ان کی ٹیم بھی تیار نہیں کی جا سکی یہاں تک کہ وزیر اعظم بلا تکلف اعتراف کرتے ہیں کہ میرے پاس کچھ ہو تو میں قوم سے خطاب میں اسے بتاؤں بھی۔ حالات دیکھ کر اپنے وزیر اعظم کی اس بے کسی کے ساتھ میں اتفاق کرتا ہوں اور انھیں صاف گوئی کی داد دیتا ہوں کہ وہ اپنے وسیع حلقہ انتخاب کو دھوکہ دینے پر آمادہ نہیں۔ ان کے اس رویے سے مجھے ملک کی فلاح دکھائی دیتی ہے میں کیا لیکن جو کچھ بھی ہوں مسلسل عرض کر رہا ہوں کہ میاں صاحب کی کامیابی ہمارے لیے لازم ہے۔ ملک کے معاشی کھنڈروں کو آباد کرنا ہے۔ لوگوں کو روٹی روزی دینی ہے اور ہم ہیں کہ اس سفر کا پوری طرح آغاز بھی نہیں کر سکے۔ صدر کے الیکشن کے بعد ملک کا حکومتی ڈھانچہ مکمل ہو جائے گا اور میاں صاحب بظاہر بے فکر ہو کر اپنے سفر کا آغاز کر سکیں گے۔ انھیں فوج کی طرف سے فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے کہ کس میں ہمت ہے کہ وہ محاذ کو سر کرنے کے لیے ہتھیار اٹھا سکے۔ اب اس آخری گنتی کے بعد میاں صاحب کا سفر خدا خیر کرے۔
Load Next Story