سوشل میڈیا کریک ڈاؤن
اساتذہ اور والدین کی یہ بھاری ذمے داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں اور نئی نسل پرکڑی نظر رکھیں۔
اساتذہ اور والدین کی یہ بھاری ذمے داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں اور نئی نسل پرکڑی نظر رکھیں۔ فوٹو:فائل
لاہور:
وفاقی وزیراطلاعات ونشریات چوہدری فواد حسین نے سوشل میڈیا پر منافرت پھیلانے والوں کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیزمواد کوکنٹرول کیا جائے گا ، ملک میں اظہار رائے کی آزادی کے نام پردوسروںکی آزادی سلب نہیں کی جا سکتی۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں ''بحرانی صورتحال میں تزویراتی رابطہ اور ذرایع ابلاغ کے کردار''کے موضوع پر ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
وفاقی وزیر نے جن خیالات کا اظہارکیا ہے وہ کسی حد تک درست قرار دیے جاسکتے ہیں۔ سوشل میڈیا تک چونکہ ہر کسی کی رسائی ہے، اس لیے ہر قسم کے خیالات کا اظہار کیا جاسکتا ہے،منفی ، دل آزار ، نفرت اور اشتعال انگیز مواد کی روک تھام کا نظام موجود نہیں، ہر شخص اچھی بری بات کہنے اور لکھنے میں آزاد ہے۔کوئی شخص بلاروک ٹوک کسی بھی مذہبی شخصیت اور مذہبی نظریات کو مطعون کرسکتا ہے اور مخالف مذہبی سوچ کی محترم شخصیات پرکیچڑ اچھال سکتا ہے۔
درحقیقت سوشل میڈیا پر ایسی سرگرمیاں بھی دیکھنے میں آرہی ہیں جو معاشرے کے مختلف طبقات اورمکاتب فکر میں ایک دوسرے سے نفرت کو پروان چڑھانے، باہمی انتشار اورخلفشار کا سبب بن رہی ہیں۔ معاشرے میں بیشتر افراد اسے لوگوں کو بدنام کرنے کے لیے بے بنیاد خبروں کو پھیلانے، نازیبا تصاویر اورخاکوں میں ردوبدل جیسے طریقوں کے ذریعے غلط استعمال کررہے ہیں۔
ایکسپریس میں شایع شدہ ایک خبرکے مطابق پشاورکی مقامی عدالت نے خفیہ نکاح کرکے بیوی کی تصاویرسوشل میڈیاپر وائرل کرکے بلیک میل کرنے والے شوہرسمیت دو ملزموں کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظورکرلیا ہے۔ یعنی سوشل میڈیا کا سب سے زیادہ شکار لڑکیاں اور خواتین بن رہی ہیں ۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جعلی آئی ڈی بنانے والے صارفین کی لوکیشن کو تلاش کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے سائبرکرائمز یونٹ کو بھرپورکوششیں کرنا ہونگی ۔
اساتذہ اور والدین کی یہ بھاری ذمے داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں اور نئی نسل پرکڑی نظر رکھیں کہ وہ سوشل میڈیا کا درست استعمال کررہے ہیں اورکیا وہ انتہاپسندانہ نظریات کی طرف مائل تو نہیں ہو رہے ہیں۔آج کل انتہا پسندانہ تنظیمیں کا اصل ہدف نئی نسل ہی ہے اور وہ اپنے نظریات کا پرچارکررہی ہیں، ہمیں چوکنا رہنے کی ضرورت ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ سوشل میڈیا کئی بااثر وڈیروں، چوہدریوں، نام نہاد گدی نشینوں کے مظالم اور زیادتیوں کو بے نقاب کرنے کا باعث بھی ہے.
اسی طرح ریاستی اداروں کے ظلم وبربریت کو کئی ایک مواقعے پر سوشل میڈیا نے بے نقاب کیا، اس کی واضح مثال سانحہ ساہیوال ہے، اسی طرح قصور کی معصوم زینب کے قتل پر بھی سوشل میڈیا نے شور مچایا ، جس کے بعد زینب کے سفاک قاتل کی گرفتاری کے لیے حکومت اور پولیس اور انٹیلی جنس اداروں پر دباؤ بڑھااور قاتل کی گرفتاری ممکن ہوئی۔اس لیے حکومت جو اقدام کرے ، اس میں آزادی اظہار رائے کا حق متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
وفاقی وزیراطلاعات ونشریات چوہدری فواد حسین نے سوشل میڈیا پر منافرت پھیلانے والوں کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیزمواد کوکنٹرول کیا جائے گا ، ملک میں اظہار رائے کی آزادی کے نام پردوسروںکی آزادی سلب نہیں کی جا سکتی۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں ''بحرانی صورتحال میں تزویراتی رابطہ اور ذرایع ابلاغ کے کردار''کے موضوع پر ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
وفاقی وزیر نے جن خیالات کا اظہارکیا ہے وہ کسی حد تک درست قرار دیے جاسکتے ہیں۔ سوشل میڈیا تک چونکہ ہر کسی کی رسائی ہے، اس لیے ہر قسم کے خیالات کا اظہار کیا جاسکتا ہے،منفی ، دل آزار ، نفرت اور اشتعال انگیز مواد کی روک تھام کا نظام موجود نہیں، ہر شخص اچھی بری بات کہنے اور لکھنے میں آزاد ہے۔کوئی شخص بلاروک ٹوک کسی بھی مذہبی شخصیت اور مذہبی نظریات کو مطعون کرسکتا ہے اور مخالف مذہبی سوچ کی محترم شخصیات پرکیچڑ اچھال سکتا ہے۔
درحقیقت سوشل میڈیا پر ایسی سرگرمیاں بھی دیکھنے میں آرہی ہیں جو معاشرے کے مختلف طبقات اورمکاتب فکر میں ایک دوسرے سے نفرت کو پروان چڑھانے، باہمی انتشار اورخلفشار کا سبب بن رہی ہیں۔ معاشرے میں بیشتر افراد اسے لوگوں کو بدنام کرنے کے لیے بے بنیاد خبروں کو پھیلانے، نازیبا تصاویر اورخاکوں میں ردوبدل جیسے طریقوں کے ذریعے غلط استعمال کررہے ہیں۔
ایکسپریس میں شایع شدہ ایک خبرکے مطابق پشاورکی مقامی عدالت نے خفیہ نکاح کرکے بیوی کی تصاویرسوشل میڈیاپر وائرل کرکے بلیک میل کرنے والے شوہرسمیت دو ملزموں کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظورکرلیا ہے۔ یعنی سوشل میڈیا کا سب سے زیادہ شکار لڑکیاں اور خواتین بن رہی ہیں ۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جعلی آئی ڈی بنانے والے صارفین کی لوکیشن کو تلاش کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے سائبرکرائمز یونٹ کو بھرپورکوششیں کرنا ہونگی ۔
اساتذہ اور والدین کی یہ بھاری ذمے داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں اور نئی نسل پرکڑی نظر رکھیں کہ وہ سوشل میڈیا کا درست استعمال کررہے ہیں اورکیا وہ انتہاپسندانہ نظریات کی طرف مائل تو نہیں ہو رہے ہیں۔آج کل انتہا پسندانہ تنظیمیں کا اصل ہدف نئی نسل ہی ہے اور وہ اپنے نظریات کا پرچارکررہی ہیں، ہمیں چوکنا رہنے کی ضرورت ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ سوشل میڈیا کئی بااثر وڈیروں، چوہدریوں، نام نہاد گدی نشینوں کے مظالم اور زیادتیوں کو بے نقاب کرنے کا باعث بھی ہے.
اسی طرح ریاستی اداروں کے ظلم وبربریت کو کئی ایک مواقعے پر سوشل میڈیا نے بے نقاب کیا، اس کی واضح مثال سانحہ ساہیوال ہے، اسی طرح قصور کی معصوم زینب کے قتل پر بھی سوشل میڈیا نے شور مچایا ، جس کے بعد زینب کے سفاک قاتل کی گرفتاری کے لیے حکومت اور پولیس اور انٹیلی جنس اداروں پر دباؤ بڑھااور قاتل کی گرفتاری ممکن ہوئی۔اس لیے حکومت جو اقدام کرے ، اس میں آزادی اظہار رائے کا حق متاثر نہیں ہونا چاہیے۔