امریکی صدر کی افطاری

سیاہ فام امریکی صدر جناب باراک اوباما نے 26 جولائی 2013ء وہائٹ ہائوس ‘واشنگٹن میں مسلمانوں کے اعزاز ۔۔۔

tanveer.qaisar@express.com.pk

سیاہ فام امریکی صدر جناب باراک اوباما نے 26 جولائی 2013ء وہائٹ ہائوس 'واشنگٹن میں مسلمانوں کے اعزاز میں افطار ڈِنر دیا ہے۔ اِس اقدام کی تعریف و تحسین کی جانی چاہیئے۔ اِس شاندار تقریب میں چنیدہ کالے گورے مسلمان خواتین و حضرات شامل تھے۔ مسلمان سفیروں کی ایک قابلِ ذکر تعداد نے بھی شرکت کی۔ امریکی حکومت کی طرف سے جاری کردہ فوٹوز میں سے ایک میں مجھے متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف عتیبہ امریکی قومی سلامتی کی مشیر سوسن رائس سے گفتگو کرتے نظر آئے۔ امریکی صدر کے افطار ڈنر میں باپردہ مسلمان خواتین بھی نظر آئیں جو اِس امر کا کھلا ثبوت ہے کہ امریکا میں مسلمانوں کو اپنی اقدار اور اسلامی ثقافت پر عمل کرنے کی مکمل آزادی ہے۔

مجھے امریکا جانے کا کئی بار اتفاق ہوا ہے اور میَں کہہ سکتا ہوں کہ کسی پاکستانی مسلمان کو جتنی مذہبی آزادیاں امریکا میں حاصل ہیں، اتنی اپنے وطن میں نہیں۔ بحیثیتِ مجموعی امریکا بھر میں مسلمانوں کو کوئی خطرہ ہے نہ سیکیورٹی کے مسائل ہیں۔ مجھے نیو یارک، واشنگٹن، نیو جرسی، کنکٹی کٹ وغیرہ میں دو تین رمضان گزارنے کا موقع ملا ہے اور یہ تجربہ نہایت خوشگوار ثابت ہوا۔ مثال کے طور پر پورے رمضان کے دوران (تراویح کے لیے) مساجد کے سامنے پارکنگ فیس وصول نہیں کی جاتی۔ مسجد کے باہر پولیس بھی متعین کی جاتی ہے اور اگر بعض مسلمان مسجد کے اندر جگہ نہ ہونے کے باعث مسجد سے باہر فٹ پاتھ پر تراویح پڑھتے ہیں تو شہر کی انتظامیہ اُن سے تعرض نہیں کرتی۔ امریکا میں رمضان مبارک کے ایام میں اسکول جانے والے بچوں کو اسکول انتظامیہ زبردستی کھانا کھلانے سے اجتناب کرتی ہے۔ یہ مسلمان طلباء و طالبات پر منحصر ہے کہ وہ اسکول کی طرف سے دیا گیا (مفت) کھانا کھائیں یا نہ کھائیں۔ دفاتر میں جو مسلمان روزے کے ساتھ آتے ہیں، تمام امریکی کولیگ اُن کا خصوصی احترام کرتے ہیں۔

جنابِ باراک اوبامہ پہلے امریکی صدر نہیں ہیں جنھوں نے چنیدہ امریکی مسلمانوں کی افطاری کروائی ہے۔ ہر سال وہائٹ ہائوس میں امریکی صدر کی طرف سے دیے جانے والے افطار ڈنر کی تقریب اب ایک زبردست اور مستحکم روایت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ میَں نے بِل کلنٹن، سینئر بُش، جونیئربش اور باراک اوبامہ صاحب کو اِس مستحسن روایت پر عمل کرتے خود دیکھا ہے لیکن اگر ہم امریکی تاریخ پر ایک نظر دوڑائیں تو 1809ء میں امریکی صدر تھامس جیفرسن نے تیونس کے سفیر کی طرف سے دی گئی افطاری میں شرکت کی تھی۔ چند سال قبل امریکی حکومت نے امریکی مسلمانوں کی دل جوئی کے لیے محکمہ ڈاک کی طرف سے ''عید مبارک'' کی اسٹیمپ بھی بنائی تھی جو اب بھی استعمال ہو رہی ہے۔

کم کم معلوم ہے کہ امریکا میں مسلمانوں نے کب اور کیسے قدم رکھا؟ کہا جاتا ہے کہ کولمبس جب امریکا جا پہنچا تو اُس کے جہاز میں ایک مسلمان بھی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ امریکا میں مسلمانوں نے باقاعدہ قدم اُس وقت رکھا جب افریقہ سے کمزور مسلمان غلام بنا کر امریکی منڈیوں میں فروخت کیے جانے لگے۔ بعض تاریخ دان پیٹر سلیم کو اوّلین امریکی مسلمان گردانتے ہیں۔ خدا بھلا کرے سابق امریکی صدر ابراہام لنکن کا جس نے امریکا میں غلامی کی تمام زنجیریں توڑ دیں اور وہ مسلم و غیر مسلم سیاہ فام غلام امریکیوں کا محسُن کہلایا۔ آج ہمیں امریکا میں جو تیس لاکھ کے قریب مسلمان نظر آتے ہیں، ان کا ایک چوتھائی ان ہی مظلوم غلام مسلمانوں کی آل اولاد ہیں۔ آج یہ امریکا اور امریکی تاریخ کا اثاثہ ہیں اور امریکی ترقی میں اپنا مقدور بھر کردار ادا کر رہے ہیں۔


یہ بھی کہا جاتا ہے کہ امریکی مسلمانوں میں 72 فیصد وہ ہیں جو بیرونی ممالک سے اپنی مرضی کے ساتھ ہجرت کر کے امریکا آباد ہوئے۔ اِن میں عرب اور جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ قدیم امریکی مسلمانوں کے بارے میں مطالعہ کرتے ہوئے ایک حیرت انگیز واقعہ بھی سامنے آیا: ممتاز امریکی قانون دان و قانون ساز اور سائنسدان بنجمن فرینکلن، جنھوں نے امریکی آئین پر بھی دستخط کیے تھے، نے ایک عثمانی ترک سلطان کو خط بھی ارسال کیا تھا جس میں فیاضی اور کُھلے دل کے ساتھ پیشکش کی گئی تھی کہ اگر آپ اِس نئی سرزمین (امریکا) میں اسلام کی تبلیغ چاہتے ہیں تو ہم آپ کے بھیجے گئے اماموں، مبلغوں اور مفتیوں کا خوش دلی سے خیر مقدم کریں گے اور عبادت گاہوں (مساجد) کے لیے جگہ بھی فراہم کریں گے۔ اگر اُس وقت نائن الیون کا سانحہ معرضِ وجود میں آیا ہوتا تو شاید بنجمن فرینکلن صاحب عثمانی ترک سلطان کو اتنی بے مثل پیشکش نہ کرتے۔

بھارت کے نامور عالمِ دین اور مفسرِ قرآن مولانا وحید الدین خان صاحب کا کہنا ہے کہ نائن الیون کے سانحہ سے قبل امریکا دنیا کا واحد ملک تھا جہاں تبلیغِ اسلام کے لیے بے پناہ مواقع موجود تھے۔ نائن الیون کے سانحہ کے بعد یقیناً امریکا میں مسلمانوں اور اسلام کے پھیلائو پر کچھ آزمائشیں آئی ہیں۔ بہرحال حقیقت یہ ہے کہ امریکا میں بے پناہ مذہبی آزادی، جس کی تحسین کی جانی چاہیئے، کے باعث مختلف نسلی اور لسانی بیک گرائونڈ رکھنے والے کئی مسلمانوں نے امریکا میں بڑی ناموری حاصل کی ہے۔ ان معروف امریکی مسلمانوں میں بعض ایسے بھی ہیں جنھوں نے اپنی خواہش اور آزادی کے ساتھ اپنے آبائی مذہب کو خیر باد کہہ کر دینِ اسلام کی روشن اور بے داغ چادر میں پناہ لی۔ ایسے شاندار اور عالمی شہرت یافتہ امریکی مسلمانوں میں میلکم ایکس، محمد علی، کریم عبدالجبار، کیتھ ایلی سن، آندرے کارسن، زلمے خلیل زاد، جرمین جیکسن، مائیک ٹائی سن، فرید زکریا، ڈیو چیپل، ولی نصر، شاہد خان، رشید ویلس، برنارڈ ہاپکنس، لوئی فرح خان، حمزہ یوسف، سراج وہاج، آئس کیوب، لیوپ فائیسکو سرِفہرست ہیں۔

اِن معروف مسلمانوں میں بعض سے مصافحہ اور معانقہ کرنے کا مجھے بھی اعزاز ملا ہے۔ مثال کے طور پر: کریم عبدالجبار، ولی نصر، فرید زکریا اور سراج وہاج۔ ولی نصر اور فرید زکریا سے واشنگٹن میں ملاقات ہوئی جب کہ سراج وہاج صاحب سے نیو یارک کے علاقے کوئنز میں۔ فرید زکریا صاحب بھارتی نژاد ممتاز ترین امریکی مسلمان دانش ور، تجزیہ نگار اور اخبار نویس ہیں۔ سی این این، فارن افیئرز اور ٹائم میگزین ایسے معتبر جرائد اور میڈیا میں اُن کی آواز گونجتی ہے اور امریکی پالیسی ساز اسے سنجیدہ لیتے ہیں۔ اِسی طرح ولی نصر صاحب ایرانی نژاد امریکی مسلمان ہیں۔ وہ ٹفٹس یونیورسٹی کے معزز استاد بھی ہیں۔ اُن کی دو تین تصنیفات، جو انگریزی میں لکھی گئی ہیں، نے انگریزی داں یورپی اور امریکی دانشور حلقوں میں تہلکہ مچا رکھا ہے۔ سراج وہاج صاحب تو نیویارک اور نیو جرسی کے مسلمانوں میں بہت محبت و اکرام سے دیکھے جاتے ہیں اور وہ اپنی ذات میں نہایت درویش انسان بھی ہیں۔

وہ نیو یارک اور نیو جرسی میں اپنے دبنگ لہجے کے اعتبار سے مسلمان کمیونٹی کے ''محافظ'' بھی خیال کیے جاتے ہیں۔ افغان نژاد امریکی زلمے خلیل زاد نے سابق امریکی صدر بُش کے دَور میں امریکا اور افغانستان کے درمیان کئی اہم معاہدوں میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اِن امریکی مسلمانوں میں سے بعض شخصیات کو جمہور مسلمان فی الحقیقت مسلمان تسلیم نہیں کرتے۔ مثلاً: لوئی فرح خان۔ فرح صاحب دراصل امریکی ''نیشن آف اسلام'' (NOI) سے تعلق رکھتے ہیں اور اُن کے مسلّمہ لیڈر بھی۔ یہ تنظیم اسلام کی بعض نہایت اہم مبادیات سے انکار کرتی ہے۔ اگر ہم ''نیشن آف اسلام'' کے ترجمان جریدے The Final Call کا باقاعدہ مطالعہ کریں تو ہم پر اُن کے عقائد کی حقیقتیں پوری طرح عیاں ہو جاتی ہیں۔ یہاں میَں یہ بات یقینِ محکم سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر فرید زکریا صاحب اور ولی نصر صاحب اپنے اپنے آبائی ممالک میں رہتے تو اسلام اور مسلمانوں کی اتنی بڑی خدمت نہ کر سکتے تھے جتنی خدمت انھوں نے امریکا کی آزاد سرزمین میں رہ کر کی ہے۔
Load Next Story