201213 آلو پیاز اور کینو کی برآمد کے نئے ریکارڈ قائم
10 سال میں برآمدات 7 ارب ڈالر کرنے کیلیے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ روڈ میپ کی تشکیل جاری
جامعات، تحقیقی اداروں، صوبوں، نجی اورسرکاری متعلقہ اداروں سے مشاورت کا عمل شروع کردیا گیا۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
HILTON HEAD ISLAND:
مالی سال 2012-13کے دوران ملک سے پیاز، آلو اور کینو کی برآمد کے نئے ریکارڈ قائم کیے گئے، اسی وجہ سے اس سال پھل اور سبزیوں کی برآمدات میں 16فیصد اضافہ ہوا ہے۔
10سال میں پھل اور سبزیوں کی برآمدات 7ارب ڈالر تک پہنچانے کیلیے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ روڈ میپ تشکیل دیا جارہا ہے، تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول زرعی جامعات اور تحقیقی اداروں، صوبائی حکومتوں نجی اورسرکاری متعلقہ اداروں کی مشاورت کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین وحید احمد کے مطابق سال کے دوران ملک سے پھل اور سبزیوں کی برآمدات 16فیصد اضافے سے 625ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ سال 2012-13کے دوران پھلوں کے لیے ساؤتھ کوریا، ماریشس اور جاپان کی منڈیاں کھل گئیں جبکہ مڈل ایسٹ کو آلو کی برآمدات کا آغاز ہوگیا جس سے پھل اور سبزیوں کی برآمدات میں نمایاں اضافہ رہا۔
2012-13کے دوران پاکستان سے آلو، پیاز اور کینو کی برآمد کے نئے ریکارڈ قائم کیے گئے۔ پھل اور سبزیوں کی برآمدات 2011-12میں 538ملین ڈالر تھی جو مالی سال 2012-13میں بڑھ کر 625ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ 2012-13کے دوران پاکستان سے مڈل ایسٹ کو 7سال بعد بڑے پیمانے پر آلو کی برآمدات بحال ہوگئیں سعودی عرب کی جانب سے سعودی آلو کی برآمد پر پابندی کے سبب پاکستانی آلو کو مڈل ایسٹ کی منڈی میں جگہ مل گئی جس سے 2012-13کے دوران آلو کی برآمد تقریباً تین لاکھ ٹن تک پہنچ گئی اسی طرح پاکستان میں پیاز کی بمپر فصل کی وجہ سے بھی ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا۔
2011-12میں سیلاب اور بارشوں کے سبب فصل کو شدید نقصان ہوا اور پاکستان کو پیاز بھارت سے درآمد کرنا پڑگئی تاہم 2012-13کے دوران پاکستان سے بڑے پیمانے پر پیاز برآمد کی گئی اور 2.5لاکھ ٹن پیاز کی برآمد کا نیا ریکارڈ قائم ہوگیا۔سال 2012-13کے دوران ہی تین سال بعد کینو کی برآمد کا ہدف بھی پورا کرلیا گیا اور 2لاکھ 75ہزار ٹن کینو برآمد کیا گیا۔ پاکستان کو پھلوں کی تین نئی اہم منڈیاں مل گئیں جن میں ساؤتھ کوریا، ماریشس اور جاپان شامل ہیں جبکہ آسٹریلیا کی جانب سے بھی جلد اجازت ملنے کی توقع ہے۔ وحید احمد کے مطابق پھل اور سبزیوں کی برآمدات میں اضافے کے بے پناہ مواقع موجود ہیں اور تین سال میں برآمدات ایک ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں تاہم برآمدات میں اضافے کو مستحکم رکھنے کیلیے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے رجحان کو فروغ دینا ہوگا اگر ہارٹی کلچر سیکٹر میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ نہ کی گئی تو ایک ارب ڈالر تک پہنچنے کے بعد انٹرنیشنل مارکیٹ میں پاکستانی پھل اور سبزیوں کی برآمدات میں اضافہ رک جائیگا۔
ہارٹی کلچر کے شعبے میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل امپورٹرز ایکسپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن نے تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول زرعی جامعات اور تحقیقی اداروں، صوبائی حکومتوں نجی اورسرکاری متعلقہ اداروں کی مشاورت سے قومی سطح کے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ روڈ میپ کی تیاری شروع کردی ہے پہلے مرحلے میں ملک کی اہم جامعات اور تحقیقی اداروں سے مشاورت کی جارہی ہے اس سلسلے میں پاکستان کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ اور جامعہ کراچی کے ایگری کلچر ڈپارٹمنٹ کے ساتھ ایسوسی ایشن کی ملاقاتیں ہوچکی ہیں جس میں انڈسٹری اور اداروں کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا گیا ہے۔
مالی سال 2012-13کے دوران ملک سے پیاز، آلو اور کینو کی برآمد کے نئے ریکارڈ قائم کیے گئے، اسی وجہ سے اس سال پھل اور سبزیوں کی برآمدات میں 16فیصد اضافہ ہوا ہے۔
10سال میں پھل اور سبزیوں کی برآمدات 7ارب ڈالر تک پہنچانے کیلیے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ روڈ میپ تشکیل دیا جارہا ہے، تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول زرعی جامعات اور تحقیقی اداروں، صوبائی حکومتوں نجی اورسرکاری متعلقہ اداروں کی مشاورت کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین وحید احمد کے مطابق سال کے دوران ملک سے پھل اور سبزیوں کی برآمدات 16فیصد اضافے سے 625ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ سال 2012-13کے دوران پھلوں کے لیے ساؤتھ کوریا، ماریشس اور جاپان کی منڈیاں کھل گئیں جبکہ مڈل ایسٹ کو آلو کی برآمدات کا آغاز ہوگیا جس سے پھل اور سبزیوں کی برآمدات میں نمایاں اضافہ رہا۔
2012-13کے دوران پاکستان سے آلو، پیاز اور کینو کی برآمد کے نئے ریکارڈ قائم کیے گئے۔ پھل اور سبزیوں کی برآمدات 2011-12میں 538ملین ڈالر تھی جو مالی سال 2012-13میں بڑھ کر 625ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ 2012-13کے دوران پاکستان سے مڈل ایسٹ کو 7سال بعد بڑے پیمانے پر آلو کی برآمدات بحال ہوگئیں سعودی عرب کی جانب سے سعودی آلو کی برآمد پر پابندی کے سبب پاکستانی آلو کو مڈل ایسٹ کی منڈی میں جگہ مل گئی جس سے 2012-13کے دوران آلو کی برآمد تقریباً تین لاکھ ٹن تک پہنچ گئی اسی طرح پاکستان میں پیاز کی بمپر فصل کی وجہ سے بھی ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا۔
2011-12میں سیلاب اور بارشوں کے سبب فصل کو شدید نقصان ہوا اور پاکستان کو پیاز بھارت سے درآمد کرنا پڑگئی تاہم 2012-13کے دوران پاکستان سے بڑے پیمانے پر پیاز برآمد کی گئی اور 2.5لاکھ ٹن پیاز کی برآمد کا نیا ریکارڈ قائم ہوگیا۔سال 2012-13کے دوران ہی تین سال بعد کینو کی برآمد کا ہدف بھی پورا کرلیا گیا اور 2لاکھ 75ہزار ٹن کینو برآمد کیا گیا۔ پاکستان کو پھلوں کی تین نئی اہم منڈیاں مل گئیں جن میں ساؤتھ کوریا، ماریشس اور جاپان شامل ہیں جبکہ آسٹریلیا کی جانب سے بھی جلد اجازت ملنے کی توقع ہے۔ وحید احمد کے مطابق پھل اور سبزیوں کی برآمدات میں اضافے کے بے پناہ مواقع موجود ہیں اور تین سال میں برآمدات ایک ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں تاہم برآمدات میں اضافے کو مستحکم رکھنے کیلیے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے رجحان کو فروغ دینا ہوگا اگر ہارٹی کلچر سیکٹر میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ نہ کی گئی تو ایک ارب ڈالر تک پہنچنے کے بعد انٹرنیشنل مارکیٹ میں پاکستانی پھل اور سبزیوں کی برآمدات میں اضافہ رک جائیگا۔
ہارٹی کلچر کے شعبے میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل امپورٹرز ایکسپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن نے تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول زرعی جامعات اور تحقیقی اداروں، صوبائی حکومتوں نجی اورسرکاری متعلقہ اداروں کی مشاورت سے قومی سطح کے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ روڈ میپ کی تیاری شروع کردی ہے پہلے مرحلے میں ملک کی اہم جامعات اور تحقیقی اداروں سے مشاورت کی جارہی ہے اس سلسلے میں پاکستان کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ اور جامعہ کراچی کے ایگری کلچر ڈپارٹمنٹ کے ساتھ ایسوسی ایشن کی ملاقاتیں ہوچکی ہیں جس میں انڈسٹری اور اداروں کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا گیا ہے۔