سرکلرڈیٹ ادائیگی سے پاور سیکٹر میں انویسٹمنٹ کی راہ ہموار

عالمی سطح پر ساورن گارنٹی کے حوالے سے پاکستان کی ساکھ بہتر بنانے میں نمایاں مدد ملی

عالمی سطح پر ساورن گارنٹی کے حوالے سے پاکستان کی ساکھ بہتر بنانے میں نمایاں مدد ملی۔ فوٹو: فائل

موجودہ حکومت کی جانب سے گردشی قرضوں کی ادائیگی سے پاور سیکٹر میں غیرملکی اور مقامی نجی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

سابقہ حکومت کے دور میں گردشی قرضوں پر 49ارب روپے کا سود ادا کیا گیا، موجودہ حکومت کی جانب سے گردشی قرضوں کی ادائیگی سے عالمی سطح پر ساورن گارنٹی کے حوالے سے پاکستان کی ساکھ بہتر بنانے میں نمایاں مدد ملی ہے۔ پاور سیکٹر کے ذرائع کے مطابق سابقہ حکومت کی ناقص پالیسی کی وجہ سے پاکستان کی ساورن گارنٹی کو خطرات کا سامنا تھا گزشتہ سال واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث کچھ آئی پی پیز خود مختار ضمانت کا مطالبہ کر رہے تھے جو سرمایہ کاروں، بینکوں، بجلی کے شعبوں میں کمپنیوں، مقامی اور غیر ملکی تیل کمپنیاں اور اس کے ساتھ غیرملکی بینکوں کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔

آئی پی پیز کی جانب سے اس سلسلے میں بین الاقوامی عدالتوں میں نہ جانا ایک اچھا اشارہ تھا وگرنہ ایک بہت بڑا مسئلہ پیدا ہو سکتا تھاسابقہ دور حکومت میں بینکوں کوبے تحاشہ سود ادا کیاجس کی وجہ سے قومی خزانے کو 49ارب روپے کا اضافی نقصان اٹھانا پڑا۔ گزشتہ حکومت نے آئی پی پیز کی جانب سے پیش کی جانیوالے انوائسز کی اسکروٹنی کی تھی اور اس رقم پر سپریم کورٹ کی سطح پر کئی مرتبہ اتفاق کیا گیا تھا۔ اس وقت کیا جانیوالا آڈٹ کا عمل تقسیم کاری آڈٹ ہے اور بلنگ آڈٹ نہیں CPPA کے آن لائن بجلی مانیٹرنگ اور وصولی نظام میں انوائسز کی خود کار یکسانیت موجود ہوتی ہے۔




بجلی کے شعبے کو گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مکمل بریک ڈاؤن کا سامنا رہا تھاکیوں کہ بجلی کے شعبے کو قابل ادا رقوم 2008 میں 85ارب روپے سے بڑھ کر 2012کے آخر تک 500ارب روپے تک پہنچ گئی تھیں اور اس طرح ان میں 488.2 فی صد کا اضافہ دیکھا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ شارٹ فال میں بھی اضافہ دیکھا گیا جو 2008میں 1,850 میگا واٹ سے بڑھ کر 2012 میں 6,325میگاواٹ تک جا پہنچاجب کہ بجلی کی فی یونٹ قیمت بھی 2008میں 8.42 روپے سے 2012 میں 11.89 روپے تک جا پہنچی۔ ملکی ملکیت کی تقسیم کار کمپنیوں کی وصولیاں بھی متاثر ہوئیں اور 2008میں 92فی صد وصولیاں کم ہو کر 2012 میں 68فی صد رہ گئیں۔

GENCOs پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ''گزشتہ حکومت نے اپنے دور حکومت میں آئی پی پیز کی 100فی صد استعداد کو استعمال کرتے ہوئے اربوں روپے بچانے کی زحمت نہیں کی، اور اس کی بجائےGENCOs کے ذریعے مہنگی بجلی پیدا کرنے پر بہت زیادہ انحصار کیا گیا۔ اچھی کارکردگی دکھانے والے پلانٹس بند کر دیئے گئے اور GENCOs آئی پی پیز کی نسبت بہت زیادہ مہنگی بجلی پیدا کر رہی تھیں۔''انہوں نے کہا کہ 2002کی پالیسیوں کے تحت GENCOs کی جانب سے پیدا کی جانیوالی بجلی اگر آئی پی پیز کے ذریعے پیدا کی جاتی تو ستمبر 2012سے دسمبر 2012کے صرف چار ماہ کے عرصے کے دوران NTDC 3,802 ملین روپے کی بچت کی جاسکتی تھی۔
Load Next Story