سارک توانائی معاملے میں دنیا کا سب سے پسماندہ خطہ قرار

تھر کول تمام سارک ممالک کو سستی توانائی سے مالا مال کر سکتا ہے،صدر ویمن چیمبرفریدہ راشد

تھر کول تمام سارک ممالک کو سستی توانائی سے مالا مال کر سکتا ہے،صدر ویمن چیمبرفریدہ راشد۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس کی صدر فریدہ راشدنے کہا ہے کہ سارک توانائی کے معاملے میں دنیا کا سب سے غریب خطہ ہے۔

تھر کول پاکستان اور خطے کے تمام ممالک کو سستی توانائی سے مالا مال کر سکتا ہے جس سے معیشت اور کروڑوںغریبوں کا معیار زندگی بہتر ہو جائے گاموجودہ حالات میں تھر کے خزانے سے فوری فائدہ اٹھانا ضروری ہو گیا ہے جس میںمزید تاخیر کی بھاری قیمت چکانا ہو گی۔ تھر کول کے مناسب استعمال سے سست رفتار اقتصادی ترقی، بے روزگاری، مہنگائی اور بڑھتے ہوئے تیل کی درآمدی بل جیسے مسائل پر آسانی سے قابو پایا جا سکتا ہے۔ ایک بیان میں فریدہ راشد نے کہا کہ بارہویں سارک سربراہی کانفرنس میں تمام سربراہان مملکت نے تیزرفتار اور متوازن ترقی کے لیے توانائی کے شعبے میں تعاون کا فیصلہ کیا تھا مگر نو سال گزرنے کے باوجود اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔




سارک میں بھوٹان کے سوا تمام ممالک توانائی کی کمی کے مسائل سے دوچار ہیں اور اگلے چودہ سال میں انکی توانائی کی طلب میں دو سو فیصد اضافہ متوقع ہے۔ فریدہ راشد کے مطابق سارک ممالک اپنی توانائی کی ضروریات میں سے 29فیصد تیل، 48فیصد کوئلے، 15 فیصد گیس، 7فیصد پن بجلی اور ایک فیصد نیوکلئیر انرجی سے پوری کرتے ہیں۔کسی بھی ملک کا انرجی مکس دیرپا نہیں اور نہ ہی کسی کو اقتصادی ترقی اور توانائی کے رشتے کا مناسب ادراک ہے۔ دنیا کی 23فیصد آبادی سارک ممالک میں رہتی ہے جس میں سے 50 کروڑ خط غربت کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جنکا معیار زندگی بہتر بنانا رہنماؤں کی ذمے داری ہے۔
Load Next Story