وفاقی کابینہ کے اہم فیصلے
گزشتہ حکومتوں میں کابینہ کے اجلاسوں میں تسلسل نہیں تھا موجودہ حکومت کے چھ ماہ میں وفاقی کابینہ کے 26 اجلاس ہوئے۔
گزشتہ حکومتوں میں کابینہ کے اجلاسوں میں تسلسل نہیں تھا موجودہ حکومت کے چھ ماہ میں وفاقی کابینہ کے 26 اجلاس ہوئے۔ فوٹو: فائل
وفاقی کابینہ نے صنعتی زونز میں گیس اور بجلی کی فراہمی فوری یقینی بنانے کی ہدایت کردی جب کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان نے خارجہ محاذ پر بے پناہ کامیابیاں حاصل کی ہیں، سعودی ولی عہد کی آمد انتہائی منفرد نوعیت کی حامل ہے، وزیراعظم خود ان کا استقبال کرینگے۔
حکومت بلاشبہ جمہوری نظام کے تقاضوں کی تکمیل کرنے کی امکانی حد تک بھرپور کوششیں کررہی ہے ، اسے سب سے بڑی شکایت اس سسٹم سے ہے جس کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اسے چومکھی لڑائی لڑنا پڑی ہے،ایک طرف اپوزیشن کا ناقدانہ حصار اور میڈیا کی زبردست جوابدہی اس کی استقامت، اہلیت اور مسائل کے ادراک وحل کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہے دوسری جانب حکومتی وزرا اور مشیران باتدبیر طرز حکمرانی میں بنیادی تبدیلیوں کے جن دعوؤں پر اقتدار میں آئے ہیں انھیں اس کا فہم حاصل ہونا چاہیے کہ '' رموز مملکت خویش خسرواں دانند''، جب کہ حکومتی امور کی ادائیگی جمہوری اور پارلیمانی نظام کی باریکیوں کے گہرے علم ، حاصل شدہ تجربات ، سرکاری دفاتر اور نوکرشاہی کے کہنہ طرز عمل کا بھی گڈ گورننس کے فقدان میں بڑا دخل ہوتا ہے، پی ٹی آئی کو چاہیے کہ جو نصف سال کا عرصہ اسے ملا اسے وہ اپنی تربیت ، عوامی مسائل سے آگاہی کی شروعات، ریاستی اور حکومتی سسٹم کے فنکشنل پارٹ کی نزاکتوں اور جزئیات کے کماحقہ دسترسی کا ایک آرٹ سمجھ کر آگے بڑھے۔ مسائل آج کے نہیں برس ہا برس کے ملبہ کو پی ٹی آئی حکومت خود پر بوجھ نہ سمجھے بلکہ تبدیلی کے خوش کن نعرہ اور عوام سے کیے گئے دلفریب وعدوں پر منتخب ہوئی ہے۔
اب اس پر لازم ہے کہ بنیادی مسائل کے حل پر اپنی توجہ مرکوز کردے، باقی رہی خارجہ پالیسی ، داخلی امن وامان ، کرپشن ، جعلی اکاؤنٹس ، لوٹی گئی دولت کی وطن واپسی اور معاشی اور انتظامی اصلاحات ، بیوروکرٹک اکھاڑ پچھاڑ، محکمہ جاتی تطہیر، انقلابی تنظیم اور مالی شفافیت کا ٹاسک تو اس میں اہل اقتدار کو خود بھی اس چیز کا ادراک ہوگا کہ ان کے ہاتھ میں کوئی جادو کی چھڑی نہیں، مسائل رفتہ رفتہ حل ہونگے مگر اس کے لیے حکومت کی نیت اور سمت کی درستگی اولین شرط ہے۔کیونکہ جس طرح کی معیشت،سماجی ڈھانچہ،انتظامی مسائل ، کھربوں کے قرضوں کی اعصاب شکن صورتحال اور بیوروکریسی کا ورثہ موجود ہے یہ سارا حساب کتاب چلتا رہے گا ۔
اپوزیشن اور حکومت کی چپقلش، سیاسی محاذ آرائی اور کشمکش کی گرد بیٹھنے پر آمادہ ہوگی تو ریلیف سے فیضیاب عوام کاروبار حکومت میں اسموتھ سیلنگ کا نظارہ کرسکیں گے۔اس میں کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔آخر اس ملک میں ہنگامی وزیراعظم سمیت کئی کیئرٹیکر وزرائے اعظم بھی آئے، ملک معراج خالد، بلخ شیر مزاری، محمد خان جونیجو، غلام مصطفیٰ جتوئی، معین قریشی، شوکت عزیز، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، میر ظفراللہ جمالی، چوہدری شجاعت حسین اور جسٹس(ر) ناصرالملک نے بھی وزارت عظمیٰ کے نشیب و فراز دیکھے، ان کے دور میں کوئی سونامی یا مالی بحران اس شدت کے ساتھ سامنے نہیں آیا۔
بہر حال وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں وزیراطلاعات فواد چوہدری نے سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد کی مزید تفصیلات بتائیں ، ان کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان انتہائی منفرد نوعیت کا ہے ۔ سعودی عرب گوادر میں آٹھ ارب ڈالرکی آئل ریفائنری لگانے جا رہا ہے۔ سعودی عرب کے لیے ویزہ پالیسی میں بھی نرمی کی ہے۔ سعودی وفد میں کاروباری افراد، بڑی کمپنیوں کے سربراہان شامل ہوں گے، پوری دنیا سے پاکستان میں بڑے پیمانے کی سرمایہ کاری آرہی ہے، دورے میں گزشتہ دس سال سے زیادہ سرمایہ کاری معاہدوں پر دستخط ہوں گے۔ سیکیورٹی کا جہاں تک تعلق ہے باہر سے جو مہمان آرہے ہیں،ان کی سیکیورٹی کی ذمے داری ہماری ہے۔ سعودی ولی عہد کے دورے کے لیے گاڑیاں کرائے پر لینے کی خبروں میںکوئی صداقت نہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق پاکستان نے چھ ماہ میں خارجہ محاذ پر بے پناہ کامیابیاں حاصل کی ہیں، پاکستان مسلم امہ کے حوالے سے مثالی کردار ادا کر رہا ہے، افغانستان کے حوالے سے بھی ہمارے کردار کو سراہا جا رہا ہے، طالبان نمایندوں کے مذاکرات پاکستان میں بھی ہوں گے۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ گزشتہ حکومتوں میں کابینہ کے اجلاسوں میں تسلسل نہیں تھا موجودہ حکومت کے چھ ماہ میں وفاقی کابینہ کے 26 اجلاس ہوئے، جن میں اب تک 444 فیصلے کیے جا چکے ہیں،مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چھ ماہ میں کابینہ کے 26 اجلاس اور 440 فیصلوں کے نتیجے میں بجلی ، گیس کے بل بڑھے ، مہنگائی ہوئی ، ملک پر قرض بڑھ گئے اس کی تفصیل بھی قوم کو بتائیں ، فواد چوہدری نے بریفنگ میں اہم فیصلوں کی بریفنگ دیتے ہوئے کہ گیس سیکٹر میں بے پناہ گھپلے ہیں تاہم کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ صنعتی زونز میں گیس اور بجلی کی فراہمی فوری یقینی بنائی جائے گی۔
کابینہ اجلاس میں پمز کے بورڈ کی منظوری جب کہ اے این ایف پالیسی کابینہ میں پیش کی گئی ہے۔ کابینہ نے نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اورایراء کواکھٹا کرنے کی منظوری دی ہے۔ انھوں نے کہاکہ سوشل میڈیا کے حوالے سے قانون پہلے ہی موجود ہیں، ایف آئی اے کے قوانین بھی موجود ہیں، جو لوگ انتشار اور انتہا پسندی پھیلا رہے ہیں ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ بعض عناصر ہمیشہ یہی غلط تاثر دیتے ہیں کہ ملکی نظام خطرے میں ہے جب کہ سپریم کورٹ نے حسین حقانی کے خلاف میمو گیٹ کیس نمٹاتے ہوئے واضح طور پر کہاکہ مملکت خداداد پاکستان اتنی کمزور نہیں کہ ایک میمو سے لڑکھڑا جائے، افواج پاکستان، جمہوریت اور آئین کمزور نہیں بلکہ بہت مضبوط ہیں، گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں، دریں اثنا فنانشل ٹائمز کے مطابق آج کا پاکستان چھ ماہ قبل کے پاکستان سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔
اخبار کے مطابق پی ٹی آ ئی حکومت کی پالیسیوں کے باعث دنیا میں پاکستان کا وقار بحال ہو رہا ہے۔ آیندہ چند روز میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا دورہ اس سلسلے کی ایک اور کڑی ہے جو پاکستان کی معیشت کی بحالی میں اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ صرف چھ ماہ کے قلیل عرصے میں سفارتی و معاشی محاذ پر یہ تمام کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان بالکل درست سمت میں گامزن ہے۔جان ہاپکنز یونی ورسٹی کے اسکول آف ایڈوانسڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ڈین ولی نثر کا کہنا ہے کہ خطے میں پاکستان ایک نئے باب میں داخل ہو چکا ہے۔ اب افغانستان کے مسئلے کے کسی بھی حل کے لیے پاکستان ہی کی ضرورت ہے چنانچہ پاکستان امریکا کے ساتھ کھیلتے ہوئے مطالبات کرنے کی اچھی پوزیشن میں آ چکا ہے۔
امید کی جانی چاہیے کہ حکومت پاور پالیٹکس کی پیدا شدہ بے قابو ڈائنامکس کو معروف اور مسلمہ جمہوری خطوط پر ڈھالنے کے لیے افہام و تفہیم سے بھی کام لے۔ جمہوریت میں مشاورت کا فائدہ ہی ہوتا ہے۔حکومت بجلی ،گیس، سی این جی، مہنگائی، ٹرانسپورٹ،تعلیم و صحت کے شعبوں میں ہی درست اقدامات کرلے تو عوام سکھ کا سانس لے سکیں گے۔
حکومت بلاشبہ جمہوری نظام کے تقاضوں کی تکمیل کرنے کی امکانی حد تک بھرپور کوششیں کررہی ہے ، اسے سب سے بڑی شکایت اس سسٹم سے ہے جس کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اسے چومکھی لڑائی لڑنا پڑی ہے،ایک طرف اپوزیشن کا ناقدانہ حصار اور میڈیا کی زبردست جوابدہی اس کی استقامت، اہلیت اور مسائل کے ادراک وحل کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہے دوسری جانب حکومتی وزرا اور مشیران باتدبیر طرز حکمرانی میں بنیادی تبدیلیوں کے جن دعوؤں پر اقتدار میں آئے ہیں انھیں اس کا فہم حاصل ہونا چاہیے کہ '' رموز مملکت خویش خسرواں دانند''، جب کہ حکومتی امور کی ادائیگی جمہوری اور پارلیمانی نظام کی باریکیوں کے گہرے علم ، حاصل شدہ تجربات ، سرکاری دفاتر اور نوکرشاہی کے کہنہ طرز عمل کا بھی گڈ گورننس کے فقدان میں بڑا دخل ہوتا ہے، پی ٹی آئی کو چاہیے کہ جو نصف سال کا عرصہ اسے ملا اسے وہ اپنی تربیت ، عوامی مسائل سے آگاہی کی شروعات، ریاستی اور حکومتی سسٹم کے فنکشنل پارٹ کی نزاکتوں اور جزئیات کے کماحقہ دسترسی کا ایک آرٹ سمجھ کر آگے بڑھے۔ مسائل آج کے نہیں برس ہا برس کے ملبہ کو پی ٹی آئی حکومت خود پر بوجھ نہ سمجھے بلکہ تبدیلی کے خوش کن نعرہ اور عوام سے کیے گئے دلفریب وعدوں پر منتخب ہوئی ہے۔
اب اس پر لازم ہے کہ بنیادی مسائل کے حل پر اپنی توجہ مرکوز کردے، باقی رہی خارجہ پالیسی ، داخلی امن وامان ، کرپشن ، جعلی اکاؤنٹس ، لوٹی گئی دولت کی وطن واپسی اور معاشی اور انتظامی اصلاحات ، بیوروکرٹک اکھاڑ پچھاڑ، محکمہ جاتی تطہیر، انقلابی تنظیم اور مالی شفافیت کا ٹاسک تو اس میں اہل اقتدار کو خود بھی اس چیز کا ادراک ہوگا کہ ان کے ہاتھ میں کوئی جادو کی چھڑی نہیں، مسائل رفتہ رفتہ حل ہونگے مگر اس کے لیے حکومت کی نیت اور سمت کی درستگی اولین شرط ہے۔کیونکہ جس طرح کی معیشت،سماجی ڈھانچہ،انتظامی مسائل ، کھربوں کے قرضوں کی اعصاب شکن صورتحال اور بیوروکریسی کا ورثہ موجود ہے یہ سارا حساب کتاب چلتا رہے گا ۔
اپوزیشن اور حکومت کی چپقلش، سیاسی محاذ آرائی اور کشمکش کی گرد بیٹھنے پر آمادہ ہوگی تو ریلیف سے فیضیاب عوام کاروبار حکومت میں اسموتھ سیلنگ کا نظارہ کرسکیں گے۔اس میں کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔آخر اس ملک میں ہنگامی وزیراعظم سمیت کئی کیئرٹیکر وزرائے اعظم بھی آئے، ملک معراج خالد، بلخ شیر مزاری، محمد خان جونیجو، غلام مصطفیٰ جتوئی، معین قریشی، شوکت عزیز، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، میر ظفراللہ جمالی، چوہدری شجاعت حسین اور جسٹس(ر) ناصرالملک نے بھی وزارت عظمیٰ کے نشیب و فراز دیکھے، ان کے دور میں کوئی سونامی یا مالی بحران اس شدت کے ساتھ سامنے نہیں آیا۔
بہر حال وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں وزیراطلاعات فواد چوہدری نے سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد کی مزید تفصیلات بتائیں ، ان کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان انتہائی منفرد نوعیت کا ہے ۔ سعودی عرب گوادر میں آٹھ ارب ڈالرکی آئل ریفائنری لگانے جا رہا ہے۔ سعودی عرب کے لیے ویزہ پالیسی میں بھی نرمی کی ہے۔ سعودی وفد میں کاروباری افراد، بڑی کمپنیوں کے سربراہان شامل ہوں گے، پوری دنیا سے پاکستان میں بڑے پیمانے کی سرمایہ کاری آرہی ہے، دورے میں گزشتہ دس سال سے زیادہ سرمایہ کاری معاہدوں پر دستخط ہوں گے۔ سیکیورٹی کا جہاں تک تعلق ہے باہر سے جو مہمان آرہے ہیں،ان کی سیکیورٹی کی ذمے داری ہماری ہے۔ سعودی ولی عہد کے دورے کے لیے گاڑیاں کرائے پر لینے کی خبروں میںکوئی صداقت نہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق پاکستان نے چھ ماہ میں خارجہ محاذ پر بے پناہ کامیابیاں حاصل کی ہیں، پاکستان مسلم امہ کے حوالے سے مثالی کردار ادا کر رہا ہے، افغانستان کے حوالے سے بھی ہمارے کردار کو سراہا جا رہا ہے، طالبان نمایندوں کے مذاکرات پاکستان میں بھی ہوں گے۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ گزشتہ حکومتوں میں کابینہ کے اجلاسوں میں تسلسل نہیں تھا موجودہ حکومت کے چھ ماہ میں وفاقی کابینہ کے 26 اجلاس ہوئے، جن میں اب تک 444 فیصلے کیے جا چکے ہیں،مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چھ ماہ میں کابینہ کے 26 اجلاس اور 440 فیصلوں کے نتیجے میں بجلی ، گیس کے بل بڑھے ، مہنگائی ہوئی ، ملک پر قرض بڑھ گئے اس کی تفصیل بھی قوم کو بتائیں ، فواد چوہدری نے بریفنگ میں اہم فیصلوں کی بریفنگ دیتے ہوئے کہ گیس سیکٹر میں بے پناہ گھپلے ہیں تاہم کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ صنعتی زونز میں گیس اور بجلی کی فراہمی فوری یقینی بنائی جائے گی۔
کابینہ اجلاس میں پمز کے بورڈ کی منظوری جب کہ اے این ایف پالیسی کابینہ میں پیش کی گئی ہے۔ کابینہ نے نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اورایراء کواکھٹا کرنے کی منظوری دی ہے۔ انھوں نے کہاکہ سوشل میڈیا کے حوالے سے قانون پہلے ہی موجود ہیں، ایف آئی اے کے قوانین بھی موجود ہیں، جو لوگ انتشار اور انتہا پسندی پھیلا رہے ہیں ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ بعض عناصر ہمیشہ یہی غلط تاثر دیتے ہیں کہ ملکی نظام خطرے میں ہے جب کہ سپریم کورٹ نے حسین حقانی کے خلاف میمو گیٹ کیس نمٹاتے ہوئے واضح طور پر کہاکہ مملکت خداداد پاکستان اتنی کمزور نہیں کہ ایک میمو سے لڑکھڑا جائے، افواج پاکستان، جمہوریت اور آئین کمزور نہیں بلکہ بہت مضبوط ہیں، گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں، دریں اثنا فنانشل ٹائمز کے مطابق آج کا پاکستان چھ ماہ قبل کے پاکستان سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔
اخبار کے مطابق پی ٹی آ ئی حکومت کی پالیسیوں کے باعث دنیا میں پاکستان کا وقار بحال ہو رہا ہے۔ آیندہ چند روز میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا دورہ اس سلسلے کی ایک اور کڑی ہے جو پاکستان کی معیشت کی بحالی میں اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ صرف چھ ماہ کے قلیل عرصے میں سفارتی و معاشی محاذ پر یہ تمام کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان بالکل درست سمت میں گامزن ہے۔جان ہاپکنز یونی ورسٹی کے اسکول آف ایڈوانسڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ڈین ولی نثر کا کہنا ہے کہ خطے میں پاکستان ایک نئے باب میں داخل ہو چکا ہے۔ اب افغانستان کے مسئلے کے کسی بھی حل کے لیے پاکستان ہی کی ضرورت ہے چنانچہ پاکستان امریکا کے ساتھ کھیلتے ہوئے مطالبات کرنے کی اچھی پوزیشن میں آ چکا ہے۔
امید کی جانی چاہیے کہ حکومت پاور پالیٹکس کی پیدا شدہ بے قابو ڈائنامکس کو معروف اور مسلمہ جمہوری خطوط پر ڈھالنے کے لیے افہام و تفہیم سے بھی کام لے۔ جمہوریت میں مشاورت کا فائدہ ہی ہوتا ہے۔حکومت بجلی ،گیس، سی این جی، مہنگائی، ٹرانسپورٹ،تعلیم و صحت کے شعبوں میں ہی درست اقدامات کرلے تو عوام سکھ کا سانس لے سکیں گے۔