مصری فوج مظاہرے رکوانے میں ناکام جھڑپوں میں ہلاکتیں 200 ہوگئیں

جگہ نہیں چھوڑیں گے،کامیاب ہونگے ورنہ مرنے کو ترجیح دیں گے، ترجمان اخوان المسلمون.

تشدد پر تشویش ہے، حکومت آزادیِ اظہار کے حق کا احترام کرے، امریکا، جامعۃ الازہر کے شیخ اور عبوری نائب صدر کا بھی واقعات پر اظہار مذمت. فوٹو: رائٹرز

مصری حکومت اور فوج کی تنبیہ کے باوجود قاہرہ میں معزول صدر مرسی کے ہزاروں حامیوں کا دھرنا جاری ہے جبکہ جھڑپوں میں مزید80افراد ہلاک ہو گئے۔

مظاہرین نے اپنے کیمپ کے اردگرد مزید رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور عہد کیا کہ وہ اپنی جگہ نہیں چھوڑیں گے۔ بی بی سی کے مطابق اخوان المسلمین کے رہنماؤں نے مظاہرین سے خطاب میں کہا کہ وہ اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اخوان المسلمین کے ترجمان جہاد الہداد نے بتایا کہ مظاہرین ہفتے کو ہونے والی ہلاکتوں پر نہایت مشتعل مگر اسکے ساتھ پرعزم بھی ہیں، ہم ایک جائز مقصد کیلیے جدوجہد کر رہے ہیں، ہم کامیاب ہوں گے وگرنہ موت کو ترجیح دینگے۔ انھوں نے کہا کہ صدر مرسی کے ساتھ جو بھی سلوک ہواس سے بالاتر ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔ہماری تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔

شہریوں کو فوجی بغاوت سے پیدا ہونے والے خطرات اور ان کی جابرانہ حکمرانی کا اندازہ ہو رہا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق پورٹ سعید میں گزشتہ رات وقفے وقفے سے تشدد کے واقعات جاری رہے، سرکاری خبرررساں ایجنسی کے مطابق مرسی کے حامیوں کی تدفین کے موقع پر جھڑپوں میں29 افراد زخمی بھی ہوئے، حکام نے الزام لگایا کہ مرسی کے حامیوں نے اس دوران فائرنگ کی تاہم اخوان کے ترجمان نے اسکی تردید کی ہے، مخالفین نے اخوان المسلمون کے ہیڈکوارٹرز کو آگ لگا دی۔




آئی این پی کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد200سے زائد ہوگئی، سرکاری اسپتالوں میں ادویات نہ ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافہ ہوا جبکہ وزارت صحت نے اتوار کو قاہرہ میں 72 اور اسکندریہ میں 10ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ سرکاری خبررساں ادارے کے مطابق جزیرہ نما سینا میں فورسز کے ساتھ جھڑپ میں 10عسکریت پسند ہلاک ہوگئے جبکہ 20کو گرفتار کر لیا گیا، دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے مصری حکام سے شہریوں کے پرامن اجتماع اور آزادیِ اظہار کے حق کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اس انتہائی اشتعال انگیز ماحول میں مصری حکام کا یہ اخلاقی اور قانونی فریضہ ہے کہ وہ عوام کے پرامن اجتماع اور آزادیِ اظہار کے حقوق کا احترام کرے۔

عبوری نائبصدر محمد البراداعی اور عبوری نائب وزیر خارجہ نبیل فہمی کو خدشات سے آگاہ کر دیا ہے۔ امریکی وزیرِ دفاع چک ہیگل نے بھی مصری فوج کے سربراہ جنرل السیسی کو فون کیا اور تشدد کے حالیہ واقعات پر تشویش کا اظہار کیا، انکا کہنا تھا کہ مصری حکام جانوں کا ضیاع روکنے کیلیے اقدامات کریں، ادھر محمد مرسی کے2 بڑے مخالف رہنمائوں نے ہلاکتوں کی مذمت کی ہے۔ جامعہ الازہر کے الشیخ احمد الطیب نے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ عبوری نائب صدر محمد البرادی نے کہا ہے کہ شدید طاقت کا استعمال کیا گیا ہے۔
Load Next Story