لیبیا فسادات اور حملوں میں جیل سے ایک ہزار سے زائد قیدی فرار

سرحدی فوج کو الرٹ کر دیا، فرار ہونیوالوں کے نام بھی بھیج دئیے گئے ہیں، وزیر اعظم علی زیدان.

سرحدی فوج کو الرٹ کر دیا، فرار ہونیوالوں کے نام بھی بھیج دئیے گئے ہیں، وزیر اعظم علی زیدان. فوٹو: رائٹرز

لیبیا کے شہر بن غازی میں فسادات اور حملوں میں جیل سے ایک ہزار سے زائد قیدی فرار ہو گئے ہیں۔

ایک سیکیورٹی آفیشل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ال کوئفیا کی جیل میں فسادات ہوئے باہر سے بھی حملہ کیا گیا جس کے باعث ایک ہزار سے زائد مجرم فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ انھوں نے بتایا کہ اس موقع پر خصوصی فوج کو طلب کی گیا تاہم انہیں قیدیوں پر فائر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔




سکیورٹی آفیشل نے بتایا کہ فرار ہونے والے زیادہ تر قیدی عام جرائم کے باعث قید تھے جن میں افریقی ریاست کے شہری بھی شامل ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان قیدیوں میں سے کچھ پر سابق معمر قذافی کے دور میں جرائم کے ارتکاب کے مقدمات بھی تھے تاہم واقعے کے بعد بہت سے قیدیوں کو دوبارہ پکڑ لیا گیا۔ علی زیدان نے کہا کہ علاقے کے رہائشیوں نے جیل پر حملہ کر دیا کیونکہ وہ اپنے گھروں کے قریب مجرموں کو رکھنے کے خلاف تھے لیکن ہم نے سرحدی فوج کو الرٹ کر دیا ہے اور انھیں فرار ہونے والوں کے نام بھی بھیج دیے گئے ہیں۔
Load Next Story