عید کیلیے مردانہ ریڈی میڈ ملبوسات کی وسیع رینج متعارف دکانوں پر گہما گہمی

کاٹن کے سوٹ زیادہ فروخت ہونے لگے، کڑھائی والے کرتے اور واش اینڈ ویئر کے سوٹ کی مانگ میں اضافہ ہوگیا.

صدر میں سلے سلائے ملبوسات کی دکان پر نئے انداز کے کرتے سجائے گئے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

عیدپر مردانہ ریڈی میڈ ملبوسات کی وسیع رینج بازاروں میں متعارف کرادی گئی ہے، مختلف کمپنیاں برانڈڈ شلوار سوٹ بھی فروخت کررہی ہیں جن کی تشہیر کے لیے شہر بھر میں ہورڈنگ آویزاں کیے گئے ہیں۔

فنکار اور کھلاڑیوں کے مردانہ بوتیک اور آئوٹ لیٹس پر بھی بھرپور گہما گہمی دیکھی جارہی ہے شہر میں مردانہ ریڈی میڈ ملبوسات کے اہم تجارتی مراکز صدر کوآپریٹو مارکیٹ، کریم سینٹر، بوہری بازار، طارق روڈ کرتا گلی، بہادرآباد، حیدری، لیاقت آباد مارکیٹ میں قائم ہیں جہاں عید کیلیے ملبوسات کی بہترین ورائٹی فروخت کی جارہی ہے، عید کیلیے زیادہ تر کاٹن کے سوٹ فروخت کیے جاتے ہیں تاہم کڑھائی والے کرتے، چکن کے کرتے، کلیوں والے کاٹن کے کرتے فروخت کیے جا رہے ہیں، صدر بوہری بازار میں سستے ترین شلوار سوٹ فروخت کیے جارہے ہیں جن کی قیمت 450سے 600 روپے کے درمیان ہے، صدر کے ہی علاقے میں مشہور برانڈز کے آئوٹ لیٹ بھی قائم ہیں جہاں برانڈڈ سوٹ فروخت کیے جارہے ہیں۔

دکانداروں کے مطابق سال بہ سال ریڈی میڈ مردانہ شلوار سوٹ کے کاروبار میں اضافہ ہورہا ہے جس کی وجوہات سلائی کی اجرت میں اضافہ اور وقت کی کمی بتائی جاتی ہے، شہریوں کی اکثریت رمضان کے آخری ہفتے میں ریڈی میڈ مردانہ ملبوسات خریدنے کو ترجیح دیتی ہے، اس سال کالر اور گلے پر ہلکی کڑائی والے مردانہ سوٹ پسند کیے جارہے ہیں، بہادر آباد میں رمضان کے دوسرے ہفتے سے ریڈی میڈ مردانہ ملبوسات کی رعایتی سیل لگائی گئی ہے جہاں شلوار قمیص کا سوٹ 450 سے 650روپے میں فروخت کیا جارہا ہے جبکہ انڈین چکن کے مردانہ کرتے، دھاری دار کاٹن کے کرتے بھی مختلف قیمتوں پر فروخت کیے جارہے ہیں، برانڈڈ شلوار سوٹ کی قیمت 1200 سے 2500روپے وصول کی جارہی ہے۔




طارق روڈ کی کرتا گلی میں کاٹن، کھدر اور سلک کے مردانہ کرتے بھی فروخت کیے جارہے ہیں، کرتا گلی کراچی کے نوجوانوں کی پسندیدہ مارکیٹ ہے جہاں مختلف فنکاروں اور کھلاڑیوں کے مردانہ بوتیک بھی قائم ہیں جہاں شلوار سوٹ 2500سے 5000روپے تک میں فروخت کیے جارہے ہیں، حیدری مارکیٹ میں شلوار قمیص سوٹ کی قیمتیں کافی حد تک مناسب ہیں اور عمدہ سلائی اور کپڑے کا سوٹ 800سے 1200روپے تک میں دستیاب ہے، صدر کی کوآپریٹیو مارکیٹ کاٹن کے کرتا شلوار، قمیص شلوار اور فیشن کے کرتوں کی وجہ سے مشہور ہیں اس مارکیٹ میں کاٹن کے سوٹ کی بہترین ورائٹی موجود ہے کاٹن کے سوٹ 800 سے 1500روپے، کڑھائی والے کرتے 900سے 1200 روپے، کلیوں والے کرتا اور شلوار 600سے 800روپے تک میں فروخت کیا جارہا ہے۔

بچوں کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ سوٹ بازاروں میں دستیاب:

بچوں کے شلوار سوٹ بڑوں کے شلوار سوٹ کی قیمت کے برابر فروخت کیے جارہے ہیں، دکانداروں کا کہنا ہے کہ بچوں کے شلوار سوٹ کی تیاری میں بڑوں کے سوٹ سے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے اور بچوں کے شلوار سوٹ کی فروخت بھی بڑوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے، شیر خوار بچوں کیلیے خصوصی طور پر تیار شلوار سوٹ فروخت کیے جارہے ہیں جن کی قیمتیں 300سے 700 تک ہیں 3سال سے 5سال تک کی عمر کے بچوں کے شلوار سوٹ 600سے 1200تک فروخت کیے جارہے ہیں بچوں کے شلوار سوٹ کی بہترین ورائٹی شہر کے وسطی علاقوں کے بازاروں لیاقت آباد، واٹر پمپ انارکلی مارکیٹ، کریم آباد کے بازاروں میں فروخت کی جارہی ہے جبکہ نسبتاً مہنگے بازاروں طارق روڈ، بہادر آباد، کلفٹن کے بازاروں میں بچوں کے فینسی سوٹ بھی فروخت کیے جارہے ہیں۔ شہر میں قائم مختلف ڈپارٹمنٹل اسٹورز پر بھی بچوں کے شلوار سوٹ فروخت کیے جارہے ہیں جن کی قیمتیں عام بازاروں کی نسبت کم ہیں تاہم بازاروں کے برعکس ڈپارٹمنٹل اسٹورز پر ایک ہی کوالٹی کے شلوار سوٹ فروخت کیے جارہے ہیں۔

ریڈی میڈ ملبوسات کی لاگت میں اضافہ ہوگیا، تاجر:

ریڈی میڈ ملبوسات بنانے والے تاجروں کے مطابق ملبوسات کی لاگت میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے،کپڑے کی قیمت کیساتھ سلائی کے لوازمات کاج بٹن، بکرم وغیرہ کی قیمت میں اضافہ ہورہا ہے، ساتھ ہی کارخانوں میں سلائی کے کاریگروں کی اجرت بھی بڑھ رہی ہے جس سے مجموعی طور پر ریڈی میڈ ملبوسات کی قیمت بڑھ رہی ہے، ریڈی میڈ ملبوسات کی تیاری میں سب سے بڑا مسئلہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ قرار دی جارہی ہے، تاجروں کے مطابق بجلی کی مسلسل لوڈ شیڈنگ کے سبب ریڈی میڈ ملبوسات کی تیاری بری طرح متاثر ہورہی ہے اور کارخانوں میں جنریٹرز کے استعمال سے لاگت میں مزید اضافہ ہورہا ہے، ریڈی میڈ ملبوسات کی پیکنگ میں استعمال ہونے والی پلاسٹک کی تھیلیوں، گتے کے ڈبوں اور شاپنگ بیگز کی لاگت بھی بڑھ گئی ہے، مجموعی طور پر گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال ریڈی میڈ ملبوسات کی لاگت 20سے 25 فیصد تک بڑھ گئی ہے تاہم زیادہ تر ملبوسات گزشتہ سال کی قیمت پر ہی فروخت کیے جارہے ہیں، تاجروں کے مطابق ریڈی میڈ ملبوسات کے کاروبار میں ہر سال نئے تاجروں اور سرمایہ کاروں کا اضافہ ہورہا ہے اور مسابقت بڑھنے کی وجہ سے لاگت بڑھنے کے باوجود کم منافع پر ملبوسات فروخت کیے جارہے ہیں۔
Load Next Story