حکومتی اقدامات سے ٹارگٹ کلنگ میں کمی ہوئی قائم علی شاہ
سیاسی رہنما مجرموں اورپرچی مافیا کے خلاف حکومت کاساتھ دیں،وزیراعلیٰ سندھ
سیاسی رہنما مجرموں اورپرچی مافیا کے خلاف حکومت کاساتھ دیں،وزیراعلیٰ سندھ۔ فوٹو: ایکسپریس
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ حکومت کے فوری اورمؤثر اقدامات کی بدولت ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بڑی حد تک کمی اوربھتہ خوری کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔ان خیالات کااظہارانھوں نے چیف منسٹرہائوس میں عیدالفطرکی مبارکباد دینے کیلیے آنے والے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں اورعہدیداروں سے ملاقات کے دوران کیا۔
ملاقات کرنے والوں میں اے این پی سندھ کے صدرسینیٹر شاہی سید، بشیر جان ، امیر جماعت اسلا می کراچی محمد حسین محنتی ، جمعیت علماء اسلام کراچی کے امیر قاری محمد عثمان ، محمد اسلم غوری ، مولانا محمد صادق ، جے یو آئی کے سید حماداللہ شاہ ، پی ایم ایل (ق) کے حلیم عادل شیخ ، نظام مصطفیٰ پارٹی کے صدرحاجی حنیف طیب ، منہاج القرآن کے خواجہ محمد اشرف ، جماعت علماء پاکستان کے حاجی صدیق راٹھور ، عبداللہ غازی ، خان امان اللہ خان پی ایم ایل (قیوم لیگ) ، بشارت مرزا (پی ڈی پی) ، ملک ایوب اعوان (پی پی آئی) ، مفتی فیروزالدین ہزاروی (متحدہ علماء فورم) و دیگر شامل تھے۔
اس موقع پر مختلف رہنمائوں نے وزیراعلیٰ سے امن و امان سے متعلق معاملات و دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ رہنمائوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ منشیات فروشوں ، بھتہ خوروں ، دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔ سیاسی رہنمائوں نے مجرموں کے خلاف سخت سے سخت اقدامات پر بھی زور دیا تاکہ پر امن ماحول کو یقینی بنایا جاسکے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ حکومت کے فوری اورمؤثر اقدامات کی بدولت ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بڑی حد تک کمی اوربھتہ خوری کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔
انھوں نے سیاسی رہنمائوں پر زوردیاکہ وہ مجرموں اور پرچی مافیا کے خلاف اقدامات کے حوالے سے حکومت کے ساتھ تعاون کریں ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بڑی جدو جہد کے بعد مجرموں کو گرفتار کیا مگر انھیں عدالتوں نے ضمانتوں پر رہا کر دیا ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ لوگوں نے مختلف تجارتی مراکز میں رات گئے تک خریداری کی اور پر امن ماحول میں عیدالفطرمنائی۔
دریں اثناء وزیراعلیٰ نے پی پی پی کراچی ڈویژن کے عہدیداروں اور کارکنوں کے اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں تاج حیدر، آغا سراج درانی ، سعید غنی ، امین لاکھو ، صوبائی وزیر رفیق انجنئیر ، نجمی عالم ، مسرور احسن ، سینیٹر ڈاکٹر کریم خواجہ ، صدیق ابو بھائی ، راشد ربانی ، وقار مہدی بھی موجود تھے۔شرکا نے اقلیتی ورکرز ، لیاری کے مسائل ، اورنگی میں پارٹی کارکنوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں ، الیکشن کے لیے حلقہ بندیوں اوردیگر مسائل سے آگاہ کیا۔
ملاقات کرنے والوں میں اے این پی سندھ کے صدرسینیٹر شاہی سید، بشیر جان ، امیر جماعت اسلا می کراچی محمد حسین محنتی ، جمعیت علماء اسلام کراچی کے امیر قاری محمد عثمان ، محمد اسلم غوری ، مولانا محمد صادق ، جے یو آئی کے سید حماداللہ شاہ ، پی ایم ایل (ق) کے حلیم عادل شیخ ، نظام مصطفیٰ پارٹی کے صدرحاجی حنیف طیب ، منہاج القرآن کے خواجہ محمد اشرف ، جماعت علماء پاکستان کے حاجی صدیق راٹھور ، عبداللہ غازی ، خان امان اللہ خان پی ایم ایل (قیوم لیگ) ، بشارت مرزا (پی ڈی پی) ، ملک ایوب اعوان (پی پی آئی) ، مفتی فیروزالدین ہزاروی (متحدہ علماء فورم) و دیگر شامل تھے۔
اس موقع پر مختلف رہنمائوں نے وزیراعلیٰ سے امن و امان سے متعلق معاملات و دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ رہنمائوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ منشیات فروشوں ، بھتہ خوروں ، دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔ سیاسی رہنمائوں نے مجرموں کے خلاف سخت سے سخت اقدامات پر بھی زور دیا تاکہ پر امن ماحول کو یقینی بنایا جاسکے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ حکومت کے فوری اورمؤثر اقدامات کی بدولت ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بڑی حد تک کمی اوربھتہ خوری کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔
انھوں نے سیاسی رہنمائوں پر زوردیاکہ وہ مجرموں اور پرچی مافیا کے خلاف اقدامات کے حوالے سے حکومت کے ساتھ تعاون کریں ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بڑی جدو جہد کے بعد مجرموں کو گرفتار کیا مگر انھیں عدالتوں نے ضمانتوں پر رہا کر دیا ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ لوگوں نے مختلف تجارتی مراکز میں رات گئے تک خریداری کی اور پر امن ماحول میں عیدالفطرمنائی۔
دریں اثناء وزیراعلیٰ نے پی پی پی کراچی ڈویژن کے عہدیداروں اور کارکنوں کے اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں تاج حیدر، آغا سراج درانی ، سعید غنی ، امین لاکھو ، صوبائی وزیر رفیق انجنئیر ، نجمی عالم ، مسرور احسن ، سینیٹر ڈاکٹر کریم خواجہ ، صدیق ابو بھائی ، راشد ربانی ، وقار مہدی بھی موجود تھے۔شرکا نے اقلیتی ورکرز ، لیاری کے مسائل ، اورنگی میں پارٹی کارکنوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں ، الیکشن کے لیے حلقہ بندیوں اوردیگر مسائل سے آگاہ کیا۔