سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد

اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے نہ صرف ملکی معیشت کو بحران سے نکلنے میں مدد مل سکے گی۔

اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے نہ صرف ملکی معیشت کو بحران سے نکلنے میں مدد مل سکے گی۔فوٹو : فائل

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے غیر روایتی اور شاندار استقبال کی تیاریاں مکمل ہوگئی ہیں۔ سعودی شہزادہ محمد بن سلمان آج بروز اتوار جب اسلام آباد پہنچیں گے تو ان کا ایئرپورٹ پر تاریخی استقبال کیا جائے گا، وزیراعظم عمران خان خود ائیرپورٹ پہنچیں گے اورانھیں اپنے ساتھ وزیراعظم ہائوس لائیں گے جہاں باضابطہ استقبالیہ تقریب ہوگی اور گارڈآف آنر اور21 توپوں کی سلامی دی جائے گی، وزیراعظم کابینہ کے ارکان کا مہمان سے تعارف کرائیںگے۔ وفاقی دارالحکومت میں پیر کو عام تعطیل کا اعلان کردیا گیا ہے۔

سعودی ولی عہد وزیراعظم عمران خان سے ون آن ون ملاقات کریںگے۔ ولی عہد ایوان صدر بھی جائیں گے۔ حقیقت میں 16 سال کے طویل عرصہ کے بعد سعودی ولی عہد ایک اعلیٰ سطح کے سرمایہ کاری وفد کے ہمراہ پاکستان کے دورے پر آرہے ہیں ، سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دورے کے اقتصادی، سیاسی اور سماجی ثمرات و اثرات ہمہ گیر اور گیم چینجر ہوںگے جب کہ پاک سعودی تعلقات کی تجدید بھی اس دو روزہ دورہ کی اہم خصوصیت ہوگی۔

اقتصادی مبصرین نے شہزادہ محمد بن سلمان کے دورے کو پاکستان کے اقتصادی نظام کی از سر نو تعمیر اور ملکی معیشت کے استحکام کے لیے حکومتی کوششوں کو مہمیز کرنے میں ایک غیر معمولی پیش رفت قراردیا ہے۔ پاکستان کے عوام کی اپنے معزز مہمان کو خوش آمدید کہنے کے لیے بے تابی دیدنی ہے ۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت دیگر شاہی مہمانوں کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہنے کے لیے نورخان ائیربیس کے باہرائیرپورٹ پر بڑے بڑے بل بورڈز نصب کردئیے گئے ہیں۔ دارالحکومت کو دلہن کی طرح سجایا گیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق معزز مہمان کا دو روزہ دورہ 17 فروری سے شروع ہوگا۔ پروگرام کے حوالے سے کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ سعودی ولی عہد ایوان صدر جائیں گے جہاں صدر مملکت عارف علوی کے ساتھ ملاقات کے بعد اںکے اعزاز میں ظہرانہ دیا جائے گا، جس میں ولی عہد کا سو رکنی وفد، پاکستانی وزراء شرکت کریں گے۔ ایوان صدر میں پروقار تقریب کے دوران سعودی ولی عہد کو پاکستان کا سب بڑا سول اعزاز نشان پاکستان بھی دیا جائے گا۔


وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سعودی ولی عہد کی قیادت میں بڑے وفد کے دورہ سے ملک میں سرمایہ کاری آئے گی۔ انھوں نے کہا کہ قرضوں میں ڈوبے ہوئے تھے، اب اس مشکل وقت سے کافی حد تک نکل چکے ہیں، سعودی ولی عہد کی قیادت میں بڑے وفد کے دورہ سے ملک میں سرمایہ کاری آئے گی۔

مشیر تجارت عبدالرزاق دائود نے کہا ہے سعودی عرب کی سرمایہ کاری سی پیک کا متبادل نہیں ہے، سعودی سرمایہ کاری الگ سے براہ راست آرہی ہے، وزیراعظم نے ملک کوکاروبار دوست ممالک میں سو سرفہرست ممالک میں شامل کرنے کا ہدف دیا ہے۔

اسلام آباد میں سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین ہارون شریف اور سیکریٹری احمد نواز سکھیراکے ہمراہ پریس بریفنگ میں سعودی سرمایہ کاری کے حوالے سے تفصیلات بتائی گئیں، میڈیا کو بتایا گیا کہ سعودی ولی عہدکا دورہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے عہد کا آغاز ہوگا، سعودی ولی عہد کے دورے سے عالمی سرمایہ کاروں کو مثبت پیغام جائے گا، پاکستان خطے کے امن و استحکام میں قائدانہ کردار ادا کرنے والا ملک بن گیا، پاکستان معاہدوں میں شفافیت اور نظام کی بہتری کے ذریعے سرمایہ کاروں کو سہولت دے رہا ہے۔

سعودی ولی عہد کی آمد پر چار اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوںگے،آئل ریفائنری اور پیٹروکیمیکل سیکٹر میں تعاون اور دونوں ممالک میں متبادل توانائی منصوبوں میں تعاون کے ایم او یوز پر دستخط ہوںگے ، معدنی وسائل کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جائیں گے، متحدہ اپوزیشن کے رہنما شہباز شریف نے سعودی معاشی پیکیج کو فراخ دلانہ قراردیا ہے۔ وفاقی وزیرمذہبی امور نورالحق قادری کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان کا دورہ پاکستان دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کو مزید فروغ دے گا۔خوش آئند بات یہ ہے کہ سعودی عرب نے پاکستانیوں کے لیے ویزا فیسوں میں کمی کر دی ہے۔

بلاشبہ پاک سعودی اقتصادی تعلقات میں ایک نئے عہد کا آغاز ہو رہا ہے، اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے نہ صرف ملکی معیشت کو بحران سے نکلنے میں مدد مل سکے گی بلکہ حکومت کو اپنے دیگر معاشی منصوبوں پر عملدرآٓمد کے لیے دبائو سے بھی نجات ملے گی، ملک کو قرضوں کے بوجھ سے نجات دلانا حکومت کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے، تاہم حکومت ڈائنامک معاشی روڈ میپ کے ذریعہ بڑی پیش قدمی کرسکتی ہے، کم از کم سعودی ولی عہد کے دورے سے تو قوم کو یہی مثبت پیغام ملا ہے۔
Load Next Story