پیپلز پارٹی الیکشن کمیشن کی جانبداری کا معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھائے گی
چیف الیکشن کمشنر،چاروں ارکان مستعفی ہوجائیں،وجیہہ کوووٹ دینے کاسوال ہی پیدانہیں ہوتا،سینیٹر رضاربانی
آج قومی اسمبلی وسینیٹ کے اجلاسوں میں شرکت کرینگے لیکن کل صدارتی انتخاب والے دن پارلیمنٹ ہائوس نہیں جائیں گے،خورشیدشاہ۔ فوٹو: فائل
پیپلزپارٹی کے رہنما و قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشیدشاہ نے کہاہے کہ اپنی آزادی کے تحفظ میں ناکامی پرچیف الیکشن کمشنراور چاروں صوبوں کے اراکین مستعفی ہوجائیں۔
پیپلزپارٹی صدارتی انتخابات میں الیکشن کمیشن کی مبینہ''جانبداری''کامعاملہ پیر (آج) کوقومی اسمبلی اورسینیٹ میںاْٹھائے گی۔ آئی این پی کے مطابق اپنے انٹرویومیں انھوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی صدارتی انتخابات کے تبدیل شدہ شیڈول کوتسلیم نہیںکریگی اورمسلم لیگ (ن)کی حکومت،الیکشن کمیشن اورعدلیہ کے درمیان اتحاد پرآوازبلندکرتی رہیگی۔ انھوں نے کہاکہ اسمبلی میں تقریرکے دوران میںمیاںصاحب کوایم کیوایم سے رابطے پر مبارکباددوں گا اورلندن میں آل پارٹیزکانفرنس میں انکی جانب سے پیش کردہ قرارداد کا ذکر بھی کروں گاجس میں انھوں نے ایم کیوایم کو دہشتگرد جماعت کہا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کوتووزارتیں یاسپورٹ چاہئیں اس لئے وہ ن لیگ سے مل گئی ہے لیکن میاں نواز شریف اب سندھ کے قوم پرستوں کو کیا جواب دیں گے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ آج قومی اسمبلی وسینیٹ کے اجلاسوں میں شرکت کرینگے لیکن کل صدارتی انتخاب والے دن پارلیمنٹ ہائوس نہیںجائیں گے ۔ ادھرخورشید شاہ ہمشیرہ کے انتقال کے باعث سکھرروانہ ہوگئے وہ آج ہونیوالے اجلاس میںبھی شرکت نہیں کرسکیں گے۔ آن لائن کے مطابق پیپلزپارٹی کے سینئررہنمامیاںرضاربانی نے کہا ہے کہ بہترہوتاکہ اپوزیشن متحدہوکر صدارتی الیکشن کا بائیکاٹ کرتی تاہم تحریک انصاف کے فیصلے کااحترام کرتے ہیں۔ جسٹس وجیہہ الدین کو ووٹ دینے کے حوالے سے سوال پرانھوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی اور اتحادیوں نے صدارتی انتخابات کابائیکاٹ کردیاہے توووٹ دینے کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
پیپلزپارٹی صدارتی انتخابات میں الیکشن کمیشن کی مبینہ''جانبداری''کامعاملہ پیر (آج) کوقومی اسمبلی اورسینیٹ میںاْٹھائے گی۔ آئی این پی کے مطابق اپنے انٹرویومیں انھوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی صدارتی انتخابات کے تبدیل شدہ شیڈول کوتسلیم نہیںکریگی اورمسلم لیگ (ن)کی حکومت،الیکشن کمیشن اورعدلیہ کے درمیان اتحاد پرآوازبلندکرتی رہیگی۔ انھوں نے کہاکہ اسمبلی میں تقریرکے دوران میںمیاںصاحب کوایم کیوایم سے رابطے پر مبارکباددوں گا اورلندن میں آل پارٹیزکانفرنس میں انکی جانب سے پیش کردہ قرارداد کا ذکر بھی کروں گاجس میں انھوں نے ایم کیوایم کو دہشتگرد جماعت کہا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کوتووزارتیں یاسپورٹ چاہئیں اس لئے وہ ن لیگ سے مل گئی ہے لیکن میاں نواز شریف اب سندھ کے قوم پرستوں کو کیا جواب دیں گے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ آج قومی اسمبلی وسینیٹ کے اجلاسوں میں شرکت کرینگے لیکن کل صدارتی انتخاب والے دن پارلیمنٹ ہائوس نہیںجائیں گے ۔ ادھرخورشید شاہ ہمشیرہ کے انتقال کے باعث سکھرروانہ ہوگئے وہ آج ہونیوالے اجلاس میںبھی شرکت نہیں کرسکیں گے۔ آن لائن کے مطابق پیپلزپارٹی کے سینئررہنمامیاںرضاربانی نے کہا ہے کہ بہترہوتاکہ اپوزیشن متحدہوکر صدارتی الیکشن کا بائیکاٹ کرتی تاہم تحریک انصاف کے فیصلے کااحترام کرتے ہیں۔ جسٹس وجیہہ الدین کو ووٹ دینے کے حوالے سے سوال پرانھوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی اور اتحادیوں نے صدارتی انتخابات کابائیکاٹ کردیاہے توووٹ دینے کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔