ایک اور ڈرون حملہ

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی تحصیل شوال میں گزشتہ روز ایک بار پھر امریکا نے ڈرون حملہ کیا ہے۔۔۔۔

ڈرون حملوں سے پاک امریکا دوستانہ تعلقات، تعاون اور خطے میں امن و استحکام کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ۔ فوٹو: فائل

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی تحصیل شوال میں گزشتہ روز ایک بار پھر امریکا نے ڈرون حملہ کیا ہے' اس ڈرون حملے میں7افراد جاں بحق ہو گئے ہیں' بعض اطلاعات کے مطابق مرنے والوں کی تعداد 8 ہے' اس واقعے کے بارے میں میڈیا میں مختلف قسم کی اطلاعات آ رہی ہیں' بعض اطلاعات میں کہا جا رہا ہے کہ یہ حملہ تحصیل شوال کے علاقے زوے نروائے میں ایک کمپاؤنڈ پر کیا گیا'اس وقت افطار کا وقت تھا۔

یہ بھی کہا جارہا ہے کہ حملہ اتوار کی شام تحصیل شوال میں پاک افغان بارڈر کے قریب اس وقت کیا گیا جب کچھ افراد پیدل افغانستان سے پاکستان میں داخل ہو رہے تھے۔ ایسی اطلاع بھی ہے کہ جاں بحق ہونے والوں میں عرب باشندے شامل ہیں تاہم اس کارروائی میں کسی ہائی ویلیو ٹارگٹ کی ہلاکت کا دعویٰ سامنے نہیں آیا ہے۔ پاکستان نے روایتی انداز میں اس ڈرون حملے کی بھی مذمت کی ہے اور اسے پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف قرار دیا ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے اب کوئی نئی بات نہیں ہے' ایک دو ہفتے کے وقفے کے بعد کہیں نہ کہیں ڈرون حملہ ہوتا رہتا ہے' ان ڈرون حملوں کے خلاف سرکاری طور پر ہمیشہ احتجاج بھی کیا جاتا ہے۔ ماضی میں پارلیمنٹ سے قراردادیں بھی منظور کروائی گئیں مگر امریکی انتظامیہ نے ان کا نوٹس نہیں لیا اور ڈرون حملے مسلسل جاری ہیں۔ موجودہ حکومت کے مختصر سے عرصہ اقتدار میں بھی کئی ڈرون حملے ہو چکے ہیں۔ وفاقی کابینہ کے حلف اٹھانے سے پہلے ایک ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان کا اہم کمانڈر ولی الرحمن مارا گیا تھا' اس کے بعد جب وفاقی کابینہ حلف اٹھا رہی تھی' تب بھی شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل کے علاقے شوال میں ڈرون حملہ ہوا جس میں سات مشتبہ طالبان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

یوں دیکھا جائے تو ڈرون حملوں کے تسلسل میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ان حملوں کی وجہ سے پاکستانی قبائلی علاقوں کے عوام میں خوف و ہراس کے ساتھ ساتھ امریکا کے خلاف شدید غصہ پایا جاتا ہے۔پاکستان کے دیگر شہروں اور علاقوں میں بھی رائے عامہ ان حملوں کے خلاف ہے۔ اس حقیقت کا ادراک امریکی انتظامیہ کو بھی ہے، اس کے باوجود دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وہ ڈرون حملوں کو اہم سمجھتی ہے، اسی لیے وہ انھیں بند کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ ڈرون حملوں کا آغاز جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کے آخری برسوں میں ہوا تھا تاہم ان کے دور میں ایسے حملوں کی تعداد انتہائی کم تھی، اس لیے عوامی سطح پر اس حوالے سے کوئی ردعمل نہیں تھا لیکن بعد میں ڈرون حملوں میں تیزی آنے لگی۔


گزشتہ پانچ برسوں میں ڈرون حملوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھی ہے اور اسی تناسب سے ہلاکتوں کا گراف بھی اوپر گیا ہے۔ان حملوں میں جہاں القاعدہ اور طالبان کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا وہاں بے گناہ افراد بھی بڑی تعداد میں نشانہ بنے ہیں۔بے گناہ افراد خصوصاً خواتین اور بچوں کی اموات پر عوام میں شدید ردعمل پیدا ہوا۔ یہ حملے ابھی تک اسی تواتر سے جاری ہیں۔ شروع شروع میں حکومتی ایوانوں سے ان پے در پے حملوں کے خلاف دبی دبی احتجاجی آواز بھی بلند ہوئی، پھر باقاعدہ احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا لیکن اس کا کوئی نتیجہ سامنے نہ آ سکا۔ یوں پاکستان کا احتجاج امریکی انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے میں ناکام ثابت ہوا۔ اب تو میڈیا میں ایسی اطلاعات آ رہی ہیں کہ امریکا آیندہ 10 سال تک ڈرون حملے جاری رکھے گا' ان اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اپنی ڈرون پالیسی میں کوئی تبدیلی لانے پر آمادہ نہیں ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف ڈرون حملوں کو وطن عزیز کی خود مختاری کے منافی قرار دیتے رہے ہیں اور ان کے خیالات بالکل واضح ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران ڈرون حملے بند کرانے کی بات بھی کرتے رہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت ڈرون حملوں کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی لائحہ عمل تیار نہیں کر سکی اور وہ ابھی تک ابہام کا شکار ہے۔ تازہ حملے سے پہلے جو ڈرون حملہ ہوا تھا' اس پر وزیراعظم نواز شریف کی ہدایت پر امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج کیا جا چکا ہے۔ ایسا ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے اور اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ ڈرون حملوں کا ایشو کوئی معمولی نوعیت کا معاملہ نہیں ہے' اسے محض روایتی احتجاج سے حل نہیں کیا جا سکتا' ڈرون حملوں سے پیدا ہونے والے مسائل سے امریکا اور پاکستان کی حکومتیں اچھی طرح آگاہ ہیں۔

امریکی موقف تو واضح ہے لیکن پاکستان اس حوالے سے پوری طرح واضح نہیں ہے' ہر ڈرون حملے پر احتجاج کیا جاتا ہے لیکن اس کے بعد خاموشی ہوتی ہے۔ پاکستان میں یہ روایت بن گئی ہے کہ سیاستدان اور حکومت عوام کو سچ نہیں بتاتے' ڈرون حملوں کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، اس ایشو پر بھی عوام کو سچ نہیں بتایا جاتا۔ اس طرز عمل سے حکومت بھی مشکل میں رہتی ہے اور عوام بھی جذباتی ہیجان میں مبتلا رہتے ہیں۔سب کو پتہ ہے کہ افغانستان میں نیٹو اور امریکی افواج موجود ہیں۔وہ وہاں حالت جنگ میں ہیں۔طالبان بھی کارروائی کرتے رہتے ہیں۔

اب امریکا نے اگلے برس اپنی فوجوں کو افغانستان سے نکالنا ہے۔ افغانستان سے امریکی، نیٹو اور ایساف افواج کے انخلاء کا وقت قریب سے قریب تر آتا جا رہا ہے جس سے تمام متعلقہ فریقوں کے اضطراب میں اضافہ ہو رہا ہے۔امریکا کی کوشش ہے کہ وہ طالبان اور القاعدہ کو کمزور کرے۔ پاک آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کہہ چکے ہیں کہ افغانستان سے اتحادی فوجوں کا انخلا اتنا چھوٹا ایشو نہیں کہ اس کو چند منٹوں میں بیان کر دیا جائے تاہم انھوں نے امید ظاہر کی کہ اللہ تعالیٰ بہتر کرے گا۔

جنرل کیانی نے اپنے دو تین جملوں میں حالات جو تبصرہ کیا ہے اس میں ایک طرف تو امریکی فوجوں کے انخلاء کی پیچیدگیوں کی طرف اشارہ ہے تو دوسری طرف اس سے پاکستان پر اس کے مثبت اثرات کی آئینہ داری بھی ہوتی ہے۔ پاکستان کی مدد کے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی جا سکتی ہے نہ امریکی فوجوں کا پرامن انخلاء ممکن ہے۔ پاکستان اور امریکا ایک دوسرے کی پوزیشن کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ سیاستدانوں کو اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے ڈرون حملوں پر بات کرنی چاہیے' حکومت بھی اسی پس منظر میں ڈرون حملوں کے بارے میں ایسی پالیسی اپنائے جو ابہام سے پاک ہو۔عوام کو حقیقت کا علم ہوگا تو صورتحال میں بہتری آئے گی ، دوسری جانب امریکا کو بھی مذاکرات کے ذریعے ڈرون حملوں کے نقصانات کے بارے میں قائل کیا جائے ، اس طریقے سے ہی ڈرون حملے بند ہونے کی کوئی راہ نکل سکتی ہے۔
Load Next Story