پاور سیکٹر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی اطلاعات
بجلی کے بحران نے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ موجودہ حکومت جو ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بڑے پیمانے...
۔ پنجاب حکومت نے چین کے ساتھ چولستان میں شمسی توانائی سے ایک ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا معاہدہ کیا ہے. فوٹو: فائل
بجلی کے بحران نے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ موجودہ حکومت جو ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے راغب کررہی ہے، وہ بجلی کے بحران کو اولین ترجیحات میں رکھ کر اسے حل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ خوش آیند امر یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے گردشی قرضوں کی ادائیگی سے پاور سیکٹر میں غیر ملکی اور ملکی نجی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو گئی ہے اور اس سے عالمی سطح پر ساورن گارنٹی کے حوالے سے پاکستان کی ساکھ بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔
پاور سیکٹر میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیںچونکہ حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ تنہا توانائی بحران کو حل کر سکے لہٰذا اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو پاور سیکٹر میں سرمایہ کاری کے لیے ترغیبات دی جا رہی ہیں۔ وزیراعظم کے دورہ چین میں بھی پاور سیکٹر میں چینی سرمایہ کاروں کو ترغیبات دی گئیں جو چینی کمپنیوں نے قبول کر لیں۔ پنجاب حکومت نے چین کے ساتھ چولستان میں شمسی توانائی سے ایک ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ اس حوالے سے 20رکنی چینی انجینئرز کے وفد نے چولستان کا دورہ کیا جہاں انھیں مختلف محکموں کے افسروں کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر چینی انجینئرز نے یہ خوش خبری سنائی کہ وہ شمسی توانائی سے ایک ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ 2 ماہ میں شروع کر کے 6 ماہ میں مکمل کرناچاہتے ہیں۔
واپڈا حکام کے مطابق پیدا ہونے والی بجلی پہلے نیشنل گرڈ اسٹیشن میں جائے گی اور اس کے بعد جنوبی پنجاب سمیت مختلف علاقوں میں تقسیم کی جائے گی۔ چینی انجینئرز نے بتایا کہ چین میں شمسی توانائی سے 2 ہزار میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے کے پلانٹ لگائے جا چکے ہیں جو کامیابی سے چل رہے ہیں۔ ان پلانٹس میں استعمال ہونے والی سولر انرجی پلیٹس 25 سے 30 سال تک کار آمد رہتی ہیں جس کے بعد انھیں تبدیل کر دیا جاتا ہے جب کہ ان کے ساتھ لگائی جانیوالی ڈرائی بیٹریز 5 سے 10 سال تک کار آمد ہوتی ہیں۔ دوسری جانب صوبہ خیبر پختونخوا میں خیال خاور ہائیڈرو پراجیکٹ کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس کی بجلی کی پیداواری صلاحیت 122 میگاواٹ اور سالانہ 4260 میگاواٹ ہے۔ اس منصوبے کے لیے جرمنی کی حکومت نے 77 ملین یورو امداد فراہم کی ہے۔
پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کے مختلف ذرایع وسیع پیمانے پر موجود ہیں۔ چولستان اور تھر کے صحرائی علاقوں میں شمسی توانائی وافر مقدار میں موجود ہے، ساحلی علاقوں میں ہوائی چکیوں سے بجلی پیدا کر کے قریبی علاقوں کی ضرورت کو پورا کیا جا سکتا ہے، صوبہ خیبر پختونخوا میں پانی کے وافر ذخائر موجود ہیں جنھیں استعمال میں لا کر بجلی کی اتنی زیادہ مقدار پیدا کی جا سکتی ہے جو پورے ملک کی ضرورت کے لیے کافی ہے۔ اگر لگن اور خلوص نیت سے کوشش کی جائے تو بجلی کے بحران پر چند سال میں قابو پا کر ملک میں ترقی اور خوشحالی کے نئے در وا کیے جا سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے سابق حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث پاور سیکٹر کمزور پڑنے سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا عمل شدید متاثر ہوا۔
سابق دور حکومت میں بینکوں کو بے تحاشا سود ادا کیا گیا 'گردشی قرضوں پر 49 ارب کا سود ادا کرنے سے خزانے کو اضافی نقصان اٹھانا پڑا 'صورتحال اس قدر بگڑی کہ بجلی کے شعبے کو گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مکمل بریک ڈاؤن کا سامنا رہا کیوں کہ بجلی کے شعبے کو قابل ادا رقوم 2008ء میں 85 ارب روپے سے بڑھ کر 2012ء کے آخر تک 500 ارب روپے تک جا پہنچی اور بجلی کا شارٹ فال بتدریج بڑھتے بڑھتے 2012ء میں 6,325 میگاواٹ تک جا پہنچا۔ موجودہ حکومت نے بجلی کے بحران کے حل کو اپنی اولین ترجیح میں رکھا ہے کیونکہ توانائی کے بغیر ترقی کا تصور ہی ممکن نہیں اگر توانائی کا بحران جوں کا توں رہا تو سرمایہ کاری کا عمل بھی کمزور پڑ جائے گا۔ انھیں تلخ حقائق کا ادراک کرتے ہوئے حکومت نے گردشی قرضے ادا کرتے ہوئے پاور سیکٹر میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کر کے درست جانب قدم اٹھایا ہے۔
پاور سیکٹر میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیںچونکہ حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ تنہا توانائی بحران کو حل کر سکے لہٰذا اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو پاور سیکٹر میں سرمایہ کاری کے لیے ترغیبات دی جا رہی ہیں۔ وزیراعظم کے دورہ چین میں بھی پاور سیکٹر میں چینی سرمایہ کاروں کو ترغیبات دی گئیں جو چینی کمپنیوں نے قبول کر لیں۔ پنجاب حکومت نے چین کے ساتھ چولستان میں شمسی توانائی سے ایک ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ اس حوالے سے 20رکنی چینی انجینئرز کے وفد نے چولستان کا دورہ کیا جہاں انھیں مختلف محکموں کے افسروں کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر چینی انجینئرز نے یہ خوش خبری سنائی کہ وہ شمسی توانائی سے ایک ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ 2 ماہ میں شروع کر کے 6 ماہ میں مکمل کرناچاہتے ہیں۔
واپڈا حکام کے مطابق پیدا ہونے والی بجلی پہلے نیشنل گرڈ اسٹیشن میں جائے گی اور اس کے بعد جنوبی پنجاب سمیت مختلف علاقوں میں تقسیم کی جائے گی۔ چینی انجینئرز نے بتایا کہ چین میں شمسی توانائی سے 2 ہزار میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے کے پلانٹ لگائے جا چکے ہیں جو کامیابی سے چل رہے ہیں۔ ان پلانٹس میں استعمال ہونے والی سولر انرجی پلیٹس 25 سے 30 سال تک کار آمد رہتی ہیں جس کے بعد انھیں تبدیل کر دیا جاتا ہے جب کہ ان کے ساتھ لگائی جانیوالی ڈرائی بیٹریز 5 سے 10 سال تک کار آمد ہوتی ہیں۔ دوسری جانب صوبہ خیبر پختونخوا میں خیال خاور ہائیڈرو پراجیکٹ کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس کی بجلی کی پیداواری صلاحیت 122 میگاواٹ اور سالانہ 4260 میگاواٹ ہے۔ اس منصوبے کے لیے جرمنی کی حکومت نے 77 ملین یورو امداد فراہم کی ہے۔
پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کے مختلف ذرایع وسیع پیمانے پر موجود ہیں۔ چولستان اور تھر کے صحرائی علاقوں میں شمسی توانائی وافر مقدار میں موجود ہے، ساحلی علاقوں میں ہوائی چکیوں سے بجلی پیدا کر کے قریبی علاقوں کی ضرورت کو پورا کیا جا سکتا ہے، صوبہ خیبر پختونخوا میں پانی کے وافر ذخائر موجود ہیں جنھیں استعمال میں لا کر بجلی کی اتنی زیادہ مقدار پیدا کی جا سکتی ہے جو پورے ملک کی ضرورت کے لیے کافی ہے۔ اگر لگن اور خلوص نیت سے کوشش کی جائے تو بجلی کے بحران پر چند سال میں قابو پا کر ملک میں ترقی اور خوشحالی کے نئے در وا کیے جا سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے سابق حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث پاور سیکٹر کمزور پڑنے سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا عمل شدید متاثر ہوا۔
سابق دور حکومت میں بینکوں کو بے تحاشا سود ادا کیا گیا 'گردشی قرضوں پر 49 ارب کا سود ادا کرنے سے خزانے کو اضافی نقصان اٹھانا پڑا 'صورتحال اس قدر بگڑی کہ بجلی کے شعبے کو گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مکمل بریک ڈاؤن کا سامنا رہا کیوں کہ بجلی کے شعبے کو قابل ادا رقوم 2008ء میں 85 ارب روپے سے بڑھ کر 2012ء کے آخر تک 500 ارب روپے تک جا پہنچی اور بجلی کا شارٹ فال بتدریج بڑھتے بڑھتے 2012ء میں 6,325 میگاواٹ تک جا پہنچا۔ موجودہ حکومت نے بجلی کے بحران کے حل کو اپنی اولین ترجیح میں رکھا ہے کیونکہ توانائی کے بغیر ترقی کا تصور ہی ممکن نہیں اگر توانائی کا بحران جوں کا توں رہا تو سرمایہ کاری کا عمل بھی کمزور پڑ جائے گا۔ انھیں تلخ حقائق کا ادراک کرتے ہوئے حکومت نے گردشی قرضے ادا کرتے ہوئے پاور سیکٹر میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کر کے درست جانب قدم اٹھایا ہے۔