کراچی حصص مارکیٹ منافع کا حصول23400 پوائنٹس کی حد گر گئی
غیرملکیوں کی جانب سے سرمائے کاانخلامارکیٹ کو لے ڈوبا، انڈیکس182 پوائنٹس کی کمی سے23315 ہوگیا
201کمپنیوں کی قیمتوں میں کمی،سرمایہ کاروں کو39 ارب40 کروڑ روپے کا نقصان،24 کروڑ92 لاکھ حصص کے سودے فوٹو: فائل
کراچی اسٹاک ایکس چینج میں پیر کو مندی کے بادل چھائے رہے ۔
جس سے انڈیکس کی 23400 کی حد بھی گرگئی، مندی کے سبب 54.76 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے 39 ارب40 کروڑ39 لاکھ17 ہزار265 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک وتاجران کا کہنا تھا کہ صدرمملکت کے عہدے پر الیکشن کے معاملے پراپوزیشن جماعت کے بائیکاٹ اور تکنیکی درستگی کے منفی اثرات بھی کاروبار پر مرتب ہوئے اور بیشتر شعبوں کی جانب سے پرافٹ ٹیکنگ پر رحجان غالب رہا، ٹریڈنگ کے دوران مارکیٹ اتارچڑھائو کی زد میں رہی، مقامی کمپنیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، انفرادی سرمایہ کاروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر 72 لاکھ8ہزار752 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس کے نتیجے میں ایک موقع پر80 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس کی23500 کی نفسیاتی حد بحال ہوگیا تھا۔
لیکن اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے11 لاکھ 50 ہزار294 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے59 لاکھ82 ہزار214 ڈالر اور این بی ایف سیز کی جانب سے76 ہزار244 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا نے تیزی کو مندی میں تبدیل کردیا جس کے نتیجے میں کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس181.92 پوائنٹس کی کمی سے23315.15 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 160.91 پوائنٹس کی کمی سے18179.50 اور کے ایم آئی30 انڈیکس298.51 پوائنٹس کی کمی سے 40951.73 ہوگیا۔
کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت3.39 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر 24 کروڑ92 لاکھ11 ہزار80 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار367 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں142 کے بھائو میں اضافہ، 201 کے داموں میں کمی اور24 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
جس سے انڈیکس کی 23400 کی حد بھی گرگئی، مندی کے سبب 54.76 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے 39 ارب40 کروڑ39 لاکھ17 ہزار265 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک وتاجران کا کہنا تھا کہ صدرمملکت کے عہدے پر الیکشن کے معاملے پراپوزیشن جماعت کے بائیکاٹ اور تکنیکی درستگی کے منفی اثرات بھی کاروبار پر مرتب ہوئے اور بیشتر شعبوں کی جانب سے پرافٹ ٹیکنگ پر رحجان غالب رہا، ٹریڈنگ کے دوران مارکیٹ اتارچڑھائو کی زد میں رہی، مقامی کمپنیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، انفرادی سرمایہ کاروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر 72 لاکھ8ہزار752 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس کے نتیجے میں ایک موقع پر80 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس کی23500 کی نفسیاتی حد بحال ہوگیا تھا۔
لیکن اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے11 لاکھ 50 ہزار294 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے59 لاکھ82 ہزار214 ڈالر اور این بی ایف سیز کی جانب سے76 ہزار244 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا نے تیزی کو مندی میں تبدیل کردیا جس کے نتیجے میں کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس181.92 پوائنٹس کی کمی سے23315.15 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 160.91 پوائنٹس کی کمی سے18179.50 اور کے ایم آئی30 انڈیکس298.51 پوائنٹس کی کمی سے 40951.73 ہوگیا۔
کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت3.39 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر 24 کروڑ92 لاکھ11 ہزار80 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار367 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں142 کے بھائو میں اضافہ، 201 کے داموں میں کمی اور24 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔