انٹربینکڈالرکی قدر102روپے کی بلندترین سطح پرپہنچ گئی

ڈالر کی قیمت میں 50 پیسے کا اضافہ،روپے کی قدربہتربنانے کیلیے اقدامات بے سود ثابت ہوئے

ڈالر کی قیمت میں 50 پیسے کا اضافہ،روپے کی قدربہتربنانے کیلیے اقدامات بے سود ثابت ہوئے. فوٹو: فائل

اسٹیٹ بینک اور وزیر خزانہ کے اجلاس بے سود ثابت ہوئے، کاروبار کے دوران روپے کی قدر میں مزید 50 پیسے کمی سے انٹربینک میں ڈالر 102 روپے کی بلند سطح پر پہنچ گیا۔

روپے کی قدر میں مسلسل کمی کو دیکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کی اور کرنسی ڈیلرز کو طلب کر کے ڈالر کی بے جا خریداری پر بعض پابندیاں لگا دیں کہ شاید روپے کی قدر میں استحکام آئے، وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی کراچی آئے، منی چینجرز کو طلب کیا اور اپنی دانست میں روپے کو مضبوط کرنے کے لیے کئی فیصلے کیے۔




لیکن سب بے سود ثابت ہوئے، ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلے جاری ہے اور روپے کی قدر نیچے سے نیچے گری جا رہی ہے، ماہرین کہتے ہیں کہ درآمدی بل کی وجہ سے ڈالر کی طلب زیادہ ہے، سرمایہ کاروں کا موقف ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری نہیں ہورہی، ڈالر کہاں سے آئے، حکومت کہتی ہے کہ روپے کو مضبوط کریں گے، وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ڈالر نہیں چھاپے جاسکتے اور اسٹیٹ بینک کرنسی ڈیلرز پر ملبہ ڈالتا ہے، قصور وار کوئی بھی ہو لیکن یہ طے ہے کہ اسٹیک ہولڈرز ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں اور مقامی کرنسی ان الزامات تلے دبی جا رہی ہے۔
Load Next Story