پولیو کا خاتمہ ایک چیلنج

پولیوکے قطرے پلانے سے انکاری والدین کو زورکے بجائے پیار سے سمجھا کر اعتماد میں لیا جائے۔

پولیوکے قطرے پلانے سے انکاری والدین کو زورکے بجائے پیار سے سمجھا کر اعتماد میں لیا جائے۔ فوٹو: فائل

سال رواں کے دوران خیبرپختون خواہ میں پولیوکے دو کیسز کا سامنے آنا ، لاہور میں بھی پولیوکا کیس رپورٹ ہونا ، فیصل آباد اور راولپنڈی میں ماحولیاتی نمونے مثبت آنا انتہائی تشویش کا باعث ہیں۔ بچے ہمارا آنے والا کل ہیں ، مستقبل ہیں، انھیں پولیوسے بچانا، حکومت سمیت معاشرے کی مشترکہ ذمے داری ہے۔

دنیا کے متعدد ممالک پولیو فری ہوچکے ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں چوبیس سال بعد بھی ہم پولیوکا خاتمہ مکمل طور پر نہیں کرسکے ہیں، آخری ریکارڈ کے مطابق افغانستان میں2 پولیوکے کیس سامنے آئے ہیں جب کہ پاکستان میں4کیس رپورٹ ہوئے۔معاشرے میں شعور وآگہی کی کمی کے باعث پولیو مہم کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکی ہے۔

ایک پروپیگنڈا عام ہے کہ پولیوکے قطرے امریکا کا متنازعہ منصوبہ ہے ، یہ بات اُن سے پوچھی جائے جن کے گھر آج پولیو سے متاثرہ بچے موجود ہیں، ہمیں سوشل میڈیا پر پولیو کے خلاف مہم چلانے والوں کے مقابلے میں پولیوکے حق میں مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ اکثر لوگ مذہب کی آڑ لے کر پولیوکے قطرے بچوں کو پلانے سے انکارکرتے ہیں جب کہ دین میں بیماریوں سے بچنے کے لیے علاج اور احتیاطی تدابیر اختیارکرنے کے واضح احکامات موجود ہیں۔


گزشتہ برسوں میں پولیو کارکنوں کا قتل بھی اس مہم کی ناکامی کا سبب بنا ۔ دوسری جانب بلوچستان کا وسیع رقبہ اور بکھری آبادی پولیو مہم میں چیلنج کا نکتہ بنتی ہے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارکی زیر صدارت انسداد پولیو سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس میں پولیوکا کیس سامنے آنے کی وجوہات اور آیندہ کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جب کہ خیبرپختون خوا میں پشاور سمیت صوبے کے 21 اضلاع میں تین روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز کیا جارہا ہے۔

مہم کے دوران مقامی آبادی، افغان مہاجرین اور ٹی ڈی پیز کے 65 کیمپوں سمیت مجموعی طور پر پانچ سال۔سے کم عمر کے 47 لاکھ 45 ہزار748 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔حکومت تو پولیو کے خاتمے کے لیے سرتوڑ کوششیں کررہی ہے لیکن اس ضمن میں سماج ، سول سوسائٹی، میڈیا اور علمائے کرام کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ پولیو سے صرف ایک بچہ متاثر نہیں ہوتا بلکہ پورا معاشرہ مفلوج ہوجاتا ہے۔

پولیوکے قطرے پلانے سے انکاری والدین کو زورکے بجائے پیار سے سمجھا کر اعتماد میں لیا جائے کیونکہ یہ ہماری آنے والی نسلوں کے تحفظ اور بقا کا معاملہ ہے۔ پولیوکے مکمل خاتمے کے لیے ملک میں جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں۔

 
Load Next Story