انسداد نگلیریا کمیٹی غیر فعال جولائی میں پانی کا تجزیہ نہ ہو سکا
کمیٹی غیر فعال ہونے سے پانی کا تجزیہ بند ہوگیا،سیکریٹری صحت نے واٹربورڈ کو مکتوب بھیجا تھا
کمیٹی کے غیرفعال ہونے سے عوام میں تشویش کی لہر دوڑگئی جبکہ واٹربورڈ پانی کلورین کی مقدار جانچے بغیر شہریوں کو فراہم کررہا ہے۔ فوٹو: رائٹرز/ فائل
KARACHI:
کراچی میں انسداد نگلیریا کمیٹی غیر فعال ہوگئی یکم جولائی سے شہرکے کسی بھی مقام سے پانی میں کلورین جانچنے کیلیے نمونے حاصل نہیں کیے جاسکے۔
شہریوں کو معلوم نہیں کہ پانی میں کلورین موجود ہے یا اس کی مقدارکم یا زیادہ ہے، کراچی کے عوام کو سپلائی کیے جانے والے پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدار جانچنے کیلیے انسداد نگلیریا کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں محکمہ صحت، بلدیہ عظمی، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے حکام اور ای ڈی او ہیلتھ شامل تھے جن کا کام شہر کے مختلف علاقوں سے پانی کے نمونے حاصل کرکے ان کا تجزیہ کرنا تھا اور پانی میں کلورین کی مقدارکے حوالے سے مشترکہ رپورٹ جاری کرنا تھی، معلوم ہوا ہے کہ انسداد نگلیریا کمیٹی نے یکم جولائی سے پانی کے نمونے حاصل کیے اورنہ پانی میں کلورین کی مقدارکو جانچنے کی کوشش کی۔
کمیٹی کے غیرفعال ہونے سے عوام میں تشویش کی لہر دوڑگئی جبکہ واٹربورڈ پانی کلورین کی مقدار جانچے بغیر شہریوں کو فراہم کررہا ہے، سیکریٹری صحت جام انعام اللہ دھاریجو نے 2جولائی کو ایم ڈی واٹر بورڈ کو مکتوب لکھا تھا کہ مساجد، قبرستانوں اورسوئمنگ پولز اور واٹرپمپنگ ہاؤسز کو سپلائی کیے جانے والے پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدار یقینی بنائی جائے، یکم جولائی سے انسداد نگلیریاکمیٹی غیر فعال ہوگئی ہے اور جولائی میں انسداد نگلیریا کمیٹی نے پانی کے نمونے حاصل کیے اورنہ ہی پانی میں کلورین کی مقدارکو چیک کیا۔ مکتوب میں کہا گیا تھا کہ ہر تین دن بعد پانی کے نمونے حاصل کرکے کلورین کی مقدار کوچیک کیاجائے گا۔
واضح رہے کہ جون کے آخری ہفتے میں شہر بھر کے پانی کے کل نمونوں میں سے660 نمونوں میںکلورین موجود نہیں تھی جبکہ 530 نمونوں میںکلورین کی مطلوبہ مقدار کم تھی، ماہرین طب نے کہا ہے کہ شہر میں انسداد نگلیریا کمیٹی کے غیر فعال ہونے سے شہری ہائی رسک زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، رمضان میں نمازیوںکی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے اور مساجد کو فراہم کیے جانے والے پانی میں کلورین کی مقدارکا علم نہیں،کراچی میں نگلیریا جرثومے سے 4 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں تاہم متعلقہ حکام کی لاپرواہی سے کلورین جانچنے کا نظام بھی ختم کردیا گیا جس کے بعد شہریوں کی جانیں خطرے میں ہے۔
کراچی میں انسداد نگلیریا کمیٹی غیر فعال ہوگئی یکم جولائی سے شہرکے کسی بھی مقام سے پانی میں کلورین جانچنے کیلیے نمونے حاصل نہیں کیے جاسکے۔
شہریوں کو معلوم نہیں کہ پانی میں کلورین موجود ہے یا اس کی مقدارکم یا زیادہ ہے، کراچی کے عوام کو سپلائی کیے جانے والے پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدار جانچنے کیلیے انسداد نگلیریا کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں محکمہ صحت، بلدیہ عظمی، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے حکام اور ای ڈی او ہیلتھ شامل تھے جن کا کام شہر کے مختلف علاقوں سے پانی کے نمونے حاصل کرکے ان کا تجزیہ کرنا تھا اور پانی میں کلورین کی مقدارکے حوالے سے مشترکہ رپورٹ جاری کرنا تھی، معلوم ہوا ہے کہ انسداد نگلیریا کمیٹی نے یکم جولائی سے پانی کے نمونے حاصل کیے اورنہ پانی میں کلورین کی مقدارکو جانچنے کی کوشش کی۔
کمیٹی کے غیرفعال ہونے سے عوام میں تشویش کی لہر دوڑگئی جبکہ واٹربورڈ پانی کلورین کی مقدار جانچے بغیر شہریوں کو فراہم کررہا ہے، سیکریٹری صحت جام انعام اللہ دھاریجو نے 2جولائی کو ایم ڈی واٹر بورڈ کو مکتوب لکھا تھا کہ مساجد، قبرستانوں اورسوئمنگ پولز اور واٹرپمپنگ ہاؤسز کو سپلائی کیے جانے والے پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدار یقینی بنائی جائے، یکم جولائی سے انسداد نگلیریاکمیٹی غیر فعال ہوگئی ہے اور جولائی میں انسداد نگلیریا کمیٹی نے پانی کے نمونے حاصل کیے اورنہ ہی پانی میں کلورین کی مقدارکو چیک کیا۔ مکتوب میں کہا گیا تھا کہ ہر تین دن بعد پانی کے نمونے حاصل کرکے کلورین کی مقدار کوچیک کیاجائے گا۔
واضح رہے کہ جون کے آخری ہفتے میں شہر بھر کے پانی کے کل نمونوں میں سے660 نمونوں میںکلورین موجود نہیں تھی جبکہ 530 نمونوں میںکلورین کی مطلوبہ مقدار کم تھی، ماہرین طب نے کہا ہے کہ شہر میں انسداد نگلیریا کمیٹی کے غیر فعال ہونے سے شہری ہائی رسک زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، رمضان میں نمازیوںکی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے اور مساجد کو فراہم کیے جانے والے پانی میں کلورین کی مقدارکا علم نہیں،کراچی میں نگلیریا جرثومے سے 4 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں تاہم متعلقہ حکام کی لاپرواہی سے کلورین جانچنے کا نظام بھی ختم کردیا گیا جس کے بعد شہریوں کی جانیں خطرے میں ہے۔