نجم سیٹھی کے مشیر قانونی نسخے تیار کرنے میں مصروف

اقتدارکوطول دینے کی کوشش،بورڈآئین سے ماورا تقرری پربھی اعتراض نہیں رہا، پسندیدہ شقیں شامل کرانے کیلیے سرگرم

اقتدارکوطول دینے کی کوشش،بورڈآئین سے ماورا تقرری پربھی اعتراض نہیں رہا، پسندیدہ شقیں شامل کرانے کیلیے سرگرم۔ فوٹو: فائل

ذکا اشرف کے بقا کی ناکام جنگ لڑنے والے مشیر اب نجم سیٹھی کے اقتدار کو طول دینے کیلیے قانونی نسخے تیار کرنے میں مصروف ہوگئے۔

غیر جمہوری قرار پانے والے سابق چیئرمین پی سی بی کے جانثار ساتھی نگران سربراہ کے بھی ہمنوا بن گئے، پی سی بی آئین سے ماورا تقرری پر بھی کوئی اعتراض نہیں رہا، اختیارات میں اضافے کیلیے درکار پسندیدہ شقیں شامل کرانے کیلیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جانے لگا۔تفصیلات کے مطابق ذکاء اشرف کا انتخاب پی سی بی آئین کے پارٹ ivکی جن شقوں28،29 اور30کے تحت ہواانھیں عدالت غیر جمہوری اور اقتدار بحال رکھنے کیلیے دھوکا دہی کے مترادف قرار دے چکی، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جناب شوکت عزیز صدیقی نے سرپرست اعلیٰ کی طرف سے نامزدگی،کمیٹی کیلیے 2 ارکان کی تقرری اور گورننگ بورڈ ارکان کی توثیق جیسے اقدامات کو من پسند فیصلے کیلیے برائے نام کارروائی سے تعبیر کرتے ہوئے نئے انتخابات کرانے کا حکم دیا۔

عدالت نے سیاسی نامزدگیوں کے بجائے ریجنز، ڈسٹرکٹس اور ڈپارٹمنٹس پر مشتمل الیکٹورل کالج کے ذریعے بورڈ کے نئے سربراہ کے چناؤ کی ہدایت دی،حیرت کے بات یہ ہے کہ مرضی کے آئین کی بدولت مزید 4 سال کیلیے منتخب ہونے سے بقا کی ناکام جنگ لڑنے تک پی سی بی کے جو قانونی مشیر اور عہدیدار ذکاء اشرف کے ساتھ رہے، وہی نجم سیٹھی کے اقتدار کو طول دینے کیلیے قانونی نسخے تیار کرنے میں مصروف ہیں، غیر جمہوری قرار پانے والے سابق چیئرمین کے جانثار ساتھی اب نگران سربراہ کے بھی ہمنوا ہیں،انہی مشیروں نے ذکا اشرف دور میں جو آئین تیار کیا پہلے اس کی بھرپور وکالت کرتے رہے۔




دوسری طرف عدالتی فیصلے کے بعد نجم سیٹھی کی پی سی بی آئین سے ہٹ کر تقرری ہوئی تو انھیں کوئی اعتراض نہیں ہوا بلکہ وہ نگران چیئرمین کے اختیارات میں اضافے کیلیے درکار پسندیدہ شقیں شامل کرانے کیلیے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔آئین کے تحت عبوری چیئرمین کا تقرر گورننگ بورڈ کو کرنا ہوتااور وہ آرٹیکل 6 کی شق اے سے ای کے مطابق محدود اختیارات ہی استعمال کرسکتا ہے۔

نجم سیٹھی کو وزیر اعظم نے ذمہ داریاں سونپیں،بورڈ آفیشلز نے اب اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کردہ اپیل میں قائم مقام چیئرمین کیلیے بجٹ، کمیٹیوں کی تشکیل اور میڈیا رائٹس سمیت ایسی پاورز بھی استعمال کرنے کی اجازت مانگی ہے جن میں سے کچھ امور پر تو منتخب سربراہ بھی گوررننگ بورڈ کی منظوری کے بغیر قدم نہیں اٹھا سکتا۔ ذکاء اشرف کے انتخاب کا ذریعہ بننے والی جن شقوں کو عدالت نے کالعدم قرار دیا تھا،ان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا گیا کہ حکومت کو آئین کے پارٹiv میں مناسب ترامیم کی اجازت دی جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالت نے الیکٹورل کالج کا تعین کرکے جمہوری نظام لانے کا طریقہ کار بتادیا،اس ضمن میں کوئی مثبت پیش رفت کرنے کے بجائے اختیارات کیلیے آئینی ترامیم کی موشگافیاں چھوڑنے کا مقصد انتخابات کو تاخیر کا شکار کرنا ہے۔
Load Next Story