اُردو کرکٹ کمنٹری کے بانی منیرحسین انتقال کرگئے

منیرحسین نے1969ء میں پہلی بار ایک کلب ٹورنامنٹ کے فائنل کی ٹی وی اور ریڈیو پر چند منٹ کے لیے اردو میں کمنٹری کی۔

منیرحسین نے1969ء میں پہلی بار ایک کلب ٹورنامنٹ کے فائنل کی ٹی وی اور ریڈیو پر چند منٹ کے لیے اردو میں کمنٹری کی۔ فوٹو : فائل

اُردوکرکٹ کمنٹری کے بانی منیرحسین83 برس کی عمرمیں انتقال کرگئے، وہ کافی عرصے سے علیل تھے۔


انھیں بعد نماز عصر ڈیفنس قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا، نماز جنازہ میں سابق ٹیسٹ کپتان جاوید میانداد، راشد لطیف، وسیم باری، اقبال قاسم، سکندر بخت ،شعیب محمد اور صادق محمد سمیت کھیلوں سے تعلق رکھنے والے منتظمین، صحافیوں اورعزیزواقارب نے بڑی تعداد میں شرکت کی، انھوں نے پسماندگان میں اہلیہ،2بیٹوں اور2بیٹیوں کو چھوڑا، منیرحسین نے1969ء میں پہلی بار ایک کلب ٹورنامنٹ کے فائنل کی ٹی وی اور ریڈیو پر چند منٹ کے لیے اردو میں کمنٹری کی،اس وقت کرکٹ کمنٹری صرف انگریزی میں ہوتی تھی لیکن انھوں نے ارباب اختیارکی سوچ تبدیل کرتے ہوئے انھیں اردو میں کمنٹری شروع کرنے پر مجبورکیا اور اپنے منفرد انداز بیان سے اسے بے پناہ مقبول بنا دیا، ابتدا میں اردوکمنٹری کوانگریزی سے کم وقت ملتا تھا لیکن بعد میں اس کی مقبولیت نے برابری کا درجہ دیدیا۔

منیرحسین نے ان گنت بین الاقوامی میچزکی کمنٹری کی جن میں ملک سے باہر بھی لاتعداد مقابلے شامل ہیں، ہم عصرکمنٹیٹرزان کی کمنٹری کے ساتھ عادات واطوار اور دلوں کوگھر کرجانے والی طبعیت کے معترف رہے ہیں، منیرحسین نے نئے نوجوان کمنٹیٹرز کی بھی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی،وہ ایک طویل عرصے تک اخبارمیں ہفتہ وار کالم لکھا کرتے تھے اور اپنی تحریروں میں ہمیشہ کرکٹرزکے حقوق کا معاملہ اٹھاتے، منیر حسین نے کرکٹ سے اپنی وابستگی کا اظہار جریدے 'اخبار وطن' کی شکل میں بھی کیا جو کھیلوں کے حلقوں کا ایک پسندیدہ میگزین تھا، بعد میں انھوں نے شو بزنس پر بھی میگزین کا اجرا کیا اور ان کے پبلشنگ ہاؤس نے متعدد کتابیں بھی شائع کیں، منیر حسین کراچی کرکٹ کے معاملات میں ہمیشہ متحرک دکھائی دیے، وہ کراچی سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے، انھوں نے ایک فرسٹ کلاس میچ بھی کھیلا تھا۔
Load Next Story