ایس ایم ای قرضے 500 ارب روپے سے زائد کی تاریخی سطح تک پہنچ گئے
حکومتِ پاکستان بھی ایس ایم ای شعبے کو فروغ دینے کے لیے مکمل تعاون کر رہی ہے۔
حکومتِ پاکستان بھی ایس ایم ای شعبے کو فروغ دینے کے لیے مکمل تعاون کر رہی ہے۔ فوٹو:فائل
پاکستان میں بینکوں کی جانب سے پہلی بار ایس ایم ای فنانسنگ نے 500 ارب روپے کا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔
سال 2018 کے اختتام پر ایس ایم ای قرضے 14 فیصد اضافے کے ساتھ بڑھ کر 513 ارب روپے تک پہنچ گئے جبکہ اس کے مقابلے میں گذشتہ برس کی اسی مدت میں یہ 450 ارب روپے کی سطح پر تھے۔
مالیات کے باضابطہ ذرائع تک ایس ایم ایز کی رسائی بڑھانے پر اسٹیٹ بینک کی مسلسل توجہ کے باعث 2018 میں ایس ایم ای فنانسنگ میں خاصا اضافہ ہوا۔
بینکوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایس ایم ای اداروں کو بینکوں کے قابل بنانے کے لیے غیر مالی مشاورتی خدمات فراہم کریں۔ اس پالیسی کے تحت مرکزی بینک کے تربیتی ادارے میں اب تک ڈھائی ہزار سے زائد بینکاروں کو متعلقہ تربیت دی جا چکی ہے۔
واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان بھی ایس ایم ای شعبے کو فروغ دینے کے لیے مکمل تعاون کر رہی ہے۔
سال 2018 کے اختتام پر ایس ایم ای قرضے 14 فیصد اضافے کے ساتھ بڑھ کر 513 ارب روپے تک پہنچ گئے جبکہ اس کے مقابلے میں گذشتہ برس کی اسی مدت میں یہ 450 ارب روپے کی سطح پر تھے۔
مالیات کے باضابطہ ذرائع تک ایس ایم ایز کی رسائی بڑھانے پر اسٹیٹ بینک کی مسلسل توجہ کے باعث 2018 میں ایس ایم ای فنانسنگ میں خاصا اضافہ ہوا۔
بینکوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایس ایم ای اداروں کو بینکوں کے قابل بنانے کے لیے غیر مالی مشاورتی خدمات فراہم کریں۔ اس پالیسی کے تحت مرکزی بینک کے تربیتی ادارے میں اب تک ڈھائی ہزار سے زائد بینکاروں کو متعلقہ تربیت دی جا چکی ہے۔
واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان بھی ایس ایم ای شعبے کو فروغ دینے کے لیے مکمل تعاون کر رہی ہے۔