جیلوں پر دہشت گردوں کے متواتر حملے
دہشت گردوں نے پیر کی شب ڈیرہ اسماعیل خان کی سنٹرل جیل پر حملہ کر دیا جو راکٹ لانچروں اور دستی بموں کے علاوہ دیگر۔۔۔
ہشت گرد جیل کے گیٹ پرمیگافون کےذریعے جیل میں بند اپنےساتھیوں کےنام پکارتے رہے اور انہیں باہرلاتےرہے۔ فوٹو اے ایف پی
دہشت گردوں نے پیر کی شب ڈیرہ اسماعیل خان کی سنٹرل جیل پر حملہ کر دیا جو راکٹ لانچروں اور دستی بموں کے علاوہ دیگر خودکار ہتھیاروں سے لیس تھے، انھوں نے جیل کی عمارت کو دستی بموں سے نشانہ بنایا۔ اس دوران موقعے پر موجود پولیس اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی، جیل کے قریبی علاقوں میں 42 دھماکے سنے گئے۔ حملہ آوروں کی تعداد درجنوں میں تھی جن میں خود کش حملہ آور بھی شامل تھے اور یہ اسی طرح کا حملہ تھا جس طرح بنوں جیل پر کیا گیا تھا۔ فوری طور پر کسی جانی نقصان یا حملہ آوروں کے جیل پر حملے کا مقصد معلوم نہیں ہو سکا۔
جیل توڑنے یا دہشت گردوں اور خطرناک قیدیوں کے ساتھیوں کی طرف سے جیلوں پر منصوبہ بندی کے تحت حملہ کر کے اسیر رفقا کو چھڑانے کی دلیرانہ وارداتیں کسی فکشن سے کم نہیں۔اب تک ملک بھر کی متعدد بڑی جیلوں میں ایسے کئی واقعات رونما ہوئے، ہلاکتیں بھی ہوئیں، حملہ آور اس قدر مسلح، منظم اور طاقتور ثابت ہوئے کہ اپنے کئی ساتھیوں کو چھڑا کر لے جانے میں کامیاب ہوئے، اسے عموماً جیل انتظامیہ یا حکومتی نااہلی پر محمول کیا جاتا رہا لیکن گزشتہ چند برسوں میں دہشت گردی کے نئے عنصر کے باعث جیل توڑنے یا جیل پر ہولناک حملوں کے واقعات کا اگر سنجیدگی سے جائزہ نہ لیا گیا اور دہشت گردی میں ملوث قوتوں کی جانب سے جیلوں میں قیدیوں کی رہائی کے لیے بندوق اور طاقت کے بہیمانہ استعمال اور غیر قانونی کارروائیوں کی روک تھام میں تساہل برتا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
15 اپریل 2012 کو بنوں جیل کا واقعہ چشم کشا تھا جس میں طالبان نے حملہ کر کے اپنے ساتھیوں کو چھڑانے کی کارروائی کی اور 400 قیدی جیل سے فرار ہوئے جس میں 143 قیدیوںکو دوبارہ پکڑ کر جیل میں بند کردیا گیا، اس واقعہ کا پشاور ہائی کورٹ نے ازخود نوٹس لیا اور متعدد جیل افسران واہلکار معطل ہوئے، جب کہ بعض کا تبادلہ کیا گیا،15 افسروں پر ذمے داری عائد کی گئی، بتایا جاتا ہے کہ انٹیلی جنس رپورٹ میں اندیشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ بنوں جیل پر حملہ کا خطرہ ہے تاہم کوئی پیشگی اقدامات نہیں کیے گئے، اس طرح کے واقعات کا تسلسل اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ ملک میںجیل اصلاحات کے ہمیشہ صرف زبانی دعوے اور وعدے کیے جاتے رہے لیکن قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اسیروں کے نفسیاتی، معاشی، جذباتی اور ذہنی مسائل اور رجحانات کا کسی بھی انسانی حوالہ سے ٹھوس جائزہ نہیں لیا گیا، جیلوں کی سیکیورٹی بھی محل نظر رہی اور عملی طور پر سکھر جیل سمیت دیگر بڑی اور چھوٹی جیلوں سے قیدیوں کے وقتاً فوقتاً فرار، جیل کے اندر لڑائیوں، انتظامیہ سے مڈبھیڑ اور دو طرفہ ہلاکتوں کی اطلاعات کے بعد ضرورت اس امر کی تھی کہ جیل کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اصلاحات کا بیڑا اٹھایا جاتا۔
15 مئی1977کی لاء اینڈ جسٹس کمیشن کی جامع رپورٹ منظر عام پر آئی جس میں ڈیتھ سیل، پولیس، جوڈیشل لاک اپ، خطرناک قیدیوں کی علیحدگی، سیکیورٹی سسٹم، تعلیم، صحت، طبی سہولتوں، قیدیوں کی رشتہ داروں سے ملاقات، حکومتی افسران کے جیل معائنہ، جیل عملہ کی تربیت، طرز عمل، ضمانت کی درخواستوں کی پروسسینگ، جیل کے اندر مقدمات کی سماعت سمیت دیگر امور زیر غور لائے گئے۔ قانونی امداد، پیرول پر رہائی، قیدیوں سے لی گئی مشقت، جیل سپرنٹنڈنٹ کی طرف سے دی جانے والی سزائوں، ریمیشن، انڈر ٹرائل اسیروں سمیت متعدد مسائل کے حل کے لیے قانونی روڈ میپ دیا گیا۔ حتیٰ کہ اوپن جیل تک کا جدید تصور کمیشن کی رپورٹ کا حصہ بنا جس کا مطلب یہ تھا کہ جیل اصلاح اور بحالی کی چار دیواری ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ تقریباً ہر چیف جسٹس' وزرا، ممتاز شخصیات، این جی اوز اور میڈیا ٹیموں نے جیلوں کی حالت زار کا مشاہدہ بھی کیا، رپورٹیں دیں لیکن نہ معلوم کن وجوہ کی بنا پر جیلوں کی اصلاحات سے روگردانی کی گئی جس کا نتیجہ آج یہ نکلا ہے کہ دہشت گرد مسلح ہو کر جیلوں، پولیس وینوں پر حملہ کرتے ہیں اور فورسز سے ان کی دوبدو لڑائی سے علاقہ میدان جنگ بن جاتا ہے، اب بھی حکام نے اپنی آنکھیں نہ کھولیں تو کب کھولیں گے۔ تاہم جیل شکنی کے تازہ تریں واقعہ میں حملہ کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کی، فوری طور پولیس کی اضافی نفری اور فوج کی مدد بھی طلب کر لی گئی، جس پر جدید ہتھیاروں سے لیس فوجی جوان فوری طور پر پولیس اہل کاروں کی مدد کے لیے پہنچ گئے اور جیل کے اندر داخل ہو کر پوزیشنیں سنبھال لیں، پولیس حکام کے مطابق جیل میں خطرناک دہشتگردوں سمیت کالعدم تنظیموں کے دو سو پچاس سے زائد افراد قید ہیں، جنھیں چھڑانے کے لیے کالعدم تنظیموں نے حملہ کیا۔
پولیس کے مطابق جیل میں پانچ ہزار قیدی موجود ہیں۔ دہشت گرد پولیس کی وردی پہن کر جیل میں گھسے، اور یکے بعد دیگرے پچیس بموں سے حملہ کر دیا، جیل کے قریبی علاقے کے ایک گھر میں دہشتگردوں نے مورچے سنبھال لیے، دہشتگردوں نے جیل کی دیوار کو دھماکا خیز مواد سے توڑا اور سنٹرل جیل میں قید ساتھیوں کو فرار کرا دیا۔ آئی جی جیل خانہ جات کے مطابق حملہ آور جیل کی بیرونی دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوئے۔ مشیر جیل خانہ جات ملک قاسم کے مطابق جیل میں خطرناک قیدی موجود ہیں۔ یہ ساری تفصیل ہوش ربا ہے جس کے پیش نظر جیل سیکیورٹی کا نظام فوری تنظیم نو کا متقاضی ہے چونکہ سامنے ایک عفریت نما متوازی دشمن ہے جو ریاست سے چومکھی لڑائی لڑنے پر کمر بستہ ہے۔ ارباب اختیار اس بات کا بھی ادراک کریں کہ صرف جیلوں پر حملوں کا مسئلہ درپیش نہیں، بلکہ مجموعی طور پر کراچی سمیت بلوچستان، پنجاب اور پختونخوا سبھی دہشت گردی کی زد پر ہیں، ہنگو میں عسکریت پسندوں کے ایک حملے کے دوران القاعدہ سے تعلق رکھنے والا ایک شدت پسند مارا گیا۔
تھل میں ایف سی چیک پوسٹ پر شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا جوابی کارروائی کے دوران 6 سے8 عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا گیا، ایک کا تعلق القاعدہ سے بتایا جاتا ہے۔ حملہ آوروں کے قبضے سے عربی میں لکھی گئی دستاویزاور نقشے برآمد ہوئے ہیں۔ ادھر لنڈی کوتل ذکریا مسجد کے قریب ایف سی پکٹ پر نامعلوم شدت پسندوں کے حملے کے بعد صبح 7 بجے سے 12 بجے تک پاک افغان بارڈر بند رکھا گیا۔سیکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن شروع کیا جس میں17مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ کبل کے علاقہ سیگرام میں سیکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کے دوران مبینہ طور پر ایک شخص کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں فائرنگ سے پولیس اہلکار سمیت 10 افراد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے جب کہ ملک کے مختلف شہروں میں بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کے خلاف مشتعل افراد نے مسلح احتجاج کے دوران واپڈا کے دفاتر پر ہلہ بول کر سارا ریکارڈ، فرنیچر، ٹرانسفارمرز، کمپیوٹرز اور گاڑیوں کو آگ لگا دی، کئی شہروں میں شٹر ڈائون ہڑتال کی گئی اور احتجاجی مارچ کر کے دھرنا دیا گیا۔
مشتعل مظاہرین رمضان میں لوڈ شیڈنگ نہ ہونے کا دعویٰ کرنے والے سیاستدانوں کو بد دعائیں دیتے رہے، شدید گرمی اور حبس کے باعث خاتون سمیت تین افراد نے دم توڑ دیا۔یہ واقعات پاکستانی معاشرے کی شکست وریخت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ جیلوں کا وجود تہذیب انسانی کے اولین ادوار سے ہے، زمانہ قدیم کے جنگی قیدیوں کے بعد جدید دور میں جرائم پیشہ افراد کے لیے جیلیں بنائی گئیں، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور عدم رواداری کے جن کو قابو کرنے کے لیے حکومت جیل اور معاشرے کی یکساں اصلاح کے لیے آگے بڑھے۔ قانون شکن عناصر کو اب ریاستی غضبناکی کا مزید امتحان نہ لینے دیا جائے۔
جیل توڑنے یا دہشت گردوں اور خطرناک قیدیوں کے ساتھیوں کی طرف سے جیلوں پر منصوبہ بندی کے تحت حملہ کر کے اسیر رفقا کو چھڑانے کی دلیرانہ وارداتیں کسی فکشن سے کم نہیں۔اب تک ملک بھر کی متعدد بڑی جیلوں میں ایسے کئی واقعات رونما ہوئے، ہلاکتیں بھی ہوئیں، حملہ آور اس قدر مسلح، منظم اور طاقتور ثابت ہوئے کہ اپنے کئی ساتھیوں کو چھڑا کر لے جانے میں کامیاب ہوئے، اسے عموماً جیل انتظامیہ یا حکومتی نااہلی پر محمول کیا جاتا رہا لیکن گزشتہ چند برسوں میں دہشت گردی کے نئے عنصر کے باعث جیل توڑنے یا جیل پر ہولناک حملوں کے واقعات کا اگر سنجیدگی سے جائزہ نہ لیا گیا اور دہشت گردی میں ملوث قوتوں کی جانب سے جیلوں میں قیدیوں کی رہائی کے لیے بندوق اور طاقت کے بہیمانہ استعمال اور غیر قانونی کارروائیوں کی روک تھام میں تساہل برتا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
15 اپریل 2012 کو بنوں جیل کا واقعہ چشم کشا تھا جس میں طالبان نے حملہ کر کے اپنے ساتھیوں کو چھڑانے کی کارروائی کی اور 400 قیدی جیل سے فرار ہوئے جس میں 143 قیدیوںکو دوبارہ پکڑ کر جیل میں بند کردیا گیا، اس واقعہ کا پشاور ہائی کورٹ نے ازخود نوٹس لیا اور متعدد جیل افسران واہلکار معطل ہوئے، جب کہ بعض کا تبادلہ کیا گیا،15 افسروں پر ذمے داری عائد کی گئی، بتایا جاتا ہے کہ انٹیلی جنس رپورٹ میں اندیشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ بنوں جیل پر حملہ کا خطرہ ہے تاہم کوئی پیشگی اقدامات نہیں کیے گئے، اس طرح کے واقعات کا تسلسل اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ ملک میںجیل اصلاحات کے ہمیشہ صرف زبانی دعوے اور وعدے کیے جاتے رہے لیکن قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اسیروں کے نفسیاتی، معاشی، جذباتی اور ذہنی مسائل اور رجحانات کا کسی بھی انسانی حوالہ سے ٹھوس جائزہ نہیں لیا گیا، جیلوں کی سیکیورٹی بھی محل نظر رہی اور عملی طور پر سکھر جیل سمیت دیگر بڑی اور چھوٹی جیلوں سے قیدیوں کے وقتاً فوقتاً فرار، جیل کے اندر لڑائیوں، انتظامیہ سے مڈبھیڑ اور دو طرفہ ہلاکتوں کی اطلاعات کے بعد ضرورت اس امر کی تھی کہ جیل کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اصلاحات کا بیڑا اٹھایا جاتا۔
15 مئی1977کی لاء اینڈ جسٹس کمیشن کی جامع رپورٹ منظر عام پر آئی جس میں ڈیتھ سیل، پولیس، جوڈیشل لاک اپ، خطرناک قیدیوں کی علیحدگی، سیکیورٹی سسٹم، تعلیم، صحت، طبی سہولتوں، قیدیوں کی رشتہ داروں سے ملاقات، حکومتی افسران کے جیل معائنہ، جیل عملہ کی تربیت، طرز عمل، ضمانت کی درخواستوں کی پروسسینگ، جیل کے اندر مقدمات کی سماعت سمیت دیگر امور زیر غور لائے گئے۔ قانونی امداد، پیرول پر رہائی، قیدیوں سے لی گئی مشقت، جیل سپرنٹنڈنٹ کی طرف سے دی جانے والی سزائوں، ریمیشن، انڈر ٹرائل اسیروں سمیت متعدد مسائل کے حل کے لیے قانونی روڈ میپ دیا گیا۔ حتیٰ کہ اوپن جیل تک کا جدید تصور کمیشن کی رپورٹ کا حصہ بنا جس کا مطلب یہ تھا کہ جیل اصلاح اور بحالی کی چار دیواری ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ تقریباً ہر چیف جسٹس' وزرا، ممتاز شخصیات، این جی اوز اور میڈیا ٹیموں نے جیلوں کی حالت زار کا مشاہدہ بھی کیا، رپورٹیں دیں لیکن نہ معلوم کن وجوہ کی بنا پر جیلوں کی اصلاحات سے روگردانی کی گئی جس کا نتیجہ آج یہ نکلا ہے کہ دہشت گرد مسلح ہو کر جیلوں، پولیس وینوں پر حملہ کرتے ہیں اور فورسز سے ان کی دوبدو لڑائی سے علاقہ میدان جنگ بن جاتا ہے، اب بھی حکام نے اپنی آنکھیں نہ کھولیں تو کب کھولیں گے۔ تاہم جیل شکنی کے تازہ تریں واقعہ میں حملہ کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کی، فوری طور پولیس کی اضافی نفری اور فوج کی مدد بھی طلب کر لی گئی، جس پر جدید ہتھیاروں سے لیس فوجی جوان فوری طور پر پولیس اہل کاروں کی مدد کے لیے پہنچ گئے اور جیل کے اندر داخل ہو کر پوزیشنیں سنبھال لیں، پولیس حکام کے مطابق جیل میں خطرناک دہشتگردوں سمیت کالعدم تنظیموں کے دو سو پچاس سے زائد افراد قید ہیں، جنھیں چھڑانے کے لیے کالعدم تنظیموں نے حملہ کیا۔
پولیس کے مطابق جیل میں پانچ ہزار قیدی موجود ہیں۔ دہشت گرد پولیس کی وردی پہن کر جیل میں گھسے، اور یکے بعد دیگرے پچیس بموں سے حملہ کر دیا، جیل کے قریبی علاقے کے ایک گھر میں دہشتگردوں نے مورچے سنبھال لیے، دہشتگردوں نے جیل کی دیوار کو دھماکا خیز مواد سے توڑا اور سنٹرل جیل میں قید ساتھیوں کو فرار کرا دیا۔ آئی جی جیل خانہ جات کے مطابق حملہ آور جیل کی بیرونی دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوئے۔ مشیر جیل خانہ جات ملک قاسم کے مطابق جیل میں خطرناک قیدی موجود ہیں۔ یہ ساری تفصیل ہوش ربا ہے جس کے پیش نظر جیل سیکیورٹی کا نظام فوری تنظیم نو کا متقاضی ہے چونکہ سامنے ایک عفریت نما متوازی دشمن ہے جو ریاست سے چومکھی لڑائی لڑنے پر کمر بستہ ہے۔ ارباب اختیار اس بات کا بھی ادراک کریں کہ صرف جیلوں پر حملوں کا مسئلہ درپیش نہیں، بلکہ مجموعی طور پر کراچی سمیت بلوچستان، پنجاب اور پختونخوا سبھی دہشت گردی کی زد پر ہیں، ہنگو میں عسکریت پسندوں کے ایک حملے کے دوران القاعدہ سے تعلق رکھنے والا ایک شدت پسند مارا گیا۔
تھل میں ایف سی چیک پوسٹ پر شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا جوابی کارروائی کے دوران 6 سے8 عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا گیا، ایک کا تعلق القاعدہ سے بتایا جاتا ہے۔ حملہ آوروں کے قبضے سے عربی میں لکھی گئی دستاویزاور نقشے برآمد ہوئے ہیں۔ ادھر لنڈی کوتل ذکریا مسجد کے قریب ایف سی پکٹ پر نامعلوم شدت پسندوں کے حملے کے بعد صبح 7 بجے سے 12 بجے تک پاک افغان بارڈر بند رکھا گیا۔سیکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن شروع کیا جس میں17مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ کبل کے علاقہ سیگرام میں سیکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کے دوران مبینہ طور پر ایک شخص کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں فائرنگ سے پولیس اہلکار سمیت 10 افراد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے جب کہ ملک کے مختلف شہروں میں بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کے خلاف مشتعل افراد نے مسلح احتجاج کے دوران واپڈا کے دفاتر پر ہلہ بول کر سارا ریکارڈ، فرنیچر، ٹرانسفارمرز، کمپیوٹرز اور گاڑیوں کو آگ لگا دی، کئی شہروں میں شٹر ڈائون ہڑتال کی گئی اور احتجاجی مارچ کر کے دھرنا دیا گیا۔
مشتعل مظاہرین رمضان میں لوڈ شیڈنگ نہ ہونے کا دعویٰ کرنے والے سیاستدانوں کو بد دعائیں دیتے رہے، شدید گرمی اور حبس کے باعث خاتون سمیت تین افراد نے دم توڑ دیا۔یہ واقعات پاکستانی معاشرے کی شکست وریخت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ جیلوں کا وجود تہذیب انسانی کے اولین ادوار سے ہے، زمانہ قدیم کے جنگی قیدیوں کے بعد جدید دور میں جرائم پیشہ افراد کے لیے جیلیں بنائی گئیں، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور عدم رواداری کے جن کو قابو کرنے کے لیے حکومت جیل اور معاشرے کی یکساں اصلاح کے لیے آگے بڑھے۔ قانون شکن عناصر کو اب ریاستی غضبناکی کا مزید امتحان نہ لینے دیا جائے۔