ہمارا ایک اور صدر
قومی زندگی میں مرتبے اور مقام کے لحاظ سے بلند ترین الیکشن جو اس وقت، جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں، ہماری اسمبلیوں میں...
Abdulqhasan@hotmail.com
قومی زندگی میں مرتبے اور مقام کے لحاظ سے بلند ترین الیکشن جو اس وقت، جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں، ہماری اسمبلیوں میں منعقد ہو رہا ہے۔ اس کا نتیجہ ہمیں پہلے سے معلوم ہے اس طرح یہ الیکشن جس قدر بلند و بالا مرتبے اور مقام کے لیے ہے اتنا ہی یہ بدمزہ بھی ہے۔ اگر کسی میچ کا آپ کو پتہ ہو کہ نتیجہ کیا نکلنے والا ہے تو آپ یقیناً اس پر وقت ضایع نہیں کریں گے لیکن اس کے باوجود جس الیکشن میں آپ کے منتخب نمایندے ووٹ دے رہے ہوں اس کا نتیجہ معلوم ہونے کے باوجود اسے دیکھنا پڑتا ہے چلیے اسی لیے ہی سہی کہ کس کھلاڑی نے کیا کھیل کھیلا میچ فکس تھا یا شریفانہ تھا اور کس کھلاڑی کے کھیل کا کیا معیار تھا اور اسے دوسرے میچ میں بھی ٹیم میں لینا چاہیے یا نہیں لیکن ہمارا صدارتی الیکشن بالکل نئی روایات لے کر آرہا ہے اس کے متوقع کامیاب امیدوار کی معلوم خوبی یہ ہے کہ وہ آگرہ کے ایک ہنر مند خاندان کے فرد ہیں۔
ان کی جلیبیوں کی تعریف ڈاکٹر قدیر خان صاحب نے اور ان کے گھر کی دودھ ربڑی کی تعریف وزیر اعظم اور صدر کے سب سے بڑے حامی نے کی ہے۔ محترم ممنون حسین صاحب کے خاندان کے آگروی دوستوں اور واقف کاروں نے بتایا ہے کہ ان کے دادا استاد ظفر قریشی خوبصورت جوتے تیار کرنے میں ماہر تھے ایک برطانوی افسر کے حکم پر انھوں نے تربوز کی چھال سے جوتا تیار کیا جو پہچانا نہیں جاتا تھا ان کی اسی ہنر مندی کی وجہ سے انھیں استاد مانا اور کہا جاتا تھا یعنی استاد ظفر البتہ ممنون صاحب محترم کے والد کلو قریشی کے بارے میں کوئی خاص بات معلوم نہیں ہو سکی۔
1948 میں یہ خاندان آگرہ سے ہجرت کر کے پاکستان آیا تو روز گار کے لیے اپنا ہنر بھی ساتھ لایا البتہ ممنون صاحب نے کراچی کی مشہور مارکیٹ میں کپڑے کی تجارت شروع کی، ساتھ ساتھ وہ سیاست اور مسلم لیگی سیاست میں بھی سرگرم رہے اور یہ مسلم لیگی سیاست بھی وہ اپنے دیگر ہنر اور مہمارتوں کے ساتھ پاکستان لائے اور شروع دن سے میاں صاحب کے ساتھ رہے ہیں اور ان کے کام و دہن کی تسکین بھی کرتے رہے ہیں۔ میاں صاحب نے اپنے تجارت پیشہ اور ہنر مند ساتھی کو ملک کے اعلیٰ ترین منصب پر بٹھا دیا ہے۔ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔ جناب ممنون اردو بولنے والے ہیں اور اس لحاظ سے متحدہ والوں نے ان کا خیر مقدم کیا ہے اور اس بات کا حوالہ بھی دیا ہے کہ وہ اردو اسپیکنگ ہیں۔ یہ بات بھی ہے کہ جہاں میاں صاحب قبلہ کے منہ کا ذائقہ درست رہے گا وہاں ان کی اردو بھی بہتر ہو گی کیونکہ ان کی عجیب و غریب کابینہ میں ایسی جماندرو مادری زبان والا اور کوئی نہیں ہے۔
جناب ''صدر'' کی ذاتی خوبیاں ابھی ہمارے جیسے پنجابیوں سے پنہاں ہیں، اب جب وہ اسلام آباد کے حیران کن ایوان کے خیرہ کن ماحول میں سانس لیں گے تو رفتہ رفتہ ہمیں بھی ان کی خوبیوں کا پتہ چلتا رہے گا کہ میاں صاحب ان کی کس ادا پر مر مٹے ہیں کیونکہ میاں صاحب جیسا ذہین تاجر کسی خاص بات پر ہی خوش ہوتا ہے، کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک بے اختیار صدر ہوں گے۔ ان کے روایتی اختیارات کو محدود کیا جا چکا ہے اور وہ بڑی حد تک ایک رسمی اور آرائشی صدر ہوں گے لیکن ہم نے تو ایسے صدر بھی دیکھے ہیں جنہوں نے اسمبلی تک بھی کبھی نہیں دیکھی اگر کبھی دور سے دیکھ لی ہو تو الگ بات ہے ورنہ دن رات کی لیفٹ رائٹ کی دھمک سے دماغ ہل جاتا ہے اور کچھ ہوش باقی نہیں رہتا مگر جن کا ہوش باقی اور قائم رہتا ہے وہ کبھی ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور پھر ایوان صدر سے کم کے کسی ایوان تک نہیں ایوان صدر پہنچ کر ہی دم لیتا ہے۔
ہم نے یہ نظارہ بار بار کیا ہے اور اب بھی یہ نظارہ دکھانے والے ایک لیفٹ رائٹ کو نیم حوالات میں ملزم کی شکل اور حالت میں دیکھ رہے ہیں۔ آج ہی عدالت نے کہا ہے کہ پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ چلے ہی چلے۔ پرویز مشرف صاحب نے میڈیا کو زبردست قسم کی آزادی دی تھی جس کے شکریے کے طور پر میں نے انکو نیاز مندانہ پیغام بھجوایا تھا کہ کبھی پاکستان کا رخ نہ کریں لیکن ان کے دماغ میں رعونت کا ایسا خناس بھرا ہوا تھا کہ وہ بھاگم بھاگ پاکستان آ گئے اور اب نہ جانے کن سوچوں میں گم ہیں۔ کبھی کسی غیر ملک کے لیے اپنی خدمات کو یاد کرتے ہیں اور ان کا پھل ملنے کی امید میں ہیں اور کبھی یہ سوچتے ہیں کہ فوج بھی اپنے سابق سربراہ کی حفاظت کرے گی لیکن حالات کی تعزیریں بڑی سخت ہوتی ہیں۔
ان سے پہلے والے جنرل یحییٰ خان تو اس قدر سٹھیا گئے تھے کہ اتنا کچھ کر دینے کے باوجود اپنے آپ کو صدر سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ میں نے کیا کسی کھوتی کو ہاتھ لگایا ہے۔ بڑی مشکل سے ان کو راولپنڈی کی ہارلے اسٹریٹ میں ان کے گھر پر بند کر دیا گیا جہاں سے وہ دیوار کے قریب کسی میز وغیرہ پر کھڑے ہو کر سڑک سے گزرنے والوں کو دیکھتے رہتے تھے کبھی کوئی فوجی اگر عادتاً انھیں سیلوٹ کر دیتا تو وہ اچھل کر اس کا جواب دیتے ایک بار اسی اچھل کود میں وہ گر بھی گئے یہ ایک الگ قصہ ہے کہ بھاری بھرکم یحییٰ خان کو کس طرح سنبھالا گیا۔ اس کی صرف ایک خوبی تھی کہ مالی کرپشن اس کے نزدیک بھی نہیں پھٹکی اور بعض اوقات ادھار کی بھی پیتے رہے۔
بات ایک سویلین صدر سے شروع ہوئی تھی کہ انسان بعض اوقات بدل بھی جاتا ہے لیکن ممنون صاحب اگر اپنی ممنونیت بھول کر کسی ایسی نا ممکن تبدیلی سے آشنا بھی ہوئے تو اس میں میاں صاحبان بھی چپ نہیں رہیں گے جو برسوں کی جلا وطنی کے زخم خوردہ ہیں۔ آخر میں اپنے نئے صدر کو مبارک باد شاید کبھی وہ اخبار نویسوں کو یاد کریں اور ان کی بھی دودھ ربڑی سے خاطر تواضع کریں۔
ان کی جلیبیوں کی تعریف ڈاکٹر قدیر خان صاحب نے اور ان کے گھر کی دودھ ربڑی کی تعریف وزیر اعظم اور صدر کے سب سے بڑے حامی نے کی ہے۔ محترم ممنون حسین صاحب کے خاندان کے آگروی دوستوں اور واقف کاروں نے بتایا ہے کہ ان کے دادا استاد ظفر قریشی خوبصورت جوتے تیار کرنے میں ماہر تھے ایک برطانوی افسر کے حکم پر انھوں نے تربوز کی چھال سے جوتا تیار کیا جو پہچانا نہیں جاتا تھا ان کی اسی ہنر مندی کی وجہ سے انھیں استاد مانا اور کہا جاتا تھا یعنی استاد ظفر البتہ ممنون صاحب محترم کے والد کلو قریشی کے بارے میں کوئی خاص بات معلوم نہیں ہو سکی۔
1948 میں یہ خاندان آگرہ سے ہجرت کر کے پاکستان آیا تو روز گار کے لیے اپنا ہنر بھی ساتھ لایا البتہ ممنون صاحب نے کراچی کی مشہور مارکیٹ میں کپڑے کی تجارت شروع کی، ساتھ ساتھ وہ سیاست اور مسلم لیگی سیاست میں بھی سرگرم رہے اور یہ مسلم لیگی سیاست بھی وہ اپنے دیگر ہنر اور مہمارتوں کے ساتھ پاکستان لائے اور شروع دن سے میاں صاحب کے ساتھ رہے ہیں اور ان کے کام و دہن کی تسکین بھی کرتے رہے ہیں۔ میاں صاحب نے اپنے تجارت پیشہ اور ہنر مند ساتھی کو ملک کے اعلیٰ ترین منصب پر بٹھا دیا ہے۔ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔ جناب ممنون اردو بولنے والے ہیں اور اس لحاظ سے متحدہ والوں نے ان کا خیر مقدم کیا ہے اور اس بات کا حوالہ بھی دیا ہے کہ وہ اردو اسپیکنگ ہیں۔ یہ بات بھی ہے کہ جہاں میاں صاحب قبلہ کے منہ کا ذائقہ درست رہے گا وہاں ان کی اردو بھی بہتر ہو گی کیونکہ ان کی عجیب و غریب کابینہ میں ایسی جماندرو مادری زبان والا اور کوئی نہیں ہے۔
جناب ''صدر'' کی ذاتی خوبیاں ابھی ہمارے جیسے پنجابیوں سے پنہاں ہیں، اب جب وہ اسلام آباد کے حیران کن ایوان کے خیرہ کن ماحول میں سانس لیں گے تو رفتہ رفتہ ہمیں بھی ان کی خوبیوں کا پتہ چلتا رہے گا کہ میاں صاحب ان کی کس ادا پر مر مٹے ہیں کیونکہ میاں صاحب جیسا ذہین تاجر کسی خاص بات پر ہی خوش ہوتا ہے، کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک بے اختیار صدر ہوں گے۔ ان کے روایتی اختیارات کو محدود کیا جا چکا ہے اور وہ بڑی حد تک ایک رسمی اور آرائشی صدر ہوں گے لیکن ہم نے تو ایسے صدر بھی دیکھے ہیں جنہوں نے اسمبلی تک بھی کبھی نہیں دیکھی اگر کبھی دور سے دیکھ لی ہو تو الگ بات ہے ورنہ دن رات کی لیفٹ رائٹ کی دھمک سے دماغ ہل جاتا ہے اور کچھ ہوش باقی نہیں رہتا مگر جن کا ہوش باقی اور قائم رہتا ہے وہ کبھی ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور پھر ایوان صدر سے کم کے کسی ایوان تک نہیں ایوان صدر پہنچ کر ہی دم لیتا ہے۔
ہم نے یہ نظارہ بار بار کیا ہے اور اب بھی یہ نظارہ دکھانے والے ایک لیفٹ رائٹ کو نیم حوالات میں ملزم کی شکل اور حالت میں دیکھ رہے ہیں۔ آج ہی عدالت نے کہا ہے کہ پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ چلے ہی چلے۔ پرویز مشرف صاحب نے میڈیا کو زبردست قسم کی آزادی دی تھی جس کے شکریے کے طور پر میں نے انکو نیاز مندانہ پیغام بھجوایا تھا کہ کبھی پاکستان کا رخ نہ کریں لیکن ان کے دماغ میں رعونت کا ایسا خناس بھرا ہوا تھا کہ وہ بھاگم بھاگ پاکستان آ گئے اور اب نہ جانے کن سوچوں میں گم ہیں۔ کبھی کسی غیر ملک کے لیے اپنی خدمات کو یاد کرتے ہیں اور ان کا پھل ملنے کی امید میں ہیں اور کبھی یہ سوچتے ہیں کہ فوج بھی اپنے سابق سربراہ کی حفاظت کرے گی لیکن حالات کی تعزیریں بڑی سخت ہوتی ہیں۔
ان سے پہلے والے جنرل یحییٰ خان تو اس قدر سٹھیا گئے تھے کہ اتنا کچھ کر دینے کے باوجود اپنے آپ کو صدر سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ میں نے کیا کسی کھوتی کو ہاتھ لگایا ہے۔ بڑی مشکل سے ان کو راولپنڈی کی ہارلے اسٹریٹ میں ان کے گھر پر بند کر دیا گیا جہاں سے وہ دیوار کے قریب کسی میز وغیرہ پر کھڑے ہو کر سڑک سے گزرنے والوں کو دیکھتے رہتے تھے کبھی کوئی فوجی اگر عادتاً انھیں سیلوٹ کر دیتا تو وہ اچھل کر اس کا جواب دیتے ایک بار اسی اچھل کود میں وہ گر بھی گئے یہ ایک الگ قصہ ہے کہ بھاری بھرکم یحییٰ خان کو کس طرح سنبھالا گیا۔ اس کی صرف ایک خوبی تھی کہ مالی کرپشن اس کے نزدیک بھی نہیں پھٹکی اور بعض اوقات ادھار کی بھی پیتے رہے۔
بات ایک سویلین صدر سے شروع ہوئی تھی کہ انسان بعض اوقات بدل بھی جاتا ہے لیکن ممنون صاحب اگر اپنی ممنونیت بھول کر کسی ایسی نا ممکن تبدیلی سے آشنا بھی ہوئے تو اس میں میاں صاحبان بھی چپ نہیں رہیں گے جو برسوں کی جلا وطنی کے زخم خوردہ ہیں۔ آخر میں اپنے نئے صدر کو مبارک باد شاید کبھی وہ اخبار نویسوں کو یاد کریں اور ان کی بھی دودھ ربڑی سے خاطر تواضع کریں۔