احتساب کی شفافیت ضروری ہے

دنیا بھر میں کرپشن کے خلاف حکومتیں کارروائی کررہی ہیں، بدعنوانی کے خلاف لہر عالمی ہے۔

دنیا بھر میں کرپشن کے خلاف حکومتیں کارروائی کررہی ہیں، بدعنوانی کے خلاف لہر عالمی ہے۔ فوٹو:فائل

نیب راولپنڈی نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو اسلام آباد کے ہوٹل سے گرفتار کر کے احتساب عدالت سے 3 روزہ راہداری ریمانڈ کی منظوری حاصل کر لی اور سراج درانی کو نیب نے کراچی منتقل کر دیا۔

نیب کے ترجمان کے مطابق آغا سراج درانی کو آمدن سے زائد اثاثوں اور فنڈز میں خورد برد پر گرفتار کیا ہے، بدھ کو نیب کراچی نے ہیڈ کوارٹرز کے انٹیلی جنس ونگ اور نیب راولپنڈی کی معاونت سے آغا سراج درانی کو وفاقی دارالحکومت کے ایک ہوٹل سے حراست میں لینے کے بعد نیب راولپنڈی کے دفترمنتقل کیا گیا اور بعدازاں انھیں وہاں سے احتساب عدالت اسلام آباد میں پیش کردیا گیا۔

احتساب عدالت میں جج محمد بشیر کے روبرو نیب پراسیکیوٹر نے ملزم کے خلاف کراچی میں اثاثہ جات ریفرنس زیرسماعت ہونے کے حوالے سے دلائل دیے کہ انھیں مجاز اتھارٹی کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے پر گرفتار کیا گیا۔

اسپیکر سندھ اسمبلی کی گرفتاری بادی النظر میں ملک میں جاری احتساب کے عمل کا تسلسل ہے مگر جس ڈرامائی طریقے سے اسپیکر کو اسلام آباد کے ہوٹل سے گرفتار کر کے احتساب عدالت پیش کیا گیا اور بعد ازاں انھیں کراچی منتقل کیا گیا، اس پر سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا ان کو کراچی میں تحویل میں نہیں لیا جا سکتا تھا، صوبہ کی احتساب عدالتیں کیس کی سماعت کر سکتی ہیں۔

واضح رہے سندھ اسمبلی کے کئی اجلاس گزشتہ دنوں جاری رہے تھے، چنانچہ پیداشدہ ہیجانی کیفیت شدت پذیر نہ ہو، پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت نے شدید اضطراب اور برہمی کا اظہار کیا ہے، پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ حکومت کو مزید وقت نہیں دے سکتے۔


چیئرمین بلاول بھٹو نے جو بیرون ملک ہیں مطالبہ کیا ہے کہ نیب دوسروں کو بھی پکڑے، سندھ کی سیاست میں ہلچل ہے، جی ڈی اے نے ہنگامی اجلاس جب کہ ن لیگ اور جمعیت علمائے اسلام سمیت دیگر اپوزیشن پارٹیز نے صوبے کی سیاسی صورتحال پر لائحہ عمل کی تیاری کا عندیہ دیا ہے،آغا سراج درانی کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی ارکان نے اسپیکر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے، پیپلز پارٹی نے صوبائی اسمبلی کا فوری اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے، ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی نے آغا سراج درانی کے پروڈکشن آرڈر بھی جاری کر دیے ہیں۔ سندھ اسمبلی کے حوالہ سے چہ مگوئیاں بھی شروع ہو گئی ہیں۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اسپیکر سندھ اسمبلی کی گرفتاری تک بات نہیں رکے گی۔ چنانچہ صائب استدلال یہی ہے کہ احتسابی عمل کی شفافیت کا تسلسل جاری رہے، احتساب پر کسی کو اختلاف نہیں، جمہوریت اور احتساب لازم و ملزوم ہیں، سوال across the board یعنی بلاامتیاز کرپٹ عناصر پر بے عیب قانونی گرفت کا ہے، اور وہ بھی ٹھوس شواہد، شفاف تحقیقات کے بعد ، مناسب ہے کسی بھی سیاستدان کی گرفتاری سے اوور پلے کا تاثر نہ جائے، جن کے خلاف ناقابل تردید، اظہر من الشمس شواہد اور ثبوت ہیں ان کا احتساب کسی کو ناگوار خاطر نہیں گزرے گا مگر گرفتاریوں کی حکمت عملی میں تعصب اور صوبائیت کا شائبہ تک نہیں ملنا چاہیے۔

نیب کئی ہائی پروفائل کیسز میں معروف سیاستدانوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے، ملزمان کو گرفتار کر چکی ہے، پنجاب کے سینئر وزیرعلیم خان نیب کی تحویل میں ہیں، تاہم ملکی سیاسی صورتحال کی گرما گرم جدلیات بھی نظر سے اوجھل نہ ہو، سیاسی و جمہوری عمل کو کسی قسم کی زک نہیں پہنچنی چاہیے، جمہوریت کی قانونی حدود کا ہر کسی کو پاس و لحاط رکھنا اولین شرط ہے۔

دنیا بھر میں کرپشن کے خلاف حکومتیں کارروائی کررہی ہیں، بدعنوانی کے خلاف لہر عالمی ہے، اسپیکر کا عہدہ آئینی ہے جب کہ اسپیکر آئینی طور پر رکن اسمبلی کو اسمبلی میں بھی طلب کر سکتا ہے، جب کہ مذکورہ گرفتاری کے موڈس آپرینڈی پر صائب قانونی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، بعض قانونی ماہرین کے مطابق گرفتاری کراچی میں بھی ہو سکتی تھی، اسپیکر کے ملک سے اچانک باہر جانے یا تحقیقاتی عمل میں مزاحمت کا کوئی واقعہ بھی میڈیا میں رپورٹ نہیں ہوا، سماعت کے بعد اسپیکر سندھ اسمبلی نے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ میں اسلام آباد دعوت پر آیا تھا، عدالت میں اپنا کیس لڑوں گا، نیب ملک بھر میں کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے۔

یہ استدلالی انداز نظر ہے مگر کرپشن کے الزام میں گرفتار ہونے والے کئی ملزمان کو شواہد اور الزامات میں عدم مطابقت کے باعث عدالتوں سے ریلیف ملا ، ان کی ضمانتیں ہوئیں، بعض حساس ریفرنسز غیر موثر قرار پائے، جب کہ اہم کیسز میں بھی ملزمان کو ابھی تک سزا نہیں ہوئی، کئی حوالے ہیں ۔ اس لیے لازم ہے کہ تحقیقاتی ادارے احتساب کی شفافیت کا بھرم بھی قائم رکھیں تاکہ کوئی اس پر سیاست نہ کر سکے۔

 
Load Next Story