رمضان کے 2 عشروں میں قتل وغارت بم حملوں اور دھماکوں میں 120 افراد ہلاک
پولیس کی جانب سے اہلیان شہرکے تحفظ کے دعوے دھرے رہ گئے، رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں بھی قاتل مسلسل شہریوں کو۔۔۔
پولیس کی جانب سے اہلیان شہرکے تحفظ کے دعوے دھرے رہ گئے، رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں بھی قاتل مسلسل شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ فوٹو: فائل
FAISALABAD:
رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں بھی خون کی ہولی بدستور جاری ہے ، پولیس کی جانب سے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور امن و امان کو یقینی بنانے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔
رمضان المبارک کے 2 عشروں کے دوران شہر میں جاری ٹارگٹ کلنگ ، اغوا کے بعد قتل کر کے لاشیں پھینکنے ، دستی بم حملوں اور بم دھماکوں میں 120 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، تفصیلات کے مطابق رمضان المبارک کے 2 عشروں میں قتل و غارت گری اور شہر میں کھیلی جانے والی خون کی ہولی میں 120 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ، شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے دعوے دھرے رہ گئے قاتل شہر میں دنداناتے پھر رہے ہیں اور اپنے ہدف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
رمضان المبارک پہلے عشرے میں شہر بھر میں قتل و غارت گری کے دوران 50 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا، رمضان المبارک کے دوسرے عشرے کے دوران11 رمضان کو شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات میں خاتون سمیت 5 افراد کو زندگی سے محروم کر دیا گیا جبکہ اسی روز قائد آباد کے علاقے گلشن بونیر میں عوامی نیشنل پارٹی کے دفتر پر دستی بم حملے میں 2 افراد افروز خان اور بخت عالم جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے ۔
بارہویں رمضان کو دہشت گرد اورنگی ٹاؤن میں پولیس موبائل پر دستی بم پھینک کر فرار ہوگئے جو زور دار دھماکے سے پھٹ گیا تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا،12 رمضان کو شہر میں فائرنگ سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ، 13 رمضان کو فائرنگ کے واقعات میں خاتون سمیت 7 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جس میں سے بلدیہ اور لیاری آگرہ تاج سے 2 افراد کی لاشیں بھی ملی تھیں جنھیں اغوا کے بعد فائرنگ کر کے قتل کیا گیا ، 14 رمضان کو شہر میں ٹارگٹ کلنگ اور قتل و غارت گری کی دیگر وارداتوں میں 10 افراد کو زندگی سے محروم کر دیا گیا، 15 رمضان کو شہر میں فائرنگ کے واقعات میں پولیس ہیڈ کانسٹیبل سمیت 7 افراد سے جینے کا حق چھین لیا گیا جبکہ اسی روز سرسید ٹاؤن کے علاقے میں بھتہ نہ دینے پر مدینہ پینٹ کی دکان پر دستی بم حملے میں دکان کا ملازم زخمی ہوگیا،سائٹ کے علاقے بنوری ٹاؤن کے قریب ریمورٹ کنٹرول بم برآمد ہوا جسے قبل از وقت ناکام بنا دیا گیا ، 16 رمضان کو قتل و غارت گری میں 10 افراد کو گولیوں کا نشانہ بنا کر زندگی سے محروم کر دیا گیا۔
اسی روز رات کو چاکیواڑہ کے علاقے میں لیاری گینگ وار کے ملزمان کی جانب سے کچھی آبادی کی جانب دستی بموں سے حملے کیے گئے جس میں 3 افراد زخمی ہوئے، 17 رمضان کو مختلف علاقوں میں 6 افراد کو موت کی نیند سلا دیا گیا، 18 رمضان کو مختلف علاقوں میں 2 افراد کو ہلاک کیا گیا جبکہ پولیس اہلکار سمیت 3 افراد زخمی ہوئے، 19 رمضان کو پولیس اہلکار سمیت 10 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جس میں 2 مغوی افراد کی ہاتھ پاؤں بندھی لاشیں بھی ہیں جو بلدیہ ٹاؤن کے علاقے سے ملیں، 20 رمضان کو 8 افراد جاں بحق ہوئے جس میں سے شہر کے مختلف علاقوں میں سے7 افراد کی لاشیں ملیں جنھیں نامعلوم ملزمان نے اغوا کے بعد تشدد اور بعدازاں فائرنگ کر کے ہلاک کیا، نیو کراچی میں فائرنگ سے مذہبی جماعت کا کارکن جاں بحق ہوا ، رمضان کے 2 عشروں کے دوران 3 دستی بم حملوں اور 2 بم دھماکوں میں پولیس اہلکار اور اے این پی کے 2 کارکنان سمیت متعدد افراد جاں بحق جبکہ نصف درجن سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔
رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں بھی خون کی ہولی بدستور جاری ہے ، پولیس کی جانب سے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور امن و امان کو یقینی بنانے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔
رمضان المبارک کے 2 عشروں کے دوران شہر میں جاری ٹارگٹ کلنگ ، اغوا کے بعد قتل کر کے لاشیں پھینکنے ، دستی بم حملوں اور بم دھماکوں میں 120 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، تفصیلات کے مطابق رمضان المبارک کے 2 عشروں میں قتل و غارت گری اور شہر میں کھیلی جانے والی خون کی ہولی میں 120 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ، شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے دعوے دھرے رہ گئے قاتل شہر میں دنداناتے پھر رہے ہیں اور اپنے ہدف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
رمضان المبارک پہلے عشرے میں شہر بھر میں قتل و غارت گری کے دوران 50 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا، رمضان المبارک کے دوسرے عشرے کے دوران11 رمضان کو شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات میں خاتون سمیت 5 افراد کو زندگی سے محروم کر دیا گیا جبکہ اسی روز قائد آباد کے علاقے گلشن بونیر میں عوامی نیشنل پارٹی کے دفتر پر دستی بم حملے میں 2 افراد افروز خان اور بخت عالم جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے ۔
بارہویں رمضان کو دہشت گرد اورنگی ٹاؤن میں پولیس موبائل پر دستی بم پھینک کر فرار ہوگئے جو زور دار دھماکے سے پھٹ گیا تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا،12 رمضان کو شہر میں فائرنگ سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ، 13 رمضان کو فائرنگ کے واقعات میں خاتون سمیت 7 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جس میں سے بلدیہ اور لیاری آگرہ تاج سے 2 افراد کی لاشیں بھی ملی تھیں جنھیں اغوا کے بعد فائرنگ کر کے قتل کیا گیا ، 14 رمضان کو شہر میں ٹارگٹ کلنگ اور قتل و غارت گری کی دیگر وارداتوں میں 10 افراد کو زندگی سے محروم کر دیا گیا، 15 رمضان کو شہر میں فائرنگ کے واقعات میں پولیس ہیڈ کانسٹیبل سمیت 7 افراد سے جینے کا حق چھین لیا گیا جبکہ اسی روز سرسید ٹاؤن کے علاقے میں بھتہ نہ دینے پر مدینہ پینٹ کی دکان پر دستی بم حملے میں دکان کا ملازم زخمی ہوگیا،سائٹ کے علاقے بنوری ٹاؤن کے قریب ریمورٹ کنٹرول بم برآمد ہوا جسے قبل از وقت ناکام بنا دیا گیا ، 16 رمضان کو قتل و غارت گری میں 10 افراد کو گولیوں کا نشانہ بنا کر زندگی سے محروم کر دیا گیا۔
اسی روز رات کو چاکیواڑہ کے علاقے میں لیاری گینگ وار کے ملزمان کی جانب سے کچھی آبادی کی جانب دستی بموں سے حملے کیے گئے جس میں 3 افراد زخمی ہوئے، 17 رمضان کو مختلف علاقوں میں 6 افراد کو موت کی نیند سلا دیا گیا، 18 رمضان کو مختلف علاقوں میں 2 افراد کو ہلاک کیا گیا جبکہ پولیس اہلکار سمیت 3 افراد زخمی ہوئے، 19 رمضان کو پولیس اہلکار سمیت 10 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جس میں 2 مغوی افراد کی ہاتھ پاؤں بندھی لاشیں بھی ہیں جو بلدیہ ٹاؤن کے علاقے سے ملیں، 20 رمضان کو 8 افراد جاں بحق ہوئے جس میں سے شہر کے مختلف علاقوں میں سے7 افراد کی لاشیں ملیں جنھیں نامعلوم ملزمان نے اغوا کے بعد تشدد اور بعدازاں فائرنگ کر کے ہلاک کیا، نیو کراچی میں فائرنگ سے مذہبی جماعت کا کارکن جاں بحق ہوا ، رمضان کے 2 عشروں کے دوران 3 دستی بم حملوں اور 2 بم دھماکوں میں پولیس اہلکار اور اے این پی کے 2 کارکنان سمیت متعدد افراد جاں بحق جبکہ نصف درجن سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔