سرکاری عہدیدار کی تقرری میں بادشاہ کی مرضی نہیں چلے گی چیف جسٹس
جسٹس جواد،ڈی جی سول ایوی ایشن کی تقرری شفاف نہیں تھی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا عدالت میں بیان
نیواسلام آباد ایئرپورٹ کاسول ایوی ایشن سے ریکارڈطلب،تعمیرجاری رکھنے کاحکم،منصوبہ بچانا ہے،قوم 90ارب کہاں سے دیگی،چیف جسٹس۔ فوٹو: فائل
سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے نئے ایئر پورٹ پر تعمیراتی کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
نیو اسلام آباد ایئر پورٹ کی تعمیر میں بے قاعدگیوںکے مقدمے کی سماعت کے دوران منگل کو عدالت نے جوائنٹ وینچر میں شامل تعمیراتی کمپنی لیگن ٹیکنیکل کے وکیل خواجہ حارث کو ہدایت کی ہے کہ تحریری طور پر بتائیں کہ کیا پری کوالیفکیشن سے پہلے کے جوائنٹ وینچرکے مطابق ایئر پورٹ کی تعمیرکیلیے کمپنی تیار ہوگی یا نہیں؟۔چیف جسٹس نے کہا کہ پری کوالیفکیشن کے بعد جوائنٹ وینچرکو تبدیل کرنا غیر قانونی تھا ، تعمیر پری کوالیفکیشن سے پہلے جوائنٹ وینچر معاہدے کے مطابق ہونی چاہیے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل شاہ خاور نے عدالت کو بتایا ڈی جی سی اے اے خالد چوہدری کی تقرری7مئی 2011 کوہوئی، تقرری کا عمل غیر شفاف تھا۔
جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا سرکاری عہدیداروںکی تقرری کے عمل میں بادشاہ کی مرضی نہیں چلے گی، یہ ہم نے توقیر صادق کیس کے فیصلے میںکہہ دیا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہرکوئی اپنی جگہ بڑے بڑے دعوے کرتا ہے لیکن ہوتا وہی ہے جو یہاںکا دستور ہے، اتنا بڑا اسکینڈل ہوا ہے لیکن ابھی تک کسی کیخلاف کارروائی تک نہیں ہوئی، جس کو موقع مل جائے توکچھ نہیں چھوڑتا۔چیف جسٹس نے کہا جس نے تین نومبرکے غیر آئینی اقدام کی سمری آگے بھیجی تھی وہ وزیر قانون مقرر ہوئے لیکن جب پرویز مشرف کیس میں اس بارے میں درخواست آئی تو وہ خود مستعفی ہوگئے۔ آئی این پی کے مطابق عدالت نے سول ایوی ایشن کو نیو اسلام آباد ایئرپورٹ کے حوالے سے تمام ریکارڈ یکم اگست تک پیش کرنے کا حکم دیاہے۔عدالت نے کہا کہ اگر سول ایوی ایشن ریکارڈ دینے میں تاخیرکرے تو ایف آئی اے کی ذریعے منگوایا جائے۔
نیو اسلام آباد ایئر پورٹ کی تعمیر میں بے قاعدگیوںکے مقدمے کی سماعت کے دوران منگل کو عدالت نے جوائنٹ وینچر میں شامل تعمیراتی کمپنی لیگن ٹیکنیکل کے وکیل خواجہ حارث کو ہدایت کی ہے کہ تحریری طور پر بتائیں کہ کیا پری کوالیفکیشن سے پہلے کے جوائنٹ وینچرکے مطابق ایئر پورٹ کی تعمیرکیلیے کمپنی تیار ہوگی یا نہیں؟۔چیف جسٹس نے کہا کہ پری کوالیفکیشن کے بعد جوائنٹ وینچرکو تبدیل کرنا غیر قانونی تھا ، تعمیر پری کوالیفکیشن سے پہلے جوائنٹ وینچر معاہدے کے مطابق ہونی چاہیے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل شاہ خاور نے عدالت کو بتایا ڈی جی سی اے اے خالد چوہدری کی تقرری7مئی 2011 کوہوئی، تقرری کا عمل غیر شفاف تھا۔
جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا سرکاری عہدیداروںکی تقرری کے عمل میں بادشاہ کی مرضی نہیں چلے گی، یہ ہم نے توقیر صادق کیس کے فیصلے میںکہہ دیا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہرکوئی اپنی جگہ بڑے بڑے دعوے کرتا ہے لیکن ہوتا وہی ہے جو یہاںکا دستور ہے، اتنا بڑا اسکینڈل ہوا ہے لیکن ابھی تک کسی کیخلاف کارروائی تک نہیں ہوئی، جس کو موقع مل جائے توکچھ نہیں چھوڑتا۔چیف جسٹس نے کہا جس نے تین نومبرکے غیر آئینی اقدام کی سمری آگے بھیجی تھی وہ وزیر قانون مقرر ہوئے لیکن جب پرویز مشرف کیس میں اس بارے میں درخواست آئی تو وہ خود مستعفی ہوگئے۔ آئی این پی کے مطابق عدالت نے سول ایوی ایشن کو نیو اسلام آباد ایئرپورٹ کے حوالے سے تمام ریکارڈ یکم اگست تک پیش کرنے کا حکم دیاہے۔عدالت نے کہا کہ اگر سول ایوی ایشن ریکارڈ دینے میں تاخیرکرے تو ایف آئی اے کی ذریعے منگوایا جائے۔