بیٹے کے قتل کی عدالتی تحقیقات کرائی جائےعباس جلبانی
کیس کراچی منتقل کیاجائے،قتل سے چند روز قبل بیٹے نے دھمکیوں کا بتایا تھا
تفتیش مطمئن نہیں، پولیس محض خانہ پری کرکے مجھے ہی پریشان کررہی ہے، پریس کانفرنس۔ فوٹو: ایکسپریس
مقامی صحافی عباس جلبانی نے ٹھٹھہ میں قتل کیے جانے والے اپنے بیٹے رفیق جلبانی کے مقدمے کی عدالتی تحقیقات اورکیس کوکراچی منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انھوں نے مقدمے کی تفتیش پرعدم اطمینان کا بھی اظہارکیا، وہ منگل کو پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے،انھوں نے کہا کہ 26 جولائی کی شام کوٹھٹھہ کے قریب مکلی ٹائون میں ان کے بیٹے محمد رفیق کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیاتھا، صرف اس لیے کہ اس نے سیلاب زدگان کی آبادکاری کے لیے قائم کردہ ایک بستی میں ہونے والی کرپشن کا نہ صرف حصہ بننے سے انکارکیا بلکہ اس کا سدباب کرنے کی مہم بھی چلارکھی تھی،عباس جلبانی نے کہا کہ ان کے بیٹے کوقتل کی دھمکیاں دی جارہی تھیں اور بیرون ملک سے دھمکی آمیز ٹیلی فون کالزموصول ہوتی تھیں، قتل سے چند روز قبل ان کے بیٹے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر بھی اس حوالے سے لکھا تھا کہ اسے اور اس کے اہل خانہ کوقتل کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کے مقدمے کی تفتیش سے مطمئن نہیں ہیں، پولیس محض خانہ پری کی کارروائی کرتے ہوئے مجھے ہی پریشان کررہی ہے، پولیس کی ملی بھگت سے اس کیس کے حوالے سے شرمناک اورگمراہ کن خبریں مختلف اخبارات میں شائع کرائی جارہی ہیں، عباس جلبانی کا کہنا تھا کہ انھوں نے 5 نامزد ملزمان ڈاکٹر شعیب ثوبانی ، بشیرملک ، ذوالفقارجوکھیو ، حبیب میمن اور ستار بروہی کے خلاف مقدمہ درج کرایا ، پولیس نے صرف حبیب میمن اور ستار بروہی کو گرفتار کیا ، عباس جلبانی نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کے قتل میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کو بھی ذمے دار سمجھتے ہیں، وہ انہی کے تحت جاری منصوبوں پرکام کرتا تھا جبکہ اس کے قتل کے بعد پی ایم اے کے حکام نے ان سے تاحال کوئی رابطہ بھی نہیں کیا، انھوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ان کے بیٹے کے قتل کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے اورکیس کوکراچی منتقل کیاجائے کیونکہ وہ باربارٹھٹھہ جانے کی سکت بھی نہیں رکھتے۔
انھوں نے مقدمے کی تفتیش پرعدم اطمینان کا بھی اظہارکیا، وہ منگل کو پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے،انھوں نے کہا کہ 26 جولائی کی شام کوٹھٹھہ کے قریب مکلی ٹائون میں ان کے بیٹے محمد رفیق کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیاتھا، صرف اس لیے کہ اس نے سیلاب زدگان کی آبادکاری کے لیے قائم کردہ ایک بستی میں ہونے والی کرپشن کا نہ صرف حصہ بننے سے انکارکیا بلکہ اس کا سدباب کرنے کی مہم بھی چلارکھی تھی،عباس جلبانی نے کہا کہ ان کے بیٹے کوقتل کی دھمکیاں دی جارہی تھیں اور بیرون ملک سے دھمکی آمیز ٹیلی فون کالزموصول ہوتی تھیں، قتل سے چند روز قبل ان کے بیٹے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر بھی اس حوالے سے لکھا تھا کہ اسے اور اس کے اہل خانہ کوقتل کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کے مقدمے کی تفتیش سے مطمئن نہیں ہیں، پولیس محض خانہ پری کی کارروائی کرتے ہوئے مجھے ہی پریشان کررہی ہے، پولیس کی ملی بھگت سے اس کیس کے حوالے سے شرمناک اورگمراہ کن خبریں مختلف اخبارات میں شائع کرائی جارہی ہیں، عباس جلبانی کا کہنا تھا کہ انھوں نے 5 نامزد ملزمان ڈاکٹر شعیب ثوبانی ، بشیرملک ، ذوالفقارجوکھیو ، حبیب میمن اور ستار بروہی کے خلاف مقدمہ درج کرایا ، پولیس نے صرف حبیب میمن اور ستار بروہی کو گرفتار کیا ، عباس جلبانی نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کے قتل میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کو بھی ذمے دار سمجھتے ہیں، وہ انہی کے تحت جاری منصوبوں پرکام کرتا تھا جبکہ اس کے قتل کے بعد پی ایم اے کے حکام نے ان سے تاحال کوئی رابطہ بھی نہیں کیا، انھوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ان کے بیٹے کے قتل کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے اورکیس کوکراچی منتقل کیاجائے کیونکہ وہ باربارٹھٹھہ جانے کی سکت بھی نہیں رکھتے۔