بھارتی جنگی جنون اور قومی امنگوں کی ترجمانی

مودی حکومت میڈیا ہائپ کا سہارا نہ لے ،جنگی جنون ترک کرتے ہوئے پاکستان کے کشمیر سے متعلق جائز موقف پر سوچ بچار کرے۔

مودی حکومت میڈیا ہائپ کا سہارا نہ لے ،جنگی جنون ترک کرتے ہوئے پاکستان کے کشمیر سے متعلق جائز موقف پر سوچ بچار کرے۔ فوٹو: فائل

ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ جب بھی پاکستان میں حالات سازگار ہوں تو بھارت اسے خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ جنگ کی خواہش نہیں تاہم کسی جارحیت کو سرپرائز نہیں سمجھیں گے، اس دفعہ ہمارا ردعمل مختلف اور حیران کن ہوگا۔ پاکستان بدل رہا ہے۔ آنے والی نسلوں کو بہتر مستقبل دینے کی سوچ پاکستان میں پنپ رہی ہے۔ ہم خطے میں امن اور معاشی استحکام کی کوشش کررہے ہیں۔

پلوامہ حملہ کے تناظر میں بھارتی جنگی جنون پر پاک فوج کے ترجمان نے حقیقت میں پوری قوم کے جذبات اور امنگوں کی بھرپور ترجمانی کی ہے اور امن ، زمینی حقائق، کشمیر کی الم ناک صورتحال اور ہندوستانی عسکری مائنڈ سیٹ کے جنگجویانہ پہلوؤں پر میڈیا کے ذریعہ نہایت سنجیدہ گفتگو کی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں اور دفاعی مبصرین کے مطابق ترجمان نے وزیراعظم عمران خان کے قوم سے خطاب کی معروضی اور تزویراتی تفسیر پیش کرتے ہوئے عالمی قوتوں پر پاکستان کی امن پسندی اور بھارتی دھمکیوں کی گھن گرج میں کافی غیر جذباتی انداز نظر کے ساتھ پاکستان کا مقدمہ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔

راولپنڈی میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے واقعہ کے فوری بعد بھارت نے پاکستان پر الزامات کی بارش کردی، لیکن پاکستان کی جانب سے پلوامہ واقعے کا جواب فوراً نہیں دیا گیا۔ترجمان نے تاریخی سیاق و سباق میں بتایا کہ بھارت نے کشمیر پر حملہ بھی کیا اور وہ سترسالوں سے کشمیر پر قابض ہے۔

1965میں ایل او سی پرکشیدگی ہوئی۔ بھارت اسے بارڈر پر لے آیا۔ بھارت سے 65 کی جنگ کے ہمارے ملک پراثرات ہوئے۔ 71 سے 1984تک مشرقی سرحد پر کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ 1971میں پاکستان کو دولخت کیا گیا۔ 1998 میں ہم نے جوہری طاقت اپنے دفاع کے لیے حاصل کی۔ ممبئی حملے کے وقت بھی بھارت میں عام انتخابات ہونے تھے۔ 2008میں ہم دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ لڑرہے تھے اور بھرپور کامیابیاں مل رہی تھیں کہ بھارت اپنی فوجیں سرحد پر لے آیا۔ 2 جنوری 2016میں پٹھان کوٹ کا واقعہ ہوا۔


ترجمان نے دیگر واقعات کی تفصیل بھی بیان کی، ترجمان نے کہنا تھا پلوامہ واقعہ کے وقت بھی پاکستان میں آٹھ اہم ایونٹس ہونا تھے، سعودی ولی عہد کا پاکستان کا دورہ تھا۔ پاکستان میں انویسٹمنٹ سے متعلق کانفرنس، افغانستان میں امن عمل کا سلسلہ، یورپی یونین کی تنظیم کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنا، عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کا کیس، کرتارپو ربارڈر پر دونوں ملکوں میں ملاقات ، ایف اے ٹی ایف کی رپورٹ پر ڈسکشن اور ایک اہم فیصلہ ہونا تھا جب کہ پاکستان سپر لیگ بھی ہورہی ہے، اور سب سے اہم یہ کہ بھارت میں بھی آج کل الیکشن کا سیزن چل رہا ہے۔

ترجمان نے انکشاف کیا کہ بھارت میں متعدد افراد اس حملے کی پیشگوئی کررہے تھے اس لیے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پاکستان کی طرف کوئی ایل او سی کراس کرے ، لائن آف کنٹرول پر بھارتی فورسز کا لیئرڈیفنس ہے۔ واقعہ اس علاقے میں ہوا جہاں مقامی آبادی سے زیادہ فوج تعینات ہے اور جس نے حملہ کیا وہ مقبوضہ کشمیر کا مقامی نوجوان تھا۔ میجر جنرل آصف غفور نے سوال کیا کہ پاکستان ڈپلومیٹک آئسولیشن میں ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو کیسے سربراہان مملکت یہاں کے دورے کررہے ہیں۔ اس بات کا ذکر آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ پہلے کرچکے ہیں کہ سائبر وار چل رہی ہے جسے ہائبرڈ وار بھی کہا جاتا ہے اور نوجوان نسل کو ہدف بنایا جارہا ہے ۔

ترجمان نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان جنگ کی تیاریاں نہیں کررہا ۔ تاہم دفاع کرنا ہمارا حق ہے، پاکستان کے دفاعی ترجمان کی اس لاجک کو کوئی رد نہیں کریگا کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور جمہوری ملکوں میں جنگ نہیں ہوتی۔ بھارت کو جنگوں کی تباہ کاریوں کا ادراک کرنا چاہیے، دو ایٹمی ملکوں کے لیے صائب حکمت عملی مکالمہ کی ابتدا ہے، دنیا کی تمام جمہوری ریاستیں اقتصادی استحکام کو سیاست کا محور بنانے کی تگ ودو میں مصروف ہیں، معاشی مسائل کم نہیں ہورہے ، وسائل گھٹتے جارہے ہیں، گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی مسائل سے نوع انسانی تنگ ہے۔

کروڑوں انسان بھوک ، بیماری، بیروزگاری اور جبری ہجرتوں کے ستائے ہوئے ہیں، پاکستان اور بھارت بھی خطے میں یکساں انسانی مصائب اور بے پایاں مشکلات سے دوچار ہیں ، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی طرف سے ترجمان پاک فوج نے پیشکش کی کہ آئیں ان مسائل کو حل کریں باقی رہی جارحیت کی بات تو آپ ہمیں حیران نہیں کرسکتے ہم آپ کو حیراں کردیں گے لہٰذا بھارت سے کہنا چاہتے ہیں کہ امن کی طرف آئے، کلبھوشن جیسے لوگ پاکستان نہ بھیجے ، زمینی حقائق کا جائزہ لے ۔

گیند اب بھارتی کورٹ میں ہے۔ مودی حکومت میڈیا ہائپ کا سہارا نہ لے ،جنگی جنون ترک کرتے ہوئے پاکستان کے کشمیر سے متعلق جائز موقف پر سوچ بچار کرے، بات چیت کا راستہ کبھی بند نہین ہونا چاہیے، خطے میں کشمیر فلیش پوائنٹ ہے۔ اس کا منصفانہ حل تلاش کرنے کے لیے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت پر بات کرنے پر بھارت کیوں ہچکچاہٹ کا شکار ہے ۔کیا ہندوستان میں فکری اور سیاسی سطح پر قحط الرجال ہے۔

 
Load Next Story