ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں
قسمت تو ہماری خراب ہے ہی اگر خراب نہ ہوتی تو اتنی دور ایک بے آب و گیاہ کونے میں لا پھینکنے کی بجائے ہمیں کسی بڑےملک...
barq@email.com
قسمت تو ہماری خراب ہے ہی اگر خراب نہ ہوتی تو اتنی دور ایک بے آب و گیاہ کونے میں لا پھینکنے کی بجائے ہمیں کسی بڑے ملک کے بڑے شہر کے کسی بڑے گھر کے ماں باپ کے ہاں ٹھکانہ دے دیتی، صرف یہ ہی نہیں خرابیوں کا ایک پورا سلسلہ ہے جو اس نے ہماری دُم کے ساتھ باندھ کے رکھا ہے لیکن آپ سے کیا پردہ کبھی کبھی بلکہ اکثر ہم اپنی ہی حماقتوں کے کھاتے میں ڈال دینے، زبان میں اس کی ہے نہیں اس لئے چپ چاپ ہر الزام سہہ لیتی ہے ورنہ اکثر تو ایسی باتوں کو بھی اس لئے پلے باندھا ہے جن کے بارے میں بے چاری کو پتہ ہی نہیں تھا۔ اب اس صدارتی الیکشن کو لے لیجئے سارا کیا دھرا ہمارا اپنا ہے آج کل کرتے رہے اور وقت نکل گیا اور وقت نکلنے کے بعد ہی ہمیں احساس ہوا کہ
آئے عشاق گئے وعدہ فردا لے کر
اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ دیبا لے کر
کسی نے ہمارا ہاتھ نہیں روک رکھا تھا بڑے آرام سے کاغذات نامزدگی داخل کر سکتے تھے اور ایسے اعلان ہمارے پاس تھے جنہیں سنا کر ہم قوم کو اٹریکٹ کر سکتے تھے یعنی اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں سے ہم بے دھڑک یہ وعدہ کر سکتے تھے کہ صدر بنتے ہی آپ سب کو ''بادشاہ'' بنا دوں گا اور وہ مان بھی لیتے کیوں کہ ''سوچ'' کا پرزہ ان میں قدرت نے ڈالا ہی نہیں کہ کم از کم یہ تو سوچتے کہ اتنے سارے بادشاہ سمائیں گے کہاں، حالانکہ بزرگوں نے کہا ہے کہ ایک میان میں دو تلواریں ایک گدڑی میں دو فقیر تو گزارہ کر سکتے ہیں لیکن ایک ملک میں دو بادشاہ گزارہ نہیں کر سکتے اور یہاں تو پورے اٹھارہ کروڑ کو ہم بادشاہ بنانے چلے تھے لیکن ہمارے اس وعدے کے پیچھے یہ حقیقت ہے کہ اٹھارہ کروڑ پاکستانی پہلے ہی سے بادشاہ بنے ہوئے ہیں تب ہی تو ہر بات پر یقین کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں کم از کم آج تک کا ریکارڈ تو یہی بتاتا ہے کہ آج تک پاکستان میں ایسی کوئی بات ہوئی ہی نہیں ہے جو لیڈروں نے کہی ہو اور اٹھارہ کروڑ نے اس پر یقین نہ کیا ہو، کمال ہے ہم بھی کہاں کی ہانکنے لگے۔
عوام کا صدارتی الیکشن سے کیا تعلق ہے جو ہم ان کو بادشاہ بنانے کے وعدے کرتے، عوام تو انڈا دے چکے ہیں اور آج ''کھڑک'' کا عرصہ گزار رہے ہیں کون جانے پانچ چھ سال میں کون سی مرغی جی پاتی ہے اور کون سی کسی مہنگائی، کسی بجلی یا کسی پٹرولی چھری تلے آتی ہے، غصہ تو ہمیں اس بات پر آتا ہے کہ ہم تو ٹھہرے پکے منیر نیازی جو ہمیشہ اور ہر جگہ ''دیر'' کرنے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں لیکن اس بھرے پرے جہاں میں ایسا کوئی بھی ہمارا دوست یا دشمن نہیں تھا جو ہمیں پش کر کے صدارتی الیکشن کے لئے کاغذات نامزدگی پر اکساتا، کچھ اور کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی صرف ہمیں اتنا کہہ دیتے کہ تمہاری آنکھیں سرخ ہو گئی جھپٹ پڑ ۔۔۔ ہم جھپٹ پڑتے پھر آگے جو ہوتا دیکھا جاتا، زیادہ سے زیادہ ''خطرہ'' کامیابی کا تھا کہ اگر خدانخواستہ جیت جاتے تو کیا کرتے لیکن اتنا تو ہم ہیں کہ قوم و ملک کے لئے ''جیت'' کو بھی گوارا کر لیتے۔
شاید آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ہمیں اپنے محروم رہ جانے پر قلق ہے کہ کیوں نہ صدارت کی کرسی پر بیٹھ کر صوابدیدی کھیل نہیں کھیل پائیں گے لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہمارا گزارہ تو پھر بھی صدارت کے بغیر ہو جائے گا جیسا کہ اب تک ہوتا آیا ہے نہ کوئی صوابدید سے نہ فنڈ سے نہ کوئی پرسنٹ ہے نہ نصف لی و نصف لگ کا سلسلہ ہے نہ احباب کا بے پناہ ہجوم ہے نہ بے حساب رقوم ہیں لیکن پھر بھی زندہ ہیں مطلب یہ کہ کیا ہوا اگر ہم صدر نہیں بنے لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ پاکستانی قوم کا ایک سنہرا موقع چھن گیا ہماری صدارت سے محروم رہنے گا ۔۔۔۔ سچ کہا ہے کسی نے کہ نصیب میں ''ملنا'' نہ ہو تو ایک ہی راستے میں دو لوگ آگے پیچھے ہو جاتے ہیں، لیکن اس مرتبہ ازلی و ابدی بلکہ جدی پشتی یا بدنصیب بلکہ السائل و المحروم پاکستانیوں کی اس بدقسمتی میں ہمارا بھی ہاتھ ہے ہمارا نہ سہی ہمارے بھلکڑ پن اور سستی و کاہلی کی وجہ سے ہم بروقت کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرا پائے
یارانِ تیز گام نے محمل کو جا لیا
ہم محوِ نالہِ جرسِ کارواں رہے
سب کچھ تیار تھا سارا دارو سکہ اور مال مسالہ جمع ہو گیا تھا کہ بس اچانک ہماری وہ منیر نیازی والی رگ بھڑک اٹھی اور آج کل ہی میں کاغذات داخل کرنے کی تاریخ گزر گئی
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
اس سے جہاں ہماری کاہلی اور سستی ظاہر ہوتی ہے وہاں پاکستانی عوام کی بدقسمتی بھی اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کیونکہ اگر یہ دو چار ''اگر'' درمیان میں نہ آتے یعنی اگر ہم کاغذات نامزدگی جمع کرنا بھول نہ جاتے، اگر ہم کاغذات بروقت جمع کرا پاتے، اگر وہ کاغذات منظور ہو جاتے اور اگر ہم صدر بن جاتے ۔۔۔ تو عوام کے وارے نیارے ہو جاتے، کہتے ہیں بندہ حیران خدا مہربان ۔۔۔ ابھی ہم اپنے تساہل کا رونا رو رہے تھے بلکہ آٹھ آٹھ آنسو بہا رہے تھے کہ بڑی دل خوش خبر آ گئی، پیپلز پارٹی نے صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا
جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
صحرا مگر بہ تنگی چشم حسود تھا
جی خوش ہو گیا، لگتا ہے کہ ہماری قسمت ہی ایسی ہے کہ ہر خرابی میں سے کوئی بھلائی نکل آتی ہے اور ہر بھلائی کے اندر ہمارے لئے کوئی نہ کوئی برائی چھپی بیٹھی ہوتی ہے بلکہ آپ کو کیا بتائیں ہماری تو پوری زندگی اس بھلائی ولد برائی اور برائی ولد بھلائی کے ساتھ گزری ہے، پہلی برائی جو بھلائی کے پیٹ سے ہم نے اوپر مسلط ہوتی دیکھی تھی وہ یہ تھے کہ ہم بدقسمتی سے اپنے عزیزوں، رشتہ داروں میں پہلے تعلیم یافتہ بن گئے میٹرک اس وقت بہت بڑی تعلیم تھی اور ہم پورے گاؤں میں میٹرکیولیٹ تھے میٹرک کا نتیجہ آیا اور ہم اول درجے میں پاس ہو گئے تو خوشی کے مارے پھولے نہیں سما رہے تھے پانی بھی پیتے تھے تو میٹریکیولیٹ انداز میں پیتے تھے اپنے قدموں کو بھی ہم نے میٹریکیولیٹ بنا لیا اور لوگوں سے بات کرتے ہوئے اس انداز سے بات کرتے تھے جیسے کوئی بہت بڑا استاد پرائمری کے بچوں سے مخاطب ہو، بڑے بڑے سفید ریش بزرگ بھی ہمیں جاہل بچے نظر آتے تھے اور گھر میں تو ہمارا مقام خودبخود ایک صدر کے جیسا ہو گیا تھا حالانکہ کاغذات نامزدگی اس وقت بھی ہم نے حاصل نہیں کئے تھے لیکن ابھی ہم اس مستی سے باہر نہیں نکلے تھے کہ اچھائی میں سے ایک بہت بڑی خرابی نے جھانکنا شروع کر دیا۔
ہمارے ہم عمر آہستہ آہستہ کام سے لگنے لگے کوئی ڈرائیور بنا کوئی مستری کسی نے تجارت میں بڑی بڑی کمائیاں کیں حتیٰ کہ ایک کلینر بھی دو بسوں کا مالک ہو گیا اور ہم جوتیاں چٹخاتے چٹخاتے ملازمت کے پیچھے پھرتے رہے آخر کار ایک جگہ جونیئر کلرک کی آسامی مل گئی، آج کل حال یہ ہے کہ ہم بابو بن کر ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اور وہ جو ہمارے اردگرد قابل اور ان پڑھ گوار لوگ تھے وہ بڑے بڑے حاجی بن کر بہت بڑے بڑے کاروباروں کے مالک بن چکے ہیں، کہاں تک گنائیں کہ کس طرح ہم نے جس کو ''بھلائی'' سمجھا اس نے برائی کا بچہ دیا اور جسے ہم نے برائی سمجھ کرپھینک دیا اس نے ایسا اچھا بچہ دیا کہ دنیا عش عش کر اٹھی، سو ہم ایک مرتبہ پھر امید سے ہو گئے۔ خدا پیپلز پارٹی کا بھلا کرے کہ جو بھی برائی کرتی ہے اس میں ہمارے لئے کوئی نہ کوئی اچھائی ہوتی ہے، اب ہم نئے سرے سے خوب تغور و تحوض کر کے صدارتی الیکشن میں کود سکیں گے دعا بس یہ کیجئے کہ ایک مرتبہ پھر ہم پر منیر نیازی مسلط نہ ہو جائے اور دیر نہ کرا دے، نعرہ تو ہمارا وہی پرانا ہی ہے کہ آپ ہمیں پاکستان کا صدر بنا دیجئے ہم آپ سب کو بادشاہ بنا دیں گے یہ ہمارا وعدہ ہے بالفرض اگر ہم ایسا نہیں کر پائے تو بادشاہت کے اٹھارہ کروڑ امیدوار مل کر ہمارے خلاف مردہ باد کے نعرے لگائیں گے لیکن پانچ سال کے بعد۔
آئے عشاق گئے وعدہ فردا لے کر
اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ دیبا لے کر
کسی نے ہمارا ہاتھ نہیں روک رکھا تھا بڑے آرام سے کاغذات نامزدگی داخل کر سکتے تھے اور ایسے اعلان ہمارے پاس تھے جنہیں سنا کر ہم قوم کو اٹریکٹ کر سکتے تھے یعنی اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں سے ہم بے دھڑک یہ وعدہ کر سکتے تھے کہ صدر بنتے ہی آپ سب کو ''بادشاہ'' بنا دوں گا اور وہ مان بھی لیتے کیوں کہ ''سوچ'' کا پرزہ ان میں قدرت نے ڈالا ہی نہیں کہ کم از کم یہ تو سوچتے کہ اتنے سارے بادشاہ سمائیں گے کہاں، حالانکہ بزرگوں نے کہا ہے کہ ایک میان میں دو تلواریں ایک گدڑی میں دو فقیر تو گزارہ کر سکتے ہیں لیکن ایک ملک میں دو بادشاہ گزارہ نہیں کر سکتے اور یہاں تو پورے اٹھارہ کروڑ کو ہم بادشاہ بنانے چلے تھے لیکن ہمارے اس وعدے کے پیچھے یہ حقیقت ہے کہ اٹھارہ کروڑ پاکستانی پہلے ہی سے بادشاہ بنے ہوئے ہیں تب ہی تو ہر بات پر یقین کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں کم از کم آج تک کا ریکارڈ تو یہی بتاتا ہے کہ آج تک پاکستان میں ایسی کوئی بات ہوئی ہی نہیں ہے جو لیڈروں نے کہی ہو اور اٹھارہ کروڑ نے اس پر یقین نہ کیا ہو، کمال ہے ہم بھی کہاں کی ہانکنے لگے۔
عوام کا صدارتی الیکشن سے کیا تعلق ہے جو ہم ان کو بادشاہ بنانے کے وعدے کرتے، عوام تو انڈا دے چکے ہیں اور آج ''کھڑک'' کا عرصہ گزار رہے ہیں کون جانے پانچ چھ سال میں کون سی مرغی جی پاتی ہے اور کون سی کسی مہنگائی، کسی بجلی یا کسی پٹرولی چھری تلے آتی ہے، غصہ تو ہمیں اس بات پر آتا ہے کہ ہم تو ٹھہرے پکے منیر نیازی جو ہمیشہ اور ہر جگہ ''دیر'' کرنے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں لیکن اس بھرے پرے جہاں میں ایسا کوئی بھی ہمارا دوست یا دشمن نہیں تھا جو ہمیں پش کر کے صدارتی الیکشن کے لئے کاغذات نامزدگی پر اکساتا، کچھ اور کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی صرف ہمیں اتنا کہہ دیتے کہ تمہاری آنکھیں سرخ ہو گئی جھپٹ پڑ ۔۔۔ ہم جھپٹ پڑتے پھر آگے جو ہوتا دیکھا جاتا، زیادہ سے زیادہ ''خطرہ'' کامیابی کا تھا کہ اگر خدانخواستہ جیت جاتے تو کیا کرتے لیکن اتنا تو ہم ہیں کہ قوم و ملک کے لئے ''جیت'' کو بھی گوارا کر لیتے۔
شاید آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ہمیں اپنے محروم رہ جانے پر قلق ہے کہ کیوں نہ صدارت کی کرسی پر بیٹھ کر صوابدیدی کھیل نہیں کھیل پائیں گے لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہمارا گزارہ تو پھر بھی صدارت کے بغیر ہو جائے گا جیسا کہ اب تک ہوتا آیا ہے نہ کوئی صوابدید سے نہ فنڈ سے نہ کوئی پرسنٹ ہے نہ نصف لی و نصف لگ کا سلسلہ ہے نہ احباب کا بے پناہ ہجوم ہے نہ بے حساب رقوم ہیں لیکن پھر بھی زندہ ہیں مطلب یہ کہ کیا ہوا اگر ہم صدر نہیں بنے لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ پاکستانی قوم کا ایک سنہرا موقع چھن گیا ہماری صدارت سے محروم رہنے گا ۔۔۔۔ سچ کہا ہے کسی نے کہ نصیب میں ''ملنا'' نہ ہو تو ایک ہی راستے میں دو لوگ آگے پیچھے ہو جاتے ہیں، لیکن اس مرتبہ ازلی و ابدی بلکہ جدی پشتی یا بدنصیب بلکہ السائل و المحروم پاکستانیوں کی اس بدقسمتی میں ہمارا بھی ہاتھ ہے ہمارا نہ سہی ہمارے بھلکڑ پن اور سستی و کاہلی کی وجہ سے ہم بروقت کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرا پائے
یارانِ تیز گام نے محمل کو جا لیا
ہم محوِ نالہِ جرسِ کارواں رہے
سب کچھ تیار تھا سارا دارو سکہ اور مال مسالہ جمع ہو گیا تھا کہ بس اچانک ہماری وہ منیر نیازی والی رگ بھڑک اٹھی اور آج کل ہی میں کاغذات داخل کرنے کی تاریخ گزر گئی
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
اس سے جہاں ہماری کاہلی اور سستی ظاہر ہوتی ہے وہاں پاکستانی عوام کی بدقسمتی بھی اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کیونکہ اگر یہ دو چار ''اگر'' درمیان میں نہ آتے یعنی اگر ہم کاغذات نامزدگی جمع کرنا بھول نہ جاتے، اگر ہم کاغذات بروقت جمع کرا پاتے، اگر وہ کاغذات منظور ہو جاتے اور اگر ہم صدر بن جاتے ۔۔۔ تو عوام کے وارے نیارے ہو جاتے، کہتے ہیں بندہ حیران خدا مہربان ۔۔۔ ابھی ہم اپنے تساہل کا رونا رو رہے تھے بلکہ آٹھ آٹھ آنسو بہا رہے تھے کہ بڑی دل خوش خبر آ گئی، پیپلز پارٹی نے صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا
جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
صحرا مگر بہ تنگی چشم حسود تھا
جی خوش ہو گیا، لگتا ہے کہ ہماری قسمت ہی ایسی ہے کہ ہر خرابی میں سے کوئی بھلائی نکل آتی ہے اور ہر بھلائی کے اندر ہمارے لئے کوئی نہ کوئی برائی چھپی بیٹھی ہوتی ہے بلکہ آپ کو کیا بتائیں ہماری تو پوری زندگی اس بھلائی ولد برائی اور برائی ولد بھلائی کے ساتھ گزری ہے، پہلی برائی جو بھلائی کے پیٹ سے ہم نے اوپر مسلط ہوتی دیکھی تھی وہ یہ تھے کہ ہم بدقسمتی سے اپنے عزیزوں، رشتہ داروں میں پہلے تعلیم یافتہ بن گئے میٹرک اس وقت بہت بڑی تعلیم تھی اور ہم پورے گاؤں میں میٹرکیولیٹ تھے میٹرک کا نتیجہ آیا اور ہم اول درجے میں پاس ہو گئے تو خوشی کے مارے پھولے نہیں سما رہے تھے پانی بھی پیتے تھے تو میٹریکیولیٹ انداز میں پیتے تھے اپنے قدموں کو بھی ہم نے میٹریکیولیٹ بنا لیا اور لوگوں سے بات کرتے ہوئے اس انداز سے بات کرتے تھے جیسے کوئی بہت بڑا استاد پرائمری کے بچوں سے مخاطب ہو، بڑے بڑے سفید ریش بزرگ بھی ہمیں جاہل بچے نظر آتے تھے اور گھر میں تو ہمارا مقام خودبخود ایک صدر کے جیسا ہو گیا تھا حالانکہ کاغذات نامزدگی اس وقت بھی ہم نے حاصل نہیں کئے تھے لیکن ابھی ہم اس مستی سے باہر نہیں نکلے تھے کہ اچھائی میں سے ایک بہت بڑی خرابی نے جھانکنا شروع کر دیا۔
ہمارے ہم عمر آہستہ آہستہ کام سے لگنے لگے کوئی ڈرائیور بنا کوئی مستری کسی نے تجارت میں بڑی بڑی کمائیاں کیں حتیٰ کہ ایک کلینر بھی دو بسوں کا مالک ہو گیا اور ہم جوتیاں چٹخاتے چٹخاتے ملازمت کے پیچھے پھرتے رہے آخر کار ایک جگہ جونیئر کلرک کی آسامی مل گئی، آج کل حال یہ ہے کہ ہم بابو بن کر ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اور وہ جو ہمارے اردگرد قابل اور ان پڑھ گوار لوگ تھے وہ بڑے بڑے حاجی بن کر بہت بڑے بڑے کاروباروں کے مالک بن چکے ہیں، کہاں تک گنائیں کہ کس طرح ہم نے جس کو ''بھلائی'' سمجھا اس نے برائی کا بچہ دیا اور جسے ہم نے برائی سمجھ کرپھینک دیا اس نے ایسا اچھا بچہ دیا کہ دنیا عش عش کر اٹھی، سو ہم ایک مرتبہ پھر امید سے ہو گئے۔ خدا پیپلز پارٹی کا بھلا کرے کہ جو بھی برائی کرتی ہے اس میں ہمارے لئے کوئی نہ کوئی اچھائی ہوتی ہے، اب ہم نئے سرے سے خوب تغور و تحوض کر کے صدارتی الیکشن میں کود سکیں گے دعا بس یہ کیجئے کہ ایک مرتبہ پھر ہم پر منیر نیازی مسلط نہ ہو جائے اور دیر نہ کرا دے، نعرہ تو ہمارا وہی پرانا ہی ہے کہ آپ ہمیں پاکستان کا صدر بنا دیجئے ہم آپ سب کو بادشاہ بنا دیں گے یہ ہمارا وعدہ ہے بالفرض اگر ہم ایسا نہیں کر پائے تو بادشاہت کے اٹھارہ کروڑ امیدوار مل کر ہمارے خلاف مردہ باد کے نعرے لگائیں گے لیکن پانچ سال کے بعد۔