برانچ لیس بینکاری کھاتے 14 فیصد بڑھ کر 24 لاکھ ہوگئے
جنوری تا مارچ 16 فیصد اضافے سے 41.1 ملین ٹرانزیکشنز، مالیت 171 ارب روپے رہی
برانچ لیس بینکاری ایجنٹس بھی 56 فیصد بڑھ کر64 ہزار716 ہوگئے، اسٹیٹ بینک فوٹو: فائل
ملک میں برانچ لیس بینکاری میں رواں سال کی پہلی سہ ماہی(جنوری تا مارچ) کے اختتام تک 14 فیصد نمو ہوئی اور برانچ لیس بینکاری اکاؤنٹس کی تعداد بڑھ کر 24 لاکھ تک پہنچ گئی۔
اسٹیٹ بینک کے برانچ لیس بینکاری کے تازہ ترین نیوز لیٹر کے مطابق برانچ لیس بینکاری کے ڈپازٹس میں 32 فیصد نمو ہوئی اور یہ بڑھ کر 1.4 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں، اس نمو کا اہم سبب لیول '0' اور لیول '3' کے اکاؤنٹس ہیں جن میں بالترتیب 33 فیصد اور 56 فیصد اضافہ ہوا، سہ ماہی کے دوران پروسیس ہونے والی ٹرانزیکشنز کا مجموعی حجم 16 فیصد اضافے کے ساتھ بڑھ کر 41.1 ملین ہو گیا اور اس کی مالیت 13 فیصد اضافے کے ساتھ 171 ارب روپے تک پہنچ گئی، ٹرانزیکشنز میں اس نمو کا اہم سبب برانچ لیس بینکاری کے ابتدائی فریق (ایزی پیسہ اور اومنی) ہیں، ٹرانزیکشن کا اوسط سائز 4150 روپے رہا جبکہ روزمرہ ٹرانزیکشنز کی اوسط تعداد 3 لاکھ 92 ہزار 433 سے بڑھ کر 4 لاکھ 57 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
31 مارچ 2013 تک برانچ لیس بینکاری ایجنٹوں کا تیزی سے پھیلتا ہوا نیٹ ورک 64 ہزار716 ہو گیا جو 31 دسمبر 2012 تک 41 ہزار567 تھا جو اس میں 56 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے، ایجنٹوں کے نیٹ ورک میں ہونے والی نمو میں نئے فریقوں (موبی کیش اور ٹائم پے) نے اہم کردار ادا کیا۔ نیوز لیٹر کے مطابق او ٹی سی (P2P) کے ذریعے ملک میں فنڈز کی منتقلی کو بالادست زمرے کی حیثیت حاصل رہی اور مالیت میں اس کا حصہ 59 فیصد اور صارفین کی جانب سے ہونے والی ٹرانزیکشنز کی تعداد میں 36 فیصد تھا۔
ایم والٹس (m-wallets) کی نمو میں جی ٹو پی (G2P) اکاؤنٹس نے اہم کردار ادا کیا کیونکہ سہ ماہی کے دوران رجسٹرڈ ہونے والی مجموعی طور پر 2 لاکھ 95 ہزار 138 اکاؤنٹس میں سے 75 فیصد جی ٹو پی کے استفادہ کنندگان تھے، سہ ماہی کے دوران برانچ لیس بینکاری ذرائع سے 5.5 ارب روپے کی جی ٹو پی فلاحی ادائیگیاں کی گئیں، مزید برآں ایجنٹوں کے ذریعے ایمپلائز اولڈ ایج بینفٹ انسٹی ٹیوشن کے پنشنزز میں 346 ملین روپے بھی تقسیم کیے گئے۔
اسٹیٹ بینک کے برانچ لیس بینکاری کے تازہ ترین نیوز لیٹر کے مطابق برانچ لیس بینکاری کے ڈپازٹس میں 32 فیصد نمو ہوئی اور یہ بڑھ کر 1.4 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں، اس نمو کا اہم سبب لیول '0' اور لیول '3' کے اکاؤنٹس ہیں جن میں بالترتیب 33 فیصد اور 56 فیصد اضافہ ہوا، سہ ماہی کے دوران پروسیس ہونے والی ٹرانزیکشنز کا مجموعی حجم 16 فیصد اضافے کے ساتھ بڑھ کر 41.1 ملین ہو گیا اور اس کی مالیت 13 فیصد اضافے کے ساتھ 171 ارب روپے تک پہنچ گئی، ٹرانزیکشنز میں اس نمو کا اہم سبب برانچ لیس بینکاری کے ابتدائی فریق (ایزی پیسہ اور اومنی) ہیں، ٹرانزیکشن کا اوسط سائز 4150 روپے رہا جبکہ روزمرہ ٹرانزیکشنز کی اوسط تعداد 3 لاکھ 92 ہزار 433 سے بڑھ کر 4 لاکھ 57 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
31 مارچ 2013 تک برانچ لیس بینکاری ایجنٹوں کا تیزی سے پھیلتا ہوا نیٹ ورک 64 ہزار716 ہو گیا جو 31 دسمبر 2012 تک 41 ہزار567 تھا جو اس میں 56 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے، ایجنٹوں کے نیٹ ورک میں ہونے والی نمو میں نئے فریقوں (موبی کیش اور ٹائم پے) نے اہم کردار ادا کیا۔ نیوز لیٹر کے مطابق او ٹی سی (P2P) کے ذریعے ملک میں فنڈز کی منتقلی کو بالادست زمرے کی حیثیت حاصل رہی اور مالیت میں اس کا حصہ 59 فیصد اور صارفین کی جانب سے ہونے والی ٹرانزیکشنز کی تعداد میں 36 فیصد تھا۔
ایم والٹس (m-wallets) کی نمو میں جی ٹو پی (G2P) اکاؤنٹس نے اہم کردار ادا کیا کیونکہ سہ ماہی کے دوران رجسٹرڈ ہونے والی مجموعی طور پر 2 لاکھ 95 ہزار 138 اکاؤنٹس میں سے 75 فیصد جی ٹو پی کے استفادہ کنندگان تھے، سہ ماہی کے دوران برانچ لیس بینکاری ذرائع سے 5.5 ارب روپے کی جی ٹو پی فلاحی ادائیگیاں کی گئیں، مزید برآں ایجنٹوں کے ذریعے ایمپلائز اولڈ ایج بینفٹ انسٹی ٹیوشن کے پنشنزز میں 346 ملین روپے بھی تقسیم کیے گئے۔