افغان جنگ میں انسانی ہلاکتیں درد ناک ہیں

اب وقت آگیا ہے کہ خطے میں امن و سلامتی کے لیے امریکا اور افغانستان میں جنگ بند ہو۔

اب وقت آگیا ہے کہ خطے میں امن و سلامتی کے لیے امریکا اور افغانستان میں جنگ بند ہو۔ فوٹو : فائل

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان جنگ کی ایک دہائی کے دوران 2018 معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کے ضمن میں سب سے خونریز سال تھا۔ جنگ زدہ افغانستان میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران شہریوں کے زخمی یا ہلاک ہونے کے سب سے زیادہ واقعات گزشتہ برس پیش آئے۔

افغانستان کی خونیں تاریخ میں امریکا کی افغانستان میں طویل ترین جنگ ہلاکتوں کا درد انگیز دورانیہ ہے، ایک طرف سپر پاور امریکا اور دوسری طرف طالبان اور دیگر مزاحمتی گروپوں کی کارروائیاں ہیں لیکن کسی کو کچھ نہین ملا۔ مگر اب بھی دونوں قوتوں میں امن کی خواہش موجود ہے، اخباری اطلاع کے افغانستان میں 17سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور افغان طالبان پیر کو پھر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کرنے تیار ہوئے۔

امیدوں اور خدشات کے ماحول میں ہونے والے ان مذاکرات میں طالبان وفد کی قیادت ان کے نائب امیر ملا برادر اور طالبان دور میں نائب وزیرخارجہ رہنے والے شیر محمد عباس ستانکزئی جب کہ امریکی وفد کی قیادت زلمے خلیل زاد کررہے ہیں۔


اقوام متحدہ کی رپورٹ میں درج اعداد و شمار کے تحت 2018 میں 3804 شہری ہلاک ہوئے۔ دھماکوں اور پْر تشدد واقعات میں 7ہزار189 افراد زخمی ہوئے یعنی مجموعی طور پر10 ہزار 933 شہری ہلاک و زخمی ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2017 کے مقابلے میں 2018 میں معصوم شہریوں کے ہلاک و زخمی ہونے کے واقعات میں 11 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ گزشتہ 10 برسوں میں 32 ہزار شہری ہلاک اور 60 ہزار کے قریب زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق شہریوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کے واقعات میں 63 فیصد شدت پسندوں کے حملوں کے واقعات تھے، جن میں سے 37 فیصد حملے طالبان نے کیے جب کہ 20 فیصد حملوں میں داعش ملوث تھی۔ 6 فیصد حملے دیگر حکومت مخالف جتھوں نے کیے۔ اسی طرح زخمی یا ہلاک ہونے والے 24 فیصد شہری کابل حکومت، مغربی دفاعی اتحاد نیٹو و اس کے اتحادیوں کی جانب سے شدت پسندوں اور تنظیموں پر حملوں میں نشانہ بنے۔ باقی شہری شدت پسندوں کے عوامی مقامات اور حکومتی و اتحادی فورسز پر حملے کے دوران ہلاک و زخمی ہوئے۔

اب وقت آگیا ہے کہ خطے میں امن و سلامتی کے لیے امریکا اور افغانستان میں جنگ بند ہو، امریکا اپنے انخلاء پروگرام پر ثابت قدمی سے قائم رہے، افغان حکمراں زمینی حقائق کا ادراک کریں، جنگ سے امریکا اور افغان حکومت اور عوام کو کچھ نہیں ملا بجز ہلاکت ، انفرااسٹرکچر کی تباہی و بربادی کے، خطے میں اب ترقی و استحکام ہی عالمی امن کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہوگی، صدر ٹرمپ کو امن کاز کے لیے بڑا فیصلہ کرنے میں دیر نہیں لگانی چاہیے۔

 
Load Next Story