ڈیرہ مراد جمالی میں بم دھماکا
ان کارروائیوں کا مقصد ترقی کے عمل کو سبوتاژکرنا نظرآتا ہے۔
ان کارروائیوں کا مقصد ترقی کے عمل کو سبوتاژکرنا نظرآتا ہے۔ فوٹو: فائل
ڈیرہ مراد جمالی میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں ایک شخص جاں بحق اوراٹھارہ زخمی ہوگئے، دھماکا خیز مواد موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا، دھماکے وقت لوگ خریداری میں مصروف تھے۔ ان بزدلانہ کارروائیوں کا مقصد واضح طور پر یہ نظر آتا ہے کہ عوام کے اندر خوف کی فضا پیدا کی جائے۔
بلوچستان اس وقت دہشتگردوں کے نشانے پر ہے،کچھ وقفے کے بعد چھوٹا یا بڑا افسوس ناک واقعہ رونما ہوجاتا ہے گوکہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے بڑی حد تک بد امنی پر قابو پالیا ہے لیکن پھر بھی ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں کیونکہ دہشت گرد ''ہٹ اینڈ رن '' والی پالیسی اپنانے ہوئے ہیں ۔
دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے پل کو نقصان پہنچا، جانی نقصان نہیں ہوا۔جب سے بلوچستان کی ترقی وخوشحالی کا سفرگوادرکی بندرگاہ فنکشنل ہونے سے شروع ہوا ہے، اس وقت سے پڑوسی ملک کی جانب سازش کا جال بچھایا گیا ہے،اس وقت کچھ نادان اپنے، غیروں کے بہکاوے میں آکر ایسی کارروائیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
ان کارروائیوں کا مقصد ترقی کے عمل کو سبوتاژکرنا نظرآتا ہے، کیونکہ دنیا یہ حقیقت جان چکی ہے کہ قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ بلوچستان پاکستان کی ترقی کا گیٹ وے ہے ۔ سی پیک منصوبہ ہو یا چند دن قبل سعودی عرب کی جانب سے آئل ریفائنری کے قیام کا اعلان ان سب کا مثبت اثر بلوچستان کے عوام پر پڑے گا اور ان کے لیے روزگار کے در وا ہوں گے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے دھماکے میں ملوث عناصرکی گرفتاری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے اور سیکیورٹی اقدامات کو مزید موثر بنانے کی ہدایت کی ہے، یقینا ان کی ہدایت کی روشنی میں ملزمان جلد قانون کے شکنجے میں ہوں گے۔
قانون نافذ کرنیوالے ادارے جہاں امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کاوشیں کر رہے ہیں وہی سیاسی اور اقتصادی سطح پر ایسی پالیسی تشکیل دی جائے جس میں عام آدمی کو روزگارکے بہتر مواقعے میسر آئیں اور ترقی کے ثمرات بھی مقامی افراد تک پہنچیں تو دہشت گردی کا خاتمہ انتہائی سہل ہوجائے گا۔
بلوچستان اس وقت دہشتگردوں کے نشانے پر ہے،کچھ وقفے کے بعد چھوٹا یا بڑا افسوس ناک واقعہ رونما ہوجاتا ہے گوکہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے بڑی حد تک بد امنی پر قابو پالیا ہے لیکن پھر بھی ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں کیونکہ دہشت گرد ''ہٹ اینڈ رن '' والی پالیسی اپنانے ہوئے ہیں ۔
دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے پل کو نقصان پہنچا، جانی نقصان نہیں ہوا۔جب سے بلوچستان کی ترقی وخوشحالی کا سفرگوادرکی بندرگاہ فنکشنل ہونے سے شروع ہوا ہے، اس وقت سے پڑوسی ملک کی جانب سازش کا جال بچھایا گیا ہے،اس وقت کچھ نادان اپنے، غیروں کے بہکاوے میں آکر ایسی کارروائیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
ان کارروائیوں کا مقصد ترقی کے عمل کو سبوتاژکرنا نظرآتا ہے، کیونکہ دنیا یہ حقیقت جان چکی ہے کہ قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ بلوچستان پاکستان کی ترقی کا گیٹ وے ہے ۔ سی پیک منصوبہ ہو یا چند دن قبل سعودی عرب کی جانب سے آئل ریفائنری کے قیام کا اعلان ان سب کا مثبت اثر بلوچستان کے عوام پر پڑے گا اور ان کے لیے روزگار کے در وا ہوں گے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے دھماکے میں ملوث عناصرکی گرفتاری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے اور سیکیورٹی اقدامات کو مزید موثر بنانے کی ہدایت کی ہے، یقینا ان کی ہدایت کی روشنی میں ملزمان جلد قانون کے شکنجے میں ہوں گے۔
قانون نافذ کرنیوالے ادارے جہاں امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کاوشیں کر رہے ہیں وہی سیاسی اور اقتصادی سطح پر ایسی پالیسی تشکیل دی جائے جس میں عام آدمی کو روزگارکے بہتر مواقعے میسر آئیں اور ترقی کے ثمرات بھی مقامی افراد تک پہنچیں تو دہشت گردی کا خاتمہ انتہائی سہل ہوجائے گا۔