ورلڈ کپ 1992 کیریئر کی سب سے بڑی کامیابی تھا عمران خان

آسٹریلیا کو زیر کرکے فتح کی راہ پر گامزن ہوئے(سابق پاکستانی قائد) ایونٹ میں عمدہ کرکٹ کھیلی (گوچ) بارش مداخلت۔۔۔،ویسلز

آسٹریلیا کو زیر کرکے فتح کی راہ پر گامزن ہوئے(سابق پاکستانی قائد) ایونٹ میں عمدہ کرکٹ کھیلی (گوچ) بارش مداخلت نہ کرتی تو فائنل کھیل جاتے، ویسلز۔ فوٹو: فائل

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو 23 برس بعد دوبارہ ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبانی کا موقع 2015 میں ملے گا۔

1992 میں پہلی مرتبہ ان دونوں ممالک میں منعقدہ میگا ایونٹ کی ٹرافی پاکستان نے عمران خان کی زیرقیادت جیتی تھی، پانچویں ورلڈ کپ میں مختلف ٹیموں کی قیادت کرنے والے کپتانوں نے آئی سی سی سے بات چیت میں اپنی یادوں کو تازہ کیا ہے، سابق پاکستانی کپتان عمران خان اس تاریخی فتح کو اپنے کرکٹ کیریئر کی سب سے بڑی خوشی اور طمانیت تصور کرتے ہیں، انگلش ٹیم کی قیادت کرنے والے گراہم گوچ کا کہنا ہے کہ ہم اچھی فارم میں تھے اور فائنل تک عمدہ کرکٹ کھیلی۔

سابق کیوی قائد مارٹن کرو کا کہنا ہے کہ 1992 میں ہمارے لیے اپنی تاریخ میں ورلڈ کپ جیتنے کا بہترین موقع موجود تھا، جنوبی افریقی ٹیم کی باگ دوڑ سنبھالنے والے کیپلر ویسلز نے کہا کہ اگر انگلینڈ سے میچ میں بارش مداخلت نہیں کرتی تو ہمارے فائنل تک پہنچنے کا اچھا امکان موجود تھا، سابق آسٹریلوی کپتان ایلن بورڈر سمجھتے ہیں کہ ویسے تو ہوم ایونٹ میں ناکامی کا ہمارے پاس کوئی عذر نہیں لیکن غور کیا جائے تو شاید ہماری تیاری ویسی نہیں تھی جیسی کرسکتے تھے۔

سری لنکا کے اروندا ڈی سلوا نے کہا کہ اگرچہ اس وقت ہم چھوٹی ٹیم خیال کیے جاتے تھے لیکن زمبابوے اور جنوبی افریقہ سے میچزمیں فتح ہمارے لیے اہم رہی، سابق زمبابوین قائد ڈیو ہوٹن نے کہا کہ ہم سری لنکا کیخلاف اپنے پہلے میچ میں 312 کا بڑا مجموعہ ترتیب دے کر بھی اختتامی اوور میں ہارگئے،اس کے بعد اپنے آخری لیگ میچ میں انگلینڈ کیخلاف 134 کا کمترین مجموعہ بناکر بھی 9 رنز سے فتحیاب ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق 1992 میگا ایونٹ کے فاتح پاکستانی کپتان عمران خان نے کہا کہ میرے کرکٹ کیریئر میں سب سے بڑی کامیابی ورلڈ کپ جیتنا ہے، ہم نے ایونٹ کا آغاز مشکل حالات سے کیا، میچ ونر وقار یونس اور سعید انور ہمیں دستیاب نہیں تھے، سونے پہ سہاگہ جاوید میانداد اور میں خود بھی انجری مسائل سے دوچار تھے، اس کے باوجود ہم نے اپنی شرکت کو ممکن بنائے رکھا، واضح رہے کہ ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو ابتدائی میچ میں 10 وکٹ سے آؤٹ کلاس کیا تھا۔




عمران خان نے کہا کہ ابتدائی صدمات کے باوجود ہم جانتے تھے کہ ایک اچھا آغاز دوبارہ ٹرافی کی دوڑ میں لے آئے گا اور یہ جیت ہمیں پرتھ میں آسٹریلیا کیخلاف 48 رنز کی صورت میں ملی، جس نے ہمیں فتح کی راہ پر گامزن کر دیا اور پھر ہم نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا، پاکستان اپنے ابتدائی 5 میں سے 3 میچز ہارگیا تھا، اس میں ویسٹ انڈیز کے بعد بھارت سے 43 رنز اور پھر جنوبی افریقہ کیخلاف 20 رنز سے ناکامی شامل ہے، اس کے بعد گرین شرٹس نے لگاتار 5 میچز جیت کر ٹرافی اپنے نام کی تھی، عمران خان نے مزید بتایا کہ ہماری ٹیم کو خود پر اعتماد تھا، ورلڈ کپ سے تین برس قبل ہم نے کولکتہ میں نہرو کپ فائنل میں ویسٹ انڈیزکوشکست دی تھی، میں ورلڈ کپ فتح کو اپنے کیریئر کا سب سے خوش کن اور طمانیت کا لمحہ خیال کرتا ہوں، میں نے پاکستانی قوم کو اس سے زیادہ خوش کبھی نہیں دیکھا تھا۔

فائنل میں پاکستان کے ہاتھوں 22 رنز سے شکست کھانے والی انگلش ٹیم کے قائدگراہم گوچ نے کہا کہ ہمیں پاکستانی ٹیم کو فائنل سے قبل بھی ایونٹ سے باہر کرنے کا موقع ملا لیکن بارش نے انھیں بچالیا، قومی ٹیم اس میچ میں پہلے کھیل کر 74 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی لیکن بارش نے میچ مکمل نہیں ہونے دیا اور دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ ملا، یہ پوائنٹ گرین شرٹس کو فائنل فور میں پہنچانے میں بھی کافی اہم ثابت ہوا تھا۔

زمبابوین کپتان ڈیو ہوٹن نے وسیم اکرم کو ایونٹ کا بہترین پلیئر گردانتے ہوئے کہا کہ یہ ورلڈ کپ پاکستانی پیسر کیلیے بہت اہم رہا،خصوصاً جو انھوں نے فائنل میں 2 ڈلیوریز کی تھیں جس پر ایلن لیمب اور کرس لیوس میدان بدر ہوئے تھے، اس وقت کے نوجوان انضمام الحق نے بھی اپنے تابناک مستقبل کی نوید سنا دی تھی، دوسری جانب میگا ایونٹ میں بھارتی ٹیم کی قیادت کرنے والے کپیل دیو اسی بات پر خوش ہیں کہ ہم نے روایتی حریف اورچیمپئن پاکستان کو لیگ مرحلے میں شکست دی، انھوں نے کہا کہ ہمسایہ ملک کیخلاف فتح میری بہترین یاد ہے۔
Load Next Story