خواہش ہے کہ کراچی میں امن وامان کا مسئلہ حل کروں سیاسی جماعتیں مجرموں کو پشت پناہی ختم کردیں نومنتخب صدر
انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ایک نئے پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے، کراچی کو بڑی خاص توجہ دینی ہو گی جب کراچی چلتا۔۔۔،ممنون حسین
کوشش ہوگی کہ ایوان صدرسیاست کیلیے استعمال نہ ہو، بھارت کے ساتھ بات چیت کا حصہ بننا چاہتا ہوں، ممنون حسین فوٹو : فائل
پاکستان کے نومنتخب صدر ممنون حسین کا کہنا ہے کہ انکی خواہش ہے کہ وہ اپنے ملک اور خصوصاً کراچی میں امن وامان کا مسئلہ حل کریں اور آگرہ جا کر تاج محل ضرور دیکھ کر آئیں۔
بطور صدر اپنے انتخاب کے بعد اسلام آباد میں بی بی سی کو پہلا انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب ملک میں امن وامان کی بحالی کی خواہش کرتا ہوں تو میرے ذہن میں سب سے پہلے کراچی آتا ہے جو میرا شہر ہے، میں اس شہر کے معروضی حالات سے بخوبی واقف ہوں۔ان کا کہنا تھا 'بحیثیت صدر، میں محسوس کرتا ہوں میں وفاق کی علامت ہوں۔ میں صوبوں میں جا کر انھیں یہ احساس دلاؤنگا کہ باہمی ہم آہنگی سے بہت سارے مسئلے حل کیے جا سکتے ہیں۔ میری خواہش ہے اور جب صوبوں کے مابین کسی بات پراختلاف پیدا ہو تو میں اسے حل کرنے میں کردار ادا کر سکوں۔ ہم نے ماضی میں دیکھا کہ صوبے پانی کے مسئلے پر لڑتے رہے اب میری کوشش ہوگی کہ میں ان مسائل کو حل کروں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ وہ ہر شہری کو اس بات کا احساس دلائیں کہ وہ ان کے صدر ہیں اور تمام سیاسی جماعتوں کو یہ بات محسوس ہو کہ وہ ان کے صدر ہیں۔ نومنتخب صدر کہہ چکے ہیں کہ وہ انتخاب کے بعد پارٹی سے مستعفی ہو جائیں گے تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ انھوں نے ابھی تک استعفیٰ نہیں دیا۔ ان کے شہرکراچی سے تعلق کی بنیاد پر وہاں کیلیے ان کے ذہن میں موجود خواہش کے بارے میں انکا کہنا تھا کہ کراچی کو خاص توجہ دینی ہو گی جب کراچی چلتا ہے تو پورا پاکستان چلتا ہے کراچی صرف معیشت نہیں بلکہ ہر حوالے سے پاکستان کا سب سے اہم شہر ہے۔ ماضی میں جرائم کی بیخ کنی کے لیے بھرپور کارروائی نہیں کی گئی کیونکہ ان جرائم پیشہ، قبضہ مافیا اور بھتا خور گروپوں کوسیاسی پشت پناہی حاصل ہے اور یہ بات سپریم کورٹ کے فیصلوں میں بھی بتائی گئی ہے۔ ایسے میں حالات اس وقت تک بہتر نہیں ہو سکتے جب تک یہ عمل ختم نہیں کیا جاتا اور ایسے عناصرکو کیفرکردار تک نہیں پہنچا دیا جاتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ایک نئے پلیٹ فارم پر جمع کر دیا جائے اور سیاسی جماعتیں مجرموں کی پشت پناہی سے ہاتھ کھینچ لیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ ایوان صدرسیاست کے لیے استعمال نہ ہو اور ماضی میں اگر ایسا ہوا تواس کی وجہ وہاں پر موجود صدر کا سیاسی ہونا ہے جس کا عدالت نے بھی نوٹس لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت ن لیگ کو ضرورت نہیں پڑے گی کہ وہ ایوان صدر کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرے اور ان کی جماعت ان کے ایسے ہر اقدام میں ان کی حمایت کرے گی۔ اپنی جائے پیدائش بھارتی شہر آگرہ کے بارے میں یادداشتوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کا دل چاہتا ہے کہ جب ن لیگ کی حکومت بھارت کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرے تو وہ اس کا حصہ ہوں کیوں کہ وہ ان کی جنم بھومی ہے اور وہ چاہیں گے کہ ان کا اس حوالے سے کوئی کردار ہو۔
میں 9 سال کی عمرمیں بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان آیا لیکن اب بھی اپنے والد کے ہمراہ آگرہ کی سڑکوں اورگلیوں میں بگھی میں سیرکرنا یاد ہے جہاں میری اور بھائیوں کی کوشش ہوتی تھی کہ ہم بگھی میں پیر سے دبنے والی گھنٹی بجائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک بار پھر آگرہ میں گھومنے جائیں گے اور تاج محل تو ضرور دیکھ کر آئیں گے ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس بات کا احساس ہے کہ وہاں کے لوگ بھی ان کو آگرہ میں دیکھنا چاہتے ہیں اوروہ انھیں مایوس نہیں کریں گے۔
دریں اثنا بدھ کولاہور سے نمائندہ ایکسپریس شہبازانورخان سے بات چیت کرتے ہوئے ممنون حسین نے کہا ہے کہ '' اﷲ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے کامیابی عطا فرمائی میری دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ مجھے صراط مستقیم پر رکھے اور پاکستان اور عوام کی خدمت کی توفیق بخشے ''۔ انھوں نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح چاروں صوبوںکے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے تاکہ ملک میں اتحاد و یکجہتی کی فضا قائم کی جاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ملک کے اہم مسائل جن میں بدامنی، دہشت گردی، لوڈ شیڈنگ وغیرہ خاص طورپر قابل ذکر ہیں کے حل کیلیے حکومت کی معاونت کریں گے تاکہ ملک ترقی اور خوشحالی کی راہ پرچل سکے اور جمہوریت کو استحکام میسر آئے۔
بطور صدر اپنے انتخاب کے بعد اسلام آباد میں بی بی سی کو پہلا انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب ملک میں امن وامان کی بحالی کی خواہش کرتا ہوں تو میرے ذہن میں سب سے پہلے کراچی آتا ہے جو میرا شہر ہے، میں اس شہر کے معروضی حالات سے بخوبی واقف ہوں۔ان کا کہنا تھا 'بحیثیت صدر، میں محسوس کرتا ہوں میں وفاق کی علامت ہوں۔ میں صوبوں میں جا کر انھیں یہ احساس دلاؤنگا کہ باہمی ہم آہنگی سے بہت سارے مسئلے حل کیے جا سکتے ہیں۔ میری خواہش ہے اور جب صوبوں کے مابین کسی بات پراختلاف پیدا ہو تو میں اسے حل کرنے میں کردار ادا کر سکوں۔ ہم نے ماضی میں دیکھا کہ صوبے پانی کے مسئلے پر لڑتے رہے اب میری کوشش ہوگی کہ میں ان مسائل کو حل کروں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ وہ ہر شہری کو اس بات کا احساس دلائیں کہ وہ ان کے صدر ہیں اور تمام سیاسی جماعتوں کو یہ بات محسوس ہو کہ وہ ان کے صدر ہیں۔ نومنتخب صدر کہہ چکے ہیں کہ وہ انتخاب کے بعد پارٹی سے مستعفی ہو جائیں گے تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ انھوں نے ابھی تک استعفیٰ نہیں دیا۔ ان کے شہرکراچی سے تعلق کی بنیاد پر وہاں کیلیے ان کے ذہن میں موجود خواہش کے بارے میں انکا کہنا تھا کہ کراچی کو خاص توجہ دینی ہو گی جب کراچی چلتا ہے تو پورا پاکستان چلتا ہے کراچی صرف معیشت نہیں بلکہ ہر حوالے سے پاکستان کا سب سے اہم شہر ہے۔ ماضی میں جرائم کی بیخ کنی کے لیے بھرپور کارروائی نہیں کی گئی کیونکہ ان جرائم پیشہ، قبضہ مافیا اور بھتا خور گروپوں کوسیاسی پشت پناہی حاصل ہے اور یہ بات سپریم کورٹ کے فیصلوں میں بھی بتائی گئی ہے۔ ایسے میں حالات اس وقت تک بہتر نہیں ہو سکتے جب تک یہ عمل ختم نہیں کیا جاتا اور ایسے عناصرکو کیفرکردار تک نہیں پہنچا دیا جاتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ایک نئے پلیٹ فارم پر جمع کر دیا جائے اور سیاسی جماعتیں مجرموں کی پشت پناہی سے ہاتھ کھینچ لیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ ایوان صدرسیاست کے لیے استعمال نہ ہو اور ماضی میں اگر ایسا ہوا تواس کی وجہ وہاں پر موجود صدر کا سیاسی ہونا ہے جس کا عدالت نے بھی نوٹس لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت ن لیگ کو ضرورت نہیں پڑے گی کہ وہ ایوان صدر کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرے اور ان کی جماعت ان کے ایسے ہر اقدام میں ان کی حمایت کرے گی۔ اپنی جائے پیدائش بھارتی شہر آگرہ کے بارے میں یادداشتوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کا دل چاہتا ہے کہ جب ن لیگ کی حکومت بھارت کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرے تو وہ اس کا حصہ ہوں کیوں کہ وہ ان کی جنم بھومی ہے اور وہ چاہیں گے کہ ان کا اس حوالے سے کوئی کردار ہو۔
میں 9 سال کی عمرمیں بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان آیا لیکن اب بھی اپنے والد کے ہمراہ آگرہ کی سڑکوں اورگلیوں میں بگھی میں سیرکرنا یاد ہے جہاں میری اور بھائیوں کی کوشش ہوتی تھی کہ ہم بگھی میں پیر سے دبنے والی گھنٹی بجائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک بار پھر آگرہ میں گھومنے جائیں گے اور تاج محل تو ضرور دیکھ کر آئیں گے ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس بات کا احساس ہے کہ وہاں کے لوگ بھی ان کو آگرہ میں دیکھنا چاہتے ہیں اوروہ انھیں مایوس نہیں کریں گے۔
دریں اثنا بدھ کولاہور سے نمائندہ ایکسپریس شہبازانورخان سے بات چیت کرتے ہوئے ممنون حسین نے کہا ہے کہ '' اﷲ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے کامیابی عطا فرمائی میری دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ مجھے صراط مستقیم پر رکھے اور پاکستان اور عوام کی خدمت کی توفیق بخشے ''۔ انھوں نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح چاروں صوبوںکے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے تاکہ ملک میں اتحاد و یکجہتی کی فضا قائم کی جاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ملک کے اہم مسائل جن میں بدامنی، دہشت گردی، لوڈ شیڈنگ وغیرہ خاص طورپر قابل ذکر ہیں کے حل کیلیے حکومت کی معاونت کریں گے تاکہ ملک ترقی اور خوشحالی کی راہ پرچل سکے اور جمہوریت کو استحکام میسر آئے۔