سپریم کورٹ چیئرمین پی آئی اے کی تقرری کیلیے حکومت کو 3 ہفتے کی مہلت

یونیورسل سروس فنڈ کے42ارب خزانے میں منتقل کرنے پرسیکریٹری خزانہ طلب،چیئرمین پی ٹی اے بھی جلدلگایاجائے،چیف جسٹس

قسطیں ادا کرنے کے باوجود گاڑی ضبط کرکے خود خریدنے والے ریٹائرڈ جج کو نوٹس، راولپنڈی سے وکیل کے اغوا کا ازخودنوٹس۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے چیئرمین پی آئی اے کی تقرری کیلیے حکومت کو3 ہفتے کی مہلت دیدی ہے۔

چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل شاہ خاور نے کہا کہ چیئرمین کی تقرری کا عمل15اگست تک مکمل ہو جائیگا۔ انھوں نے بتایا کہ قائم مقام چیئرمین اسلم خالق مستعفی ہوگئے ہیں، نئے چیئرمین کی تقرری کیلیے اشتہار دے دیا گیا ہے اور امیدواروں سے درخواستیں طلب کر لی گئی ہیں، تقرری کیلیے کمیشن بھی جلد قائم ہو جائے گا۔ انھوں نے استدعا کی کہ ادارے کا روزانہ کا انتظام چلانے کی ذمے داری سول ایوی ایشن کے سیکریٹری کو دینے کی اجازت دی جائے۔ چیف جسٹس نے کہا حکومت نے اپنا کام خودکرنا ہے، عدالت عارضی انتظام کیلیے آرڈر جاری نہیں کرے گی تاہم 3 ہفتے میں جوکرنا ہے کرلیں۔

فاضل بینچ نے یونیورسل سروس فنڈکے42 ارب روپے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے پر سیکریٹری خزانہ کو وضاحت کیلیے طلب کرلیا ہے جبکہ پی ٹی اے کے چیئرمین اور بورڈ ارکان کی عدم تعیناتی پر سیکریٹری آئی ٹی اورکابینہ ڈویژن سے جواب مانگا ہے۔عدالت نے تھری جی موبائل ٹیکنالوجی لائسنس جاری کرنے کیلیے پالیسی بھی طلب کرلی ہے اورآبزرویشن دی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال عوام کا حق ہے، حکومت لائسنس جاری کرنے کیلیے شفاف طریقہ اپنائے۔عدالت نے قرار دیا یونیورسل سروس فنڈکی رقم ٹرسٹ کی رقم ہے جوکسی اور مقصدکیلیے استعمال نہیںکی جاسکتی، وزارت خزانہ کی جانب سے وضاحت آنے کے بعد اس سلسلے میں حکم نامہ جاری کیا جائے گا ۔




دوران سماعت چیف جسٹس نے کہاکہ 3G لائسنس کی نیلامی سے قومی خزانے کو بھاری مالی فائدہ ہونے کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی بھی ملک میں آئے گی یہ بہت اہم معاملہ ہے اس لیے حکومت جلد چیئرمین کا تقررکرے۔عدالت نے3Gلائسنس کی نیلامی سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔ درخواست گزارکے وکیل بیرسٹر علی رضا نے بتایا کہ پی ٹی اے کے چیئرمین کی تقرری کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے جنوری میںکالعدم قرار دیا تھا اس کے بعد نہ چیئرمین کی تقرری ہوئی نہ ہی ممبران تعینات ہوئے، تینوں ممبران کی سیٹیںخالی ہیں ۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ اسکا تو مطلب ہے کہ قانونی طور پرپی ٹی اے موجود نہیں ہیں، اس صورت میں تو تنخواہیں تک نہیں دی جا سکتیں اور جو دی گئی ہیں وہ واپس لینا ہوں گی ۔

علی رضا نے بتایا کہ 3G کی نیلامی میں دراصل بہت ہی بڑی رقم کا معاملہ ہے اس لیے انتہائی بااثر شخصیات مفادات کے تحت نیلامی نہیں ہونے دے رہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ پی ٹی اے کے یونیورسل سروس فنڈکی 42ارب روپے کی رقم وزارت خزانہ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے سرکاری خزانے (فیڈرل کنسالیڈیٹڈ فنڈ)میں منتقل کردی ہے ۔یہ رقم کہاں استعمال ہوئی ہے کچھ معلوم نہیں۔ فاضل بینچ نے بینک کی قسطیں باقاعدگی کے ساتھ جمع کرانے کے باوجود لیزکی گاڑی کے مالک کو نادہندہ قرار دینے پر بینکنگ کورٹ کے جج کو نوٹس جاری کر دیا۔
Load Next Story