کراچی کی 80 فلور ملوں کا آج سے ہڑتال کا اعلان
غیرمعینہ ہڑتال معاملے کے تصفیے تک جاری رہے گی، چیئرمین پاکستان فلورملز ایسوسی ایشن سندھ سرکل انصر جاوید
غیرمعینہ ہڑتال معاملے کے تصفیے تک جاری رہے گی، چیئرمین پاکستان فلورملز ایسوسی ایشن سندھ سرکل انصر جاوید کی ’’ایکسپریس ‘‘ سے گفتگو فوٹو : اے ایف پی / فائل
فلورملوں پرچھاپوں اور گرفتاریوں کے خلاف کراچی کی80 فلورملوں نے آج سے غیرمعینہ مدت کے لیے ہڑتال کااعلان کردیا ہے۔
پاکستان فلورملز ایسوسی ایشن سندھ سرکل کے چیئرمین چوہدری انصرجاوید نے بدھ کو''ایکسپریس'' کو بتایا کہ کمشنر کراچی اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ اوپن مارکیٹ میں گندم35.50 روپے فی کلوگرام کے حساب سے تھوک پر فروخت ہورہی ہے لیکن اس حقیقت کے باوجود وہ فلورمل مالکان کو33 روپے فی کلوگرام کے حساب سے ڈھائی نمبر آٹا فروخت کرنے کیلیے دبائو ڈال رہے ہیں۔انصر جاوید نے بتایا کہ دبائو بڑھانے کیلیے کمشنرکراچی کے عملے نے بدھ کوکراچی کی2 فلورملوں پر چھاپہ مارکر 2 ملازمین کو نہ صرف زدوکوب کیا بلکہ انھیں گرفتار بھی کرلیا ہے۔ اس کارروائی پر فلورملز مالکان نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے یکم اگست سے کراچی بھر کی فلورملیں غیرمعینہ مدت کیلیے بطوراحتجاج بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
یہ ہڑتال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کمشنرکراچی کی جانب سے معاملے کوخوش اسلوبی اور زمینی حقائق کے مطابق حل نہ کیا جائے گا۔ انصرجاوید نے بتایا کہ فلورملوں میں رونما ہونے والے ناخوشگوار واقعے کے تصفیے کے لیے کمشنرکراچی سے ملاقات بھی کی لیکن انکے سخت رویے اور غیرحقیقی موقف کی وجہ سے معاملہ حل نہ ہوسکا جس کے بعد ایسوسی ایشن نے ہنگامی اجلاس طلب کرکے غیر معینہ ہڑتال کا فیصلہ کیا۔انھوں نے بتایا کہ رواں سال پاکستان میں گندم کی بمپرپیداوار نہیں ہوئی بلکہ 2 کروڑ50 لاکھ ٹن کے لگائے گئے تخمینے سے4 فیصد کم گندم کی پیداوار ہوئی ہے جس کی وجہ سے اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں میں مستقل اضافے کا رجحان غالب ہے۔ نجی شعبے کی جانب سے ابتدائی طور پر3 لاکھ ٹن گندم کے درآمدی معاہدے بھی طے پاچکے ہیں۔
پاکستان فلورملز ایسوسی ایشن سندھ سرکل کے چیئرمین چوہدری انصرجاوید نے بدھ کو''ایکسپریس'' کو بتایا کہ کمشنر کراچی اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ اوپن مارکیٹ میں گندم35.50 روپے فی کلوگرام کے حساب سے تھوک پر فروخت ہورہی ہے لیکن اس حقیقت کے باوجود وہ فلورمل مالکان کو33 روپے فی کلوگرام کے حساب سے ڈھائی نمبر آٹا فروخت کرنے کیلیے دبائو ڈال رہے ہیں۔انصر جاوید نے بتایا کہ دبائو بڑھانے کیلیے کمشنرکراچی کے عملے نے بدھ کوکراچی کی2 فلورملوں پر چھاپہ مارکر 2 ملازمین کو نہ صرف زدوکوب کیا بلکہ انھیں گرفتار بھی کرلیا ہے۔ اس کارروائی پر فلورملز مالکان نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے یکم اگست سے کراچی بھر کی فلورملیں غیرمعینہ مدت کیلیے بطوراحتجاج بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
یہ ہڑتال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کمشنرکراچی کی جانب سے معاملے کوخوش اسلوبی اور زمینی حقائق کے مطابق حل نہ کیا جائے گا۔ انصرجاوید نے بتایا کہ فلورملوں میں رونما ہونے والے ناخوشگوار واقعے کے تصفیے کے لیے کمشنرکراچی سے ملاقات بھی کی لیکن انکے سخت رویے اور غیرحقیقی موقف کی وجہ سے معاملہ حل نہ ہوسکا جس کے بعد ایسوسی ایشن نے ہنگامی اجلاس طلب کرکے غیر معینہ ہڑتال کا فیصلہ کیا۔انھوں نے بتایا کہ رواں سال پاکستان میں گندم کی بمپرپیداوار نہیں ہوئی بلکہ 2 کروڑ50 لاکھ ٹن کے لگائے گئے تخمینے سے4 فیصد کم گندم کی پیداوار ہوئی ہے جس کی وجہ سے اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں میں مستقل اضافے کا رجحان غالب ہے۔ نجی شعبے کی جانب سے ابتدائی طور پر3 لاکھ ٹن گندم کے درآمدی معاہدے بھی طے پاچکے ہیں۔