قومی توانائی پالیسی کی منظوری

پاکستان میں توانائی کے بحران نے ملکی معیشت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے پریس بریفنگ میں نئی توانائی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ فرنس آئل پر چلنے والے بجلی گھروں کو کوئلے پر منتقل کیا جائے گا۔ فوٹو: این این آئی

ملک میں توانائی کے بحران کو حل کرنے کے لیے بدھ کو وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں نئی قومی توانائی پالیسی کی منظوری دی گئی۔ اس پالیسی کے تحت آیندہ تین سے چار سال کے دوران پاکستان اپنی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہوجائے گا اور 2017ء تک لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے بھی شرکت کی۔نئی حکومت کی یہ اہم پیش رفت ہے کہ چاروں صوبے توانائی پالیسی پر متفق ہوگئے۔

پاکستان میں توانائی کے بحران نے ملکی معیشت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے' معاشی بدحالی کے منفی اثر نے بڑے بڑے سرکاری اداروں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے اور اس وقت وہ بھی خسارے میں جارہے ہیں۔ نئی حکومت نے برسراقتدار آتے ہی ملک کو ترقی دینے اور خسارے میں جانے والے سرکاری اداروں کو نفع بخش بنانے کا اعلان کیا مگر ترقی و خوشحالی کے اس سفر میں سب سے بڑی رکاوٹ توانائی کا بحران ہے جب تک اس بحران کو حل نہیں کیا جاتا تب تک ترقی کا کوئی بھی حکومتی منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا۔ اسی حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے چاروں صوبائی حکومتوں کے تعاون سے نئی قومی پاور پالیسی کی منظوری دی ہے۔ توانائی بحران پر جلد از جلد قابو پانے کے لیے حکومت کی فوری ترجیح کوئلے سے بجلی پیدا کرنا ہے۔ آیندہ تین برسوں میں کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے لگا کر 7 ہزار میگاواٹ بجلی حاصل کی جائے گی۔

وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے پریس بریفنگ میں نئی توانائی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ فرنس آئل پر چلنے والے بجلی گھروں کو کوئلے پر منتقل کیا جائے گا۔ چونکہ فرنس آئل کی قیمتوں میں اضافے سے بجلی کی پیداواری قیمت بھی بڑھ جاتی اور حکومتی خزانے پر اضافی بوجھ بڑھتا ہے جسے کم کرنے کے لیے بجلی کی قیمت میں اضافہ کر کے اسے عوام پر منتقل کر دیا جاتا ہے جس سے ملک میں مہنگائی کی نئی لہر دوڑ جاتی ہے ،اس طرح حکومت کے خلاف عوامی احتجاج اور اشتعال میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ چونکہ پاکستان میں کوئلے کے وسیع ذخائر موجود ہیں اس لیے فرنس آئل پر چلنے والے بجلی گھروں کو کوئلے پر منتقل کرنے سے وافر سستی بجلی پیدا ہو گی۔ توانائی کے بحران میں بجلی اور گیس چوری کے عنصر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے اس غیرقانونی فعل کی روک تھام کے لیے یوٹیلٹی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت بجلی اور گیس چوروں کو سخت سزا دی جائے گی۔


حکومت نے جہاں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی خوشخبری سنائی وہاں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی خبر سنا کر عوام کی مالی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے کہا کہ تجارتی اور صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی نئی قیمت کا اطلاق یکم اگست جب کہ گھریلو صارفین کے لیے یکم اکتوبر سے ہو گا۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ قیمتوں میں ردوبدل نہ کیا گیا تو آیندہ سال 600 سے 700 ارب روپے تک کے گردشی قرضے کا مسئلہ دوبارہ پیدا ہو سکتا ہے جب کہ حکومت نے 480 ارب روپے کا گردشی قرضہ ادا کیا ہے۔گردشی قرضوں کی لعنت بھی ماضی کی غلطیوں کا نتیجہ ہے، اب یہ قرضے حکومت کے لیے وبال جاں بن چکے ہیں، بہتر تو یہ تھا کہ وفاقی حکومت اپنے غیرترقیاتی اخراجات میں کمی کرکے ریونیو حاصل کرتی تاکہ بجلی کے نرخ بڑھا کر عوام کی مشکلات میں اضافہ نہ ہوتا۔

انھوں نے کہا کہ ملک بھر میں تمام مارکیٹیں ایک وقت میں بند کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا اور صوبوں کی مشاورت سے مارکیٹوں کے وقت کا تعین کیا جائے گا۔ سابق حکومت نے بھی بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے مارکیٹوں کو رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر اس کے کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے اور کاروباری حلقوں کی جانب سے شدید احتجاج پر یہ منصوبہ ناکام ثابت ہوا۔ ملک بھر میں مارکیٹوں کو ایک وقت میں بند کرنے کا فیصلہ صائب ہے مگر وقت کا تعین ایسا ہونا چاہیے جس سے کاروبار پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں اور کاروباری طبقہ خوش دلی سے اس فیصلے کو قبول کرلے۔ ہمارے ہاں ایک تو بجلی کی لوڈشیڈنگ ہے تو دوسری جانب گرم خطہ ہونے کے سبب کاروباری سرگرمیوں میں تیزی شام کے وقت آتی ہے۔ علاوہ ازیں مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف نے تمام شرکاء سے کہا کہ ملک اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے اور تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنی صفوں میں نظم و ضبط اور اتحاد قائم کریں۔

یہ خوش آیند امر ہے کہ نئی مرکزی حکومت نے دیگر سیاسی جماعتوں سے مخالفت کے بجائے مصالحت کی پالیسی اپنائی ہے تاکہ ملک میں کسی قسم کا سیاسی تنائو اور کشیدگی پیدا نہ ہو۔ اجلاس میں وزرائے اعلیٰ سندھ' خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے اعتراضات اور مطالبات پر وزیراعظم نے درست موقف اختیار کرتے ہوئے انھیں ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت ہر صوبے کے مینڈیٹ کا احترام کرتی اور چاروں صوبوں کو یکساں اہمیت دیتی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کی مصالحانہ پالیسی کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے' مرکزی اور صوبائی سطح پر پیدا ہونے والے تمام مسائل اور مشکلات کو مذاکرات اور باہمی افہام و تفہیم سے حل کر لیا جائے گا جس سے ملک میں ترقی و خوشحالی کا نیا دور شروع ہو گا۔
Load Next Story