پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں پھر اضافہ

ادھر روپے کے مقابلے میں ڈالر کی شرح تبادلہ میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے.

کیا یہ پٹرول پمپ والوں کی اضافی آمدنی کے لیے کیا گیا ہے جس کا کوئی آڈٹ بھی نہیں ہو سکتا۔ فوٹو: کریٹیو کامنز/فائل

حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ساڑھے پانچ روپے فی لیٹر تک اضافہ کر دیا ہے۔ یوں عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی سے پیدا ہونے والے خسارے کا تمام تربوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے۔ اوگرا کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت 3.73 روپے فی لیٹر اضافے کے ساتھ101.77 روپے سے بڑھ کر 104.50روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اسی طرح دیگر تمام پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی روپوں کے ساتھ پیسوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے حالانکہ اس حقیقت سے ہر کوئی آگاہ ہے کہ ملک میں اس وقت ایک روپے سے چھوٹا اور کوئی پیسہ ہی نہیں ہے تو ایسی صورت میں پیسوں میں قیمت بڑھانے میں آخر کیا مصلحت ہے؟


کیا یہ پٹرول پمپ والوں کی اضافی آمدنی کے لیے کیا گیا ہے جس کا کوئی آڈٹ بھی نہیں ہو سکتا۔ یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ بیشتر پٹرول پمپ والوں کے میٹر بھی درست نہیں ہوتے اور یوں صارفین کو دہرا خسارہ برداشت کرنا پڑتا ہے جس کی ارباب بست و کشاد کو کوئی پروا نہیں اور نہ اس بات کا کوئی خیال ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے جملہ اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں بے محابہ اضافہ ہو جاتا ہے جس پر نظر رکھنے کا بھی سرکار کی طرف سے کوئی انتظام نہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پٹرول' ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمت سو روپے سے بڑھ چکی ہے۔

ادھر روپے کے مقابلے میں ڈالر کی شرح تبادلہ میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے' بجلی بھی مہنگی ہو رہی ہے' ان عوامل نے مل کر افراط زر اور مہنگائی کے گراف کو بہت بلند کر دیا ہے۔ یوں متوسط طبقے کی مشکلات میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ غریب آدمی تو پہلے ہی دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہا تھا اور اب متوسط طبقے کی جیب پر بھی مالی بوجھ اس کی استطاعت سے بڑھ گیا ہے۔ حکومت کو ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے انرجی کی قیمتوں میں استحکام لانا چاہیے تاکہ مہنگائی کی رفتار کو بریک لگائی جا سکے۔
Load Next Story