نئی حکومت آنے سے کاروباری طبقے کی سوچ بدل گئی سروے
اگست2012میں منفی34فیصد کے مقابل گزشتہ ماہ تاثرات 2 فیصد مثبت رہے
او آئی سی سی آئی کے صدرکمھیڈے اینڈونے کہا کہ سرمایہ کاروں کے مطابق موجودہ کاروبار دوست حکومت معیشت کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اورسیز انوسٹرز چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کی جانب سے کرائے گئے سروے میں کاروباری طبقے کی سوچ میں نمایاں مثبت تاثرات سامنے آئے ہیں اور اگست 2012 کے منفی 34فیصد کے مقابلے میں جولائی 2013 میں پاکستانی کاروباری طبقہ 2فیصد مثبت تاثرات کا حامل ہے۔
اوورسیز چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ساتویں Wave Business Confidence Survey میں پورے ملک سے کاروبار کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے اور ملکی جی ڈی پی میں 80فیصد کنٹری بیوشن کرنے والے سرمایہ کاروں کے تاثرات کا جائزہ لیا گیا جس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ سرمایہ کار خاص طورپر بیرونی سرمایہ کار مسلم لیگ نواز کی حکومت کو بزنس فرینڈلی سمجھتے ہیں اور اس کے متعلق مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ او آئی سی سی آئی کے صدرکمھیڈے اینڈونے کہا کہ سرمایہ کاروں کے مطابق موجودہ کاروبار دوست حکومت معیشت کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور معیشت کے معاملات کی بہتر سمجھ بوجھ کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کار خصوصی طور پر مثبت حالات کی توقع کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افراط زر کا جولائی 2012کے 10.8فیصد سے جون 2013 میں 7.4فیصد رہنا بھی سرمایہ کاروں کے لیے ایک مثبت نشان ہے۔ سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ سیکٹر کے تاثرات منفی 37فیصد سے مثبت 4فیصد ہوگئے ہیں جبکہ ریٹیل سیکٹر منفی 48فیصد سے مثبت 6فیصد رہا جبکہ سروسز سیکٹر منفی 17فیصد سے مثبت 5فیصد ہو گیا ہے، موجودہ حکومت اور کاروباری ماحول کے متعلق مثبت تاثرات کی اہم وجہ سرمایہ کاروں کا اعتماد ہے کہ موجودہ حکومت گورننس کو بہتر بنائے گی لوڈ شیڈنگ اور دہشت گردی پر قابو پائے گی جن کی وجہ سے معیشت بدحالی کا شکار ہے۔ سروے میں 60فیصد سرمایہ کاروں نے حکومت پر اعتماد کا اظہار کیا کہ وہ پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکیوریٹی کو بہتر بنائے گی۔
جبکہ کراچی کے سرمایہ کاروں کو زیادہ بہتری کی امید نہیں ہے،40فیصد کاروباری طبقہ براہ راست بیرونی سرمایہ کاری سے متعلق نہایت مثبت تاثرات رکھتا ہے او ر موجودہ مالی سال میں تقریباً3ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری کی توقع رکھتا ہے،48فیصد کاروبای طبقہ اپنی سرمایہ کاری کو آئندہ 6ماہ میں بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے جس کی بنیادی وجہ سیلز اور منافع بڑھنے کی امید ہے۔ او آئی سی سی آئی کے سروے کے نتائج موجودہ حکومت کے لیے ایک اہم موقع ہے کہ وہ موجودہ مثبت تاثرات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے معیشت کو بہتر بنانے کے لیے کام کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری سے ملک کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔
اوورسیز چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ساتویں Wave Business Confidence Survey میں پورے ملک سے کاروبار کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے اور ملکی جی ڈی پی میں 80فیصد کنٹری بیوشن کرنے والے سرمایہ کاروں کے تاثرات کا جائزہ لیا گیا جس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ سرمایہ کار خاص طورپر بیرونی سرمایہ کار مسلم لیگ نواز کی حکومت کو بزنس فرینڈلی سمجھتے ہیں اور اس کے متعلق مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ او آئی سی سی آئی کے صدرکمھیڈے اینڈونے کہا کہ سرمایہ کاروں کے مطابق موجودہ کاروبار دوست حکومت معیشت کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور معیشت کے معاملات کی بہتر سمجھ بوجھ کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کار خصوصی طور پر مثبت حالات کی توقع کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افراط زر کا جولائی 2012کے 10.8فیصد سے جون 2013 میں 7.4فیصد رہنا بھی سرمایہ کاروں کے لیے ایک مثبت نشان ہے۔ سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ سیکٹر کے تاثرات منفی 37فیصد سے مثبت 4فیصد ہوگئے ہیں جبکہ ریٹیل سیکٹر منفی 48فیصد سے مثبت 6فیصد رہا جبکہ سروسز سیکٹر منفی 17فیصد سے مثبت 5فیصد ہو گیا ہے، موجودہ حکومت اور کاروباری ماحول کے متعلق مثبت تاثرات کی اہم وجہ سرمایہ کاروں کا اعتماد ہے کہ موجودہ حکومت گورننس کو بہتر بنائے گی لوڈ شیڈنگ اور دہشت گردی پر قابو پائے گی جن کی وجہ سے معیشت بدحالی کا شکار ہے۔ سروے میں 60فیصد سرمایہ کاروں نے حکومت پر اعتماد کا اظہار کیا کہ وہ پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکیوریٹی کو بہتر بنائے گی۔
جبکہ کراچی کے سرمایہ کاروں کو زیادہ بہتری کی امید نہیں ہے،40فیصد کاروباری طبقہ براہ راست بیرونی سرمایہ کاری سے متعلق نہایت مثبت تاثرات رکھتا ہے او ر موجودہ مالی سال میں تقریباً3ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری کی توقع رکھتا ہے،48فیصد کاروبای طبقہ اپنی سرمایہ کاری کو آئندہ 6ماہ میں بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے جس کی بنیادی وجہ سیلز اور منافع بڑھنے کی امید ہے۔ او آئی سی سی آئی کے سروے کے نتائج موجودہ حکومت کے لیے ایک اہم موقع ہے کہ وہ موجودہ مثبت تاثرات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے معیشت کو بہتر بنانے کے لیے کام کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری سے ملک کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔