حکومت ڈاؤ یونیورسٹی سے سانپ کے کاٹے کی 5 ہزار ویکسین لے گی

ویکسین کی قیمت 600 روپے ہے ، درآمدی ویکسین 1600 روپے کی اور غیر موثر تھیں ،ویکسین پاؤڈر فام میں ہے

ویکسین کی قیمت 600 روپے ہے ، درآمدی ویکسین 1600 روپے کی اور غیر موثر تھیں ،ویکسین پاؤڈر فام میں ہے۔ فوٹو: فائل

وفاقی حکومت نے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز سے سانپ کے کاٹے کے علاج کی ویکسین طلب کرلی ڈاؤیونیورسٹی نے وفاقی حکومت کو سانپ کے کاٹے کے ویکسین کی فراہمی کی پیشکش کی تھی۔

وفاقی حکومت نے ڈاؤ یونیورسٹی کے مکتوب کا مثبت جواب دیتے ہوئے یونیورسٹی سے فوری طور سے سانپ کے کاٹے کے علاج میں استعمال کی جانے والی 5 ہزار ویکسین طلب کی ہیں، ویکسین اگست کے آخر تک فراہم کردی جائیگی، ویکسین ڈاؤ یونیورسٹی کے اوجھا کیمپس میں سیرو بائیولوجی لیبارٹری میں تیارکی گئی ہے جو اب مارکیٹ کی جارہی ہے،سانپ کے کاٹنے سے متاثرہ افراد کواس ویکسین کے صرف 2 انجکشن لگائے جائیں گے جس سے متاثرہ افرادکی زندگی بچائی جاسکے گی۔




ڈاؤیونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر مسعود حمید خان نے بتایا کہ ڈاؤ یونیورسٹی نے سانپ کے کاٹے کے علاج میں استعمال کی جانے والی ویکسین کے بعد کتے کے کاٹے کے علاج کی اینٹی ریبیز ویکسین اور اینٹی باڈیزویکسین کی تیاری شروع کردی ہے،ویکسین ملک میں پائے جانے والے مختلف سانپوںکے زہر سے تیار کی گئی ہے، پاکستان میں سانپ کے کاٹے کے علاج کی ویکسین سعودی عرب، بھارت اور دیگر ممالک سے منگوائی جاتی تھی جوغیر موثر ثابت ہورہی تھی تاہم ڈاؤ یونیورسٹی نے اپنی مدد آپ کے تحت پہلے مرحلے میں سانپ کے کاٹے کے علاج کی ویکسین پر کامیاب تجربہ کیا اوراب یونیورسٹی ویکسین کے پروڈکشن کے مرحلے میں ہے۔

ویکسین کی قیمت 600 روپے ہے جبکہ بیرون ممالک سے درآمدکی جانے والی ویکسین کی قیمت 1600 روپے تھی جس کے متاثرہ افراد کو 5 انجکشن لگائے جاتے تھے،ویکسین پاؤڈر فام میں ہے تاکہ اس کی افادیت زیادہ عرصے تک برقرار رہے، پہلا آڈر 5 ہزار ویکسین کی سپلائی کا یونیورسٹی کا ملا ہے۔
Load Next Story